یوں تو ہنستی مسکراتی ماں کی شخصیت اور اس کی محبت اولاد کو ورثے میں منتقل ہو کر اس کی صحتمند پرداخت کرتی ہے مگر جہاں کہیں پدرسری ٹائپ معاشرے میں اولاد ماں کو مظلوم دیکھتی ہے اس کے ہاں کے بغاوت جنم لیتی ہے اور اس کا اظہار مختلف پیرایوں میں ہوتا آیا ہے۔کہیں اولاد گھر سے فرار ہو جاتی ہے اور کہیں جابر باپ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتی ہے۔والدین کی باہمی محبت اولاد کی شخصیت میں انتہائی مثبت اثرات کی ترسیل کرتی ہے۔سٹالن سیاسی طور پر بھی ظالم تھا اور اس کے اہلِ خانہ بھی اس کے ناروا جبر کا شکار تھے۔کہا جاتا ہے کہ ان کی بیگم نے سولہ سال کی عمر میں ہی خودکشی کر لی تھی۔ اس کا منفی اثر ان کی اکلوتی اولاد سوِئٹ لانا کے کرب میں متشکل ہوا۔اس نے پہلے تو بھارت میں امریکا کے سفارت خانے میں پناہ لی بعد ازاں ہمیشہ کے لیے امریکا منتقل ہو گئی اور ” دوست کے نام بیس خطوط “نامی کتاب تحریر کی۔
عالمی ادب میں ماں کے حوالے سے کتب موجود ہیں۔ ہماری مادری زبان پنجابی میں ماں کا تصور بہت قدیم سہی اور ماں کو مخاطب کر کے اپنے دکھ درد کے اظہار کی بہت مثالیں سہی مگر ماں سے مکالمے پر پہلی کتاب صابر ظفر کی ”میں کلا نی مائے“ ہے۔صابر ظفر سئنیر شاعر ہیں۔وہ بنیادی طور پر دولت پور تحصیل پسرور کے رہنے والے ہیں مگر ان کی پیدائش کہوٹہ کی ہے۔
جمیا وچ کہوٹہ/ جسراں کوئی بوٹا
/چنگی طراں نہ اگیا/فیر سکیا نی مائے
چہور، ظفر وال اور کئی اور مقامات کو اس نے اسی شعری تخلیق میں میں بارِ دگر زندہ کیا ہے۔
وہ کچھ عرصہ سانگلہ ہل میں رہے۔بعد میں ظفروال سے میٹرک کیا۔ملازمت کے سلسلے میں مظفر گڑھ، کوئٹہ اور لاہور میں بھی رہے۔ظفروال کی نسبت سے ہی صابر ظفر سے ہمارا پہلا تعارف ہوا۔
میں نے اوڑھی ہے ترے پیار کی اجرک ایسی
اب تجھے چھوڑ کے پنجاب نہیں جا سکتا
مختلف جگہوں پر قیام کا ذکر ان کی شاعری میں بار بار ظہور کرتا ہے۔ وہ عرصہ دراز سے کراچی منتقل ہو چکے ہیں۔دو ہزار دس میں انہیں تمغہ ِحسن ِکارکردگی سے نوازا گیا۔اب تک ان کی غزلوں کے ستاون مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور ابھی ان کی تخلیقیت میں ایسا دم خم ہے کہ ان کے پانچ سات مجموعہ ہائے کلام اور بھی آ سکتے ہیں۔
”میں کلا نی مائے“ ان کی مادری زبان پنجابی میں ہے۔کافی عرصہ اردو دانوں کے نرغے میں رہ کر بھی انہوں نے پنجابی مادری زبان کا سرور ہاتھ سے جانے نہیں دیا
پنڈیوں لتھی لوئی/یاد نہیں ہن کوئی/کہڑے کہڑے پنڈاں/میں رلیا نی مائے
لوڑ بڑی سی تیری/رڑھ گئی بیڑی میری /پار نہ ہویا میتھوں /شوہ دریا نی مائے
ستا فقر قدیمی/جگ اٹھیا نی مائے/در چھڈیا دنیا دا/بھن ٹھوٹھا نی مائے
تیری گودی چھٹی/دنیا ساری چھٹی /اج گواچا فیر میں /نہ لبھیا نی مائے
تیرا پت اخیری/ساہ لیندا نی مائے/ساہواں دی کربل چوں/لاشہ چک نی مائے
یہ ایک مکمل سوانحی نظم ہے جہاں پنجاب کے دیہات کی ماں ازلی ظلم سہتی ہوئی اور حالات کے جبر کا شکار عورت کے روپ میں متجسم ہوئی ہے جس نے غربت اور ٹی بی کے مرض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہاری۔
نظم کا اپنا لوکیل ہے یہ مستعار فضا نہیں بلکہ متکلم نے اسے جھیلا ہے اور بسر کیا ہے۔اسے ناسٹلجیا کہنا بھی روا ہے اور روسو کا کنفیشن بھی ہے۔شاعر اپنے روبرو کھڑا ہے اور خود سے ہی سوال کرنے کی سولی پر ٹنگا ہوا ہے۔
یہ ہم سب کا المیہ ہے کہ معاشی جبر ہم لوگوں کو ماں باپ سے ہمیشہ کے جدا کر دیتا ہے۔ہم زندگی کی بھاگ دوڑ، روزگار، اپنی اولاد اور اپنے کبھی نہ پورے ہونے والے خوابوں کے پیچھے والدین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔یہی نفسیاتی روگ اور معاشرتی اور معاشی مسئلہ اس نظم کا موضوع ہے۔ نظم کے اپنے دشمن اور بھگت سنگھ جیسے اپنی مٹی سے جنم لینے والے ہیرو ہیں۔
اس طویل سوانحی نظم کا شاعر باطنی طور اب بھی پنجاب کے پنڈوں، کھیتوں اور بنوں پر مقیم ہے۔اس کی روح انہی علاقوں میں دیوانہ وار گھوم رہی ہے جہاں اس نے پہلی دفعہ آنکھ کھولی اور جہاں اس کا عسرت زدہ بچپن گزرا۔اس نظم کی لفظیات سے پتہ چلتا ہے شاعر اپنی جڑوں سے مکمل طور پر وابستہ ہے۔خالص پنجابی الفاظ نے تخلیق کے حسن کو دوبالا ہے اور شاعر نے اس تہذیب کے منظر نامے کو تصویر کر دیا ہے۔بھٹی، ولگن، ٹھوٹھا، چھج، جھجھر، وتر، کلر، ترنجن سرباہلا، کارا، بھانبھڑ، بھڑولہ اور گرجھ جیسے الفاظ اپنے اصلی سرچشمے سے جڑتے ہیں اور قاری کو مکمل طور پر سیراب کرتے ہیں۔
ماں پر منور رانا کی شاعری نے ماں کے صبر اور ایثار کو سمبل بنا دیا ہے اور اردو ادب کو لازوال اشعار دیے ہیں جیسے
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
اور اس طرح کے درجنوں اشعار ہیں۔عباس تابش نے کہا تھا
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
اور بھی ایسی تخلیقات ہوں گی مگر ماں کے موضوع پر پوری کتاب صابر ظفر کی” میں کلا نی مائے“ہے جو آج کل میں اشاعت پذیر ہونے والی ہے۔ایسی کتاب اس سے قبل ہمیں کہیں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
منور رانا نے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو ماں کے حوالے سے یوں بیان کیا ہے
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
Ocean Vuong
کی کہی ہوئی نظموں کی کتاب ” ماں ہی وقت ہے“ میں کہا تھا ” تمہارے جسم کا سب سے خوبصورت حصہ وہ جگہ ہے جہاں تمہاری ماں کا سایہ پڑتا ہے“ اور ہمارے شاعر کی کافی کا بند دیکھیں جو مذکورہ بالا سب شاعروں سے بازی لے گیا
گرجھاں آون جاون/لاش نہ کدرے کھاون/میری خالی قبرے /مٹی پا نی مائے
جیو صابر ظفر!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں