ڈسپوزایبل محبت
کیا کریں ہمیں
ایک تومحبت ہو جاتی ہے۔
وہ بھی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔
ہر راہ پر ہر موڑ پر
ہر ایک سے ہوجاتی ہے۔
چند لوگوں سے تو
خاص ہی ہوتی ہے
اور کسی
ایک سے تو یکتا ہوتی ہے۔
اور بہت گہری ہوجاتی ہے۔
ستم یہ کہ دیر پا ہوجاتی ہے۔
اور پھر ہمیں اس محبت پر بہت ہی حیرت ہوتی ہے۔
یوں اس حیرت کے
بے کراں سمندر میں ہماری محبت
ری سائیکل ہوکر
بخارات میں بدل کر
پھر بارش بن کر لوٹ آتی ہے۔
ہم نے بہت کوشش کی محبت کی تکرار سے باز رہنے کی،
مگر
کیا کریں ہم اس بار بار امڈتی محبت کا؟
کاش کہ ہماری محبت
ڈسپوز ایبل پلیٹ ہوتی
اسے پھینک نہ دیتے۔؟
محبت بات بات پر نہ ہوتی۔
گر ہمیں محبت کی عادت نہ ہوتی۔
لیکن محبت بار بار ہوگی۔
ہمیں تو یونہی ہوگی۔
بے حد ہوگی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں