ڈسپوزایبل محبت….صادقہ نصیر

ڈسپوزایبل محبت
کیا کریں ہمیں
ایک تومحبت ہو جاتی ہے۔
وہ بھی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔
ہر راہ پر ہر موڑ پر
ہر ایک سے ہوجاتی ہے۔
چند لوگوں سے تو
خاص ہی ہوتی ہے
اور کسی
ایک سے تو یکتا ہوتی ہے۔
اور بہت گہری ہوجاتی ہے۔
ستم یہ کہ دیر پا ہوجاتی ہے۔
اور پھر ہمیں اس محبت پر بہت ہی حیرت ہوتی ہے۔
یوں اس حیرت کے
بے کراں سمندر میں ہماری محبت
ری سائیکل ہوکر
بخارات میں بدل کر
پھر بارش بن کر لوٹ آتی ہے۔
ہم نے بہت کوشش کی محبت کی تکرار سے باز رہنے کی،
مگر
کیا کریں ہم اس بار بار امڈتی محبت کا؟
کاش کہ ہماری محبت
ڈسپوز ایبل پلیٹ ہوتی
اسے پھینک نہ دیتے۔؟
محبت بات بات پر نہ ہوتی۔
گر ہمیں محبت کی عادت نہ ہوتی۔
لیکن محبت بار بار ہوگی۔
ہمیں تو یونہی ہوگی۔
بے حد ہوگی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply