ادب ایک ایسی جگہ ہے، جس کا مرکزی استعارہ گھر کا ہے۔ادب، گھر کی مانند ’تعمیر ’ کیا جاتا ہے اور اس کی آرائش کی جاتی ہے۔
ہم یہاں قیام کرتے ہیں؛ رہتے بستے ہیں، اور ادب کو بسر کرتے ہیں۔ ادب کو سفر سے مفر نہیں ہے، مگر یہ سفر ،قیام کی خاطر کیا جاتا ہے، نہ کہ اس کے بر عکس۔ جس طرح گھر ہمیں یک جا کرتا ہے، ادب بھی ہمارے بکھرے وجود کو یک جا کرتا ہے۔
ہم گھر کی ایک ایک چیز، ایک ایک کونے ، کھڑکیوں ،دروازوں ،بالکونیوں، چھتوں،صحن ، کمروں کو باقاعدہ محسوس کرتے ہیں، یہاں سے باہر کی دنیا ، یعنی پرندوں ، ہواؤں، دھوپ ، بادل ، بارش، چاندنی سب کو خاص طرح سے محسوس کرتے ہیں، یعنی جس بے مہر کائنات سے تحفظ کی خاطر ہم نے گھر بنایا، اب اسی کائنات کے کچھ عناصر کو بالکل نجی سطح پر، گہرے دلی جوش یا افسردگی یا اداسی ورنج کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، اور ان سے مکالمہ کرتے ہیں۔
گھر ،ہمارے لیے پوری دنیا کا مطلب ومفہوم بدل دیتا ہے۔ گھر اگرچہ ،ایک بند اور محصور جگہ ہے،مگر یہ باہر سے لاتعلق نہیں ہے۔ باہر سے ،اس کی مسلسل گفت وشنید جاری رہتی ہے۔ کم وبیش یہی صورت، ادب کی بھی ہے۔ ادب ، بہ ظاہر ایک تخیلی چیز ہے۔ خود میں محصور ایک لفظی کائنات ہے، مگر یہ مسلسل باہر سے گفت وشنید میں مصروف رہتی ہے۔ گھر کی مانند، ادب میں برتا جانےو الا ایک ایک لفظ، قاری سے ، قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔
ادب کا ہر لفظ، روکتا ہے، دامن تھامتا ہے ،اور خیال واحساس کو اپنی جانب مرتکز کرتا ہے۔ قاری کو رہنے بسنے کا تجربہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ باقی ذہنی جگہوں یعنی علوم میں زبان ،معنی کے ابلاغ کے بعد، غیر اہم ہوجاتی ہے، مگر ادب میں زبان محض معنی کے ابلاغ کا مدعا نہیں رکھتی ، وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود ہو اکرتی ہے۔
معنی ،زبان کے وجو دکا ایک حصہ ہے۔ یوں سمجھیےمعنی ، باہر اور اندر کی جانب کھلنےو الی کھڑکی ہے۔جب کہ زبان کے پورے وجود میں گھر کی مانند دروازے، کمرے، کونے ، تاریک گوشے ، وہاں کی مجموعی تاریک وروشن فضا سب شامل ہے۔
ادب میں ہم چیزوں، لوگوں ، خیالات ، یادوں ، مصائب ، گرہوں، خوف، حسد، عشق، موت اور دوسری باتوں کو محض محسوس اور بسر نہیں کرتے، ان کے اندر،ان کی ممکنہ حدوں تک اترتے بھی ہیں۔
یوں بھی کسی شے کو بسر کرنے کامطلب، اس کو صَرف کرنا نہیں ہے،اسے ایک ہی ہلے میں نگل جانا نہیں ہے، بلکہ اس کو ہر رخ سے محسوس کرنا ہے، اس کے اندر اترتے جانا ہے، اس کی ممکنہ گہرائیوں تک ۔
اس کے مقامات واسرار کی دنیا کی سیر کرناہے؛خود کو اس کی سپردگی میں دے دینا ہے،اور اسے یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنی سب پرتیں ، تہیں ، اکناف واطراف ، اپنے دائرے ،قوسیں ، سب کچھ ہم پر منکشف کرے۔
گویا ا س کی کامل موجودگی کومحسوس کرنا ہے،اور اس دوران اس سے متعلق پہلے سے حاصل کیے گئے علم کو موقوف رکھنا ہے، نیز اپنے سلسلہ خیال کو بھی معطل رکھنا ہے۔ بسر کیے جانے کے لمحے میں،محض ایک خیال ، خواہ وہ اس شے ہی سے متعلق کیوں نہ ہو، تجربے کو منتشر کردیا کرتا ہے۔
(زیر تصنیف نئی تنقیدی کتاب سے مقتبس )
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں