• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لیڈر بننے کا سفر – فیصلہ سازی: قیادت کا عملی امتحان(4)-مصور خان

لیڈر بننے کا سفر – فیصلہ سازی: قیادت کا عملی امتحان(4)-مصور خان

لیڈر بننے کا سفر

فیصلہ سازی: قیادت کا عملی امتحان

julia rana solicitors london

قیادت کا اصل امتحان اس لمحے شروع ہوتا ہے جب لیڈر کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار نیت کو سنوارتا ہے اور دیانت اعتماد پیدا کرتی ہے، مگر فیصلہ سازی وہ مقام ہے جہاں یہ سب صفات عمل کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ غیر یقینی حالات، محدود معلومات، وقت کا دباؤ اور مختلف مفادات—یہ سب مل کر فیصلے کو مشکل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلہ سازی محض ذہانت نہیں بلکہ اخلاقی جرات، تحمل اور دوراندیشی کا تقاضا کرتی ہے۔
اچھا فیصلہ ہمیشہ مقبول نہیں ہوتا، مگر درست ہوتا ہے۔ لیڈر کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ وقتی داد اور طویل المدت فائدہ اکثر ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے رہنماؤں نے وہ فیصلے کیے جن پر ابتدا میں تنقید ہوئی، مگر وقت نے انہیں درست ثابت کیا۔ فیصلہ سازی میں تاخیر بھی ایک فیصلہ ہے— اس لیے قائد کی پہچان اس کی سرعت نہیں، اس کی سمت ہوتی ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں فیصلہ سازی کی ایک نمایاں خصوصیت مشاورت اور اصول تھے۔ آپ ﷺ نے اہم معاملات میں رائے لی، اختلاف سنا، مگر فیصلہ اصول کی بنیاد پر کیا۔ یہی توازن—مشاورت کے بعد حتمی ذمہ داری—قیادت کو مضبوط بناتا ہے۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد اس پر ثابت قدمی بھی فیصلہ سازی کا لازمی حصہ ہے۔
تاریخِ جدید میں ابراہم لنکن کی مثال فیصلہ سازی کے باب میں نمایاں ہے۔ خانہ جنگی کے دوران انہوں نے ایسے فیصلے کیے جو سیاسی طور پر خطرناک تھے، مگر اخلاقی طور پر ضروری۔ غلامی کے خاتمے کا فیصلہ فوری مقبولیت نہیں لایا، مگر ریاست کی روح کو بچا لیا۔ لنکن نے ثابت کیا کہ قیادت میں فیصلہ کبھی کبھی تنہائی میں کرنا پڑتا ہے۔
ایشیا میں لی کوان یو کی فیصلہ سازی نے سنگاپور کو ایک کمزور بندرگاہ سے مضبوط ریاست بنایا۔ ان کے فیصلے سخت تھے، مگر واضح اہداف، قانون کی بالادستی اور طویل المدت منصوبہ بندی پر مبنی تھے۔ انہوں نے جذبات کے بجائے ڈیٹا، اداروں اور نظم و ضبط کو ترجیح دی—اور اس کے مثبت فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
برصغیر میں قائداعظم محمد علی جناح کی فیصلہ سازی اصولی تھی۔ کمزور صحت اور شدید دباؤ کے باوجود انہوں نے آئینی راستہ، دلیل اور قانون کو نہیں چھوڑا۔ ان کے فیصلے اس بات کی مثال ہیں کہ جب بنیاد مضبوط ہو تو فیصلہ تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔
موثر فیصلہ سازی کے چند بنیادی اصول ہیں: مسئلے کی درست تشخیص، دستیاب معلومات کا غیر جانب دارانہ تجزیہ، مختلف امکانات کے نتائج پر غور، اور پھر واضح انتخاب۔ اس کے ساتھ ایک اخلاقی پیمانہ بھی ضروری ہے—کیا یہ فیصلہ انصاف، انسانی وقار اور اجتماعی مفاد کے مطابق ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو مخالفت کے باوجود قدم اٹھانا قیادت ہے۔
کمزور لیڈر فیصلہ ٹالتا ہے، درمیانہ لیڈر حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے، جبکہ مضبوط لیڈر حالات کو فیصلے کے مطابق ڈھالتا ہے۔ مگر یہ طاقت تبھی فائدہ دیتی ہے جب دیانتدار رہنما ہو اور انا پیچھے رہے۔ فیصلہ سازی میں انا داخل ہو جائے تو درست ترین معلومات بھی غلط نتیجہ دے دیتی ہیں۔
آج کے تیز رفتار دور میں فیصلے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ غلط فیصلہ اداروں کو کمزور اور درست فیصلہ قوموں کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ اسی لیے فیصلہ سازی محض ایک مہارت نہیں بلکہ قیادت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جو لیڈر فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی بعد میں اپنے فیصلوں کی جواب دہی بھی نبھا سکتا ہے—اور یہی سفر کی اگلی منزل ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply