اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو فرد کی باطنی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ظاہری ترتیب کو بھی منضبط کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد جس اصول پر قائم ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کی کوئی عبادت، کوئی عمل، اور کوئی مذہبی جوش کسی دوسرے انسان کے لیے اذیت، پریشانی یا اضطراب کا سبب نہ بنے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمارے ہاں دینداری اور بدذوقی کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے کامل مسلمان کی تعریف ہی یہ بیان فرمائی کہ “وہ شخص جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔” یہ حفاظت صرف جسمانی اذیت تک محدود نہیں، بلکہ ذہنی کوفت، سماعتی تکلیف اور اعصابی پریشانی بھی اسی دائرے میں آتی ہے۔ پڑوسی کو ایذا پہنچانا، خواہ وہ عبادت کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، اسلامی اخلاق کی صریح نفی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں لاؤڈ اسپیکر ایک معمولی آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک مستقل سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ مسجد ہو، جلسہ گاہ ہو یا شادی ہال، آواز کو ضرورت سے کئی گنا زیادہ پھیلا دینا جیسے دینداری یا خوشی کی شرط بن چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بیمار، طالب علم، بزرگ، خواتین اور حتیٰ کہ عبادت گزار بھی یکسوئی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
لاؤڈ اسپیکر بذاتِ خود نہ حرام ہے نہ مقدس، یہ محض ایک آلہ ہے۔ مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب یہ آلہ برصغیر میں آیا تو سب سے پہلے علما نے ہی اس پر سنجیدہ غور کیا۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ابتدا میں اس کے استعمال پر سخت تحفظات ظاہر کیے، حتیٰ کہ لاؤڈ اسپیکر پر ادا کی گئی نماز کو معتبر نہ سمجھا،اگر چہ اس وقت بھی مولانا مودودی نے اس کے جواز پر ایک عمل مقالہ لکھا لیکن عمومی طور پر تب رواج پا گیا جب مفتی محمد شفیعؒ نے اس موقف میں ترمیم کر کے اس کے جواز پر فتوی دیا ۔
یوں فقہی سطح پر یہ مسئلہ حل ہو گیا کہ لاؤڈ اسپیکر سے نماز فاسد نہیں ہوتی، مگر اس کے ساتھ ہی ایک نیا اور زیادہ خطرناک مسئلہ پیدا ہوا، یعنی بے جا، غیر ضروری اور اذیت ناک استعمال۔ شریعت نے کسی آلے کے جائز ہونے کو اس کے ہر استعمال کی اجازت نہیں بنایا، بلکہ ہر جائز چیز بھی اگر ایذا کا ذریعہ بن جائے تو ناجائز ہو جاتی ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ایذا رسانی کی بے شمار صورتوں میں ایک نہایت تکلیف دہ صورت لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال ہے۔ اذان کے لیے آواز کا دور تک پہنچنا مقصود ہے، مگر وعظ، درس، تراویح اور نعت کے لیے آواز کو محلے، بازار اور گھروں تک پھیلا دینا شریعت میں کسی طور درست نہیں۔
اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ حساسیت کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے گھر کے سامنے بلند آواز سے وعظ کرنے والے واعظ کی شکایت حضرت عمرؓ تک پہنچائی، اور خلیفۂ وقت نے نہ صرف اسے روکا بلکہ تعزیری سزا بھی دی۔ یہاں مسئلہ وعظ کا نہیں، آواز کی زیادتی کا تھا، اور یہی اسلامی معاشرت کا اصل حسن ہے۔
خود رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل اس باب میں نہایت واضح ہے۔ تہجد جیسی عظیم عبادت کے وقت بھی آپ ﷺ آواز پست رکھتے، دروازہ آہستگی سے کھولتے، تاکہ کسی کی نیند خراب نہ ہو۔ حضرت عمرؓ کو بھی بلند آواز سے تلاوت پر یہی ہدایت دی گئی کہ آواز کچھ کم کر دی جائے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ عبادت میں حسن، شور سے نہیں، لحاظ سے پیدا ہوتا ہے۔
آج ہمارے شہروں میں صورتِ حال یہ ہے کہ قریبی مساجد کی آوازیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، نمازی الجھن میں پڑ جاتے ہیں، حتیٰ کہ رکوع و سجدہ میں غلطی ہو جاتی ہے۔ فقہا نے واضح لکھا ہے کہ ایسی تشویش پیدا کرنا صریح حرام ہے، اور اس کا وبال ان سب پر ہوگا جو اس کا سبب بنتے ہیں۔
رمضان میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر سحری اور تہجد کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر تلاوت یا ریکارڈنگ چلا دی جاتی ہے، جس سے نہ صرف مریض اور بزرگ متاثر ہوتے ہیں بلکہ گھروں میں عبادت کرنے والوں کی یکسوئی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سجدۂ تلاوت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جن کا بوجھ سنانے والوں پر آتا ہے۔
یہ کہنا کہ “ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں” اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب اسی خدمت کے نتیجے میں لوگ دین سے بدظن ہوں۔ غیر مسلم پڑوسی ہوں یا عام مسلمان، جب انہیں اسلام شور، جبر اور بے آرامی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے تو یہ دعوت نہیں، دفع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بجلی نہ ہو یا مائیک خراب ہو، تو یہی خطبات اور نمازیں مختصر ہو جاتی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ عبادت نہیں، بلکہ اظہار اور نمائش ہے۔ حالانکہ قرآن و سنت نے بار بار خبردار کیا ہے کہ ریا عبادت کو کھا جاتی ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک مکتبِ فکر کا نہیں۔ ماہنامہ البلاغ میں شائع ہونے والا متفقہ فتویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام مکاتبِ فکر اس پر متفق ہیں کہ اذان کے علاوہ بیرونی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بلا ضرورت ناجائز ہے۔ اختلاف صرف ہماری عملی روش میں ہے، فہم میں نہیں۔
اب جبکہ رمضان قریب ہے، یہ وقت ہے کہ ہم اپنی دینداری کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ عبادت زیادہ کریں، مگر اس طرح کہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ آواز کو ضرورت تک محدود رکھیں، کیونکہ اسلام کا حسن خاموش احترام میں ہے، شوریدہ اظہار میں نہیں۔ اگر ہم نے اس اصول کو سمجھ لیا تو ہمارا معاشرہ واقعی رحمت کا نمونہ بن سکتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں