سیاسی اور صحافتی مرکزیت/نصیب باچا یوسفزئی

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سیاست، ثقافت اور میڈیا کے تعلقات پیچیدہ اور گہرے ہیں۔ 6 فروری 2026 کو اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملے جیسے سنگین واقعہ کے باوجود، ملکی میڈیا کی توجہ لاہور میں منائے جانے والے بسنت کے تہوار پر مرکوز رہی۔ یہ صورتحال ہمیں بسنت جیسے تہوار کی اصل ثقافتی اہمیت سے آگے بڑھ کر لاہور کی سیاسی اور صحافتی مرکزیت کے مسئلے پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

بسنت ایک تاریخی ثقافتی تہوار ہے جو لاہور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان اور خاص کر پنجاب کی تاریخ میں بسنت کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں، مگر پچھلے دو دہائیوں میں اس پر پابندیاں لگائی گئیں۔ عدالتوں نے حفاظتی وجوہات اور مذہبی حساسیتوں کی بنا پر بسنت پر پابندی عائد کی، مگر گزشتہ کچھ سالوں میں محدود حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسے منانے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس قانونی کشمکش کے باوجود بسنت کی کوریج اور سیاسی توجہ کا مرکز لاہور ہی رہا، جس کی وجہ صرف اس تہوار کی ثقافتی اہمیت نہیں بلکہ لاہور کی پاکستان کی سیاست اور میڈیا میں مرکزیت ہے۔

لاہور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے، جہاں ملک کی نصف سے زائد آبادی مقیم ہے۔ پنجاب کے انتخابی حلقے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ہیں، اور سیاسی جماعتیں پنجاب میں کامیابی کے بغیر ملک کی حکومت بنانے کے خواب کو پورا نہیں سمجھتی۔ لہٰذا، لاہور میں سیاسی سرگرمیاں، ثقافتی تقریبات اور عوامی ردعمل پورے ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ مشہور بات “جس نے پنجاب جیتا، اس نے پاکستان جیتا” لاہور کی سیاسی اہمیت کو بخوبی بیان کرتی ہے۔

سیاسی جماعتیں اور حکومتیں چاہے کسی بھی پارٹی کی ہوں، لاہور پر اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہیں کیونکہ یہاں کی سیاسی صورتِ حال پورے پنجاب اور ملک کی سیاست کو متاثر کرتی ہے۔ لاہور کی سیاست، اس کے تعلیمی ادارے، صنعتی ترقی، اور ثقافتی میلوں کی بدولت میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت جیسے ثقافتی تہوار کی کوریج لاہور میں زیادہ ملتی ہے، جبکہ ملک کے دیگر خطوں کے ثقافتی اور سماجی مسائل کو کم کوریج اور سیاسی ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ سیاسی اور صحافتی مرکزیت پاکستان کے وفاقی نظام کے توازن کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں، قبائلی علاقوں اور دیگر صوبوں کو برابر کی سیاسی نمائندگی اور میڈیا کوریج نہیں ملتی، جو قومی اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے گھٹن ہے۔ لاہور کی سیاسی اور صحافتی مرکزیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ضروری ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی مساوی توجہ دی جائے تاکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سفر سب کے لیے یکساں ہو۔

بسنت کے سلسلے میں عدالتوں کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ عدالتوں نے اس تہوار کو مکمل پابندی سے روک کر عوامی سلامتی اور مذہبی ہم آہنگی کو مقدم رکھا، مگر ساتھ ہی حفاظتی اقدامات کے تحت محدود منانے کی اجازت دے کر ثقافتی ورثے کو زندہ رکھا۔ اس قانونی اور سماجی توازن کی مثال لاہور کی سیاسی اور میڈیا کی مرکزیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

julia rana solicitors

پاکستان کی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہم لاہور کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کے تمام صوبوں اور خطوں کی ثقافت، سیاست اور میڈیا نمائندگی کو برابر کی جگہ دیں۔ بسنت کا تہوار صرف لاہور کا ثقافتی جشن نہیں، بلکہ پاکستان کی وسیع تر سیاسی اور صحافتی حقیقتوں کا آئینہ دار بھی ہے۔

Facebook Comments

نصیب باچا یوسفزئی
نصیب بچہ یوسفزئی پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، محقق اور نوجوان لکھاری ہیں۔ آپ قانون، سیاست اور معاشرتی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں علمی و فکری پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ نوجوانوں کی فکری رہنمائی، سماجی شعور کی بیداری اور تعلیم کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ آپ کی دلچسپیوں میں قانونی تحقیق، سماجی تجزیہ، انسانی فلاح اور ادبی مطالعہ شامل ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply