ریاست ہنزہ نگر کے خلاف اس جنگ کے متعلق کرنل ڈیورنڈ اپنی مشہور تصنیف “دی میکنگ آف اے فرنٹیر” میں لکھتے ہیں کہ نومبر 1891ء تک صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی۔ وادیِ سندھ کے قبائل بونجی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور چترال کے شہزادے بھی سازشوں کے جال بننے میں مصروف تھے۔ ڈیورنڈ کو یہ کھٹکا لگا ہوا تھا کہ اگر ہنزہ میں ذرا سی بھی ناکامی ہوئی تو پوری سرحد بغاوت کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گی۔ اس سنگین خطرے کے پیشِ نظر اس نے پانچویں گورکھا دستوں اور ہزارہ ماؤنٹین بیٹری کی توپوں کو فوراً ‘چھلت’ منتقل کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی مسٹر سپیڈنگ کی سربراہی میں پٹھان مزدوروں کے ذریعے سڑک کی مرمت اور بہتری کا کام ہنگامی بنیادوں پر تیز کیا۔ اس سے قبل میجر گوکل اور ان کے انجینئرنگ دستوں کی شبانہ روز محنت سے نومل تک نئی سڑک تعمیر کی جا چکی تھی. بقول ای ایف نائٹ، برطانیہ کی فاروڑ پالیسی کے مدنظر منصوبہ بندی کے تحت ہی ایک انگلش کمپنی کو کشمیر سے گلگت تک سڑک بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جہاں تیس ہزار قلی کام کے لئے بھرتی کئے گئے تھے اور ان کے تنازعات نمٹانے کے لئے بقاعدہ مجسٹریٹ بھی مقرر کئے گئے تھے۔
29 نومبر 1891ء کو جب ڈیورنڈ نے ہنزہ کے حکمران صفدر علی خان اور نگر کے عذر خان کو حتمی ‘الٹی میٹم’ بھیجا، تو ہنزہ کے وزیر دادو خان نے جواب میں میان سے تلوار نکال کر امن کی ہر کوشش کو ٹھکرا دیا۔ چنانچہ ڈیورنڈ کے پاس جنگ کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تھا۔
بقول کرنل ڈیورنڈ مذاکرات میں ناکامی کے بعد انہوں نے فوراً چھلت کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ سہ پہر تین بجے کوچ کا بگل بجا اور شام تک ‘کشمیر باڈی گارڈ رجمنٹ’ کے دو سو مسلح جوان گورکھا اور ڈوگرہ اپنے راشن سمیت رسی کا پل پار کر چکے تھے۔ پل کی حالت اتنی بوسیدہ تھی کہ ایک وقت میں صرف چھ آدمی ہی اس پر سے گزر سکتے تھے۔ توپوں کو دریا پار کروانا ایک کٹھن مرحلہ تھا کیونکہ دریائے گلگت ایک سو پچاس گز چوڑا تھا اور اس کا بہاؤ نہایت تند و تیز تھا۔ خچروں کو تیرا کر پار لے جایا گیا جبکہ توپوں کی منتقلی کے لیے لکڑی کا ایک تختہ تیار کیا گیا۔ رات دو بجے تک دو توپیں بحفاظت دوسرے کنارے پہنچا دی گئیں۔ اسی اثناء میں ڈیورنڈ نے چند جانثاروں کو ہنزہ کے پل کاٹنے کے لیے روانہ کیا تاکہ عذر خان کی پیش قدمی روکی جا سکے۔
ہمارے جاسوسوں نے بتایا کہ ہنزہ کا راجہ ہم سے چھچار پڑی چھیننے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ ہمارے غلے کی ترسیل کاٹنا چاہتا ہے۔ چنانچہ تزویراتی لحاظ سے اہم مقامات پر قبضے کے لیے مقامی دستوں کی ایک مختصر جماعت کو ‘چھچار پڑی’ کی جانب بھیجا گیا۔ یہ چھلت کے قریب ایک نہایت دشوار گزار اور خطرناک چٹانی مقام تھا، جس کی اہمیت ہنزہ و نگر کے جنگجوؤں کے لیے کلیدی تھی۔ ایک بار جب یہ مقام ہمارے قبضے میں آگیا تو چھلت تک کا راستہ محفوظ ہو گیا۔
اس جنگی مہم کے کمانڈر ڈیورنڈ نے میجر گوکل کو حکم دیا کہ وہ ‘ہٹو پیر’ پر جاری کام ادھورا چھوڑ کر ہنگامی مارچ کریں۔ جب یہ دستہ ‘نومل’ پہنچا تو فوج کا جوش و خروش دیدنی تھا، جبکہ گلگت کا ڈوگرہ گورنر پریشانی کے عالم میں ہاتھ مل رہا تھا اور مسلسل تباہی کی پیش گوئیاں کر رہا تھا۔
نومل سے آگے بڑھتے ہوئے راجہ اکبر خان اور پنیال لیویز کے دستے بھی شاملِ لشکر ہو گئے۔ ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد فوج دوپہر کے وقت چھلت پہنچی۔ وہاں انگریزوں کے وفاداروں نے پہلے ہی پل کاٹ دیا تھا، جس کی وجہ سے فوج کی اچانک آمد نے دشمن کو ششدر کر دیا۔ ڈیورنڈ لکھتا ہے کہ نلت میں موجود عذر خان اس اچانک حرکت پر ہکا بکا رہ گیا۔ اگرچہ عذر خان جنگ کا حامی تھا، لیکن اس کا سن رسیدہ باپ اور کچھ مقامی عمائدین لڑائی کے حق میں نہ تھے۔ تیسرے دن توپیں بھی پہنچ گئیں، اگرچہ چھچار پڑی کے دشوار گزار راستوں سے خچروں کو تند و تیز لہروں میں تیرا کر لانا جان جوکھم کا کام تھا اور کئی سپاہی ڈوبتے ڈوبتے بچے۔ ان توپوں کی آمد نے ڈیورنڈ کی پوزیشن کو نہایت مستحکم کر دیا۔
ڈیورنڈ کے حکم پر چھلت سے گلگت تک تیس میل طویل بہترین سڑک تیار ہو چکی تھی اور چھلت کے قلعے کو پہلے سے تین گنا زیادہ مضبوط کر دیا گیا تھا۔ یوں ایک بھی گولی چلائے بغیر قبائلی حملوں کا راستہ مسدود کر دیا گیا۔
ڈیورنڈ لکھتا ہے: “میں نے پیش قدمی کے لیے نگر کے کنارے کا انتخاب کیا، اگرچہ اس میں میرے پیچھے ایک پل چھوڑنا شامل تھا جس کی حفاظت لازم تھی، کیونکہ دریائے ہنزہ کا بایاں کنارہ (نگر کی سمت) نقل و حرکت کے لیے سہل تھا۔ نلت کے قلعے تک رسائی ناگزیر تھی۔ ہنزہ کی جانب واقع ‘میون’ کا قلعہ اگرچہ نقشے پر چھلت سے اتنا ہی دور تھا جتنا نلت، مگر سڑک کے راستے وہ مسافت طویل تھی اور آخری حصہ عمودی چٹانوں کے نیچے سے گزرتا تھا۔ ان بلند چوٹیوں پر قبضے کے بغیر ان کے نیچے سے گزرنا خودکشی کے مترادف ہوتا۔”
وہ مزید لکھتے ہیں کہ “میں نلت کی مضبوط قلعہ بندی سے آگاہ تھا اور میرا ارادہ پہلے ہی دن اس پر دھاوا بولنے کا تھا، کیونکہ وہاں تک جانے والی سڑک دریا سے کئی سو فٹ بلندی پر بل کھاتی گزرتی تھی۔ قلعے کے قریب پانی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا، اور پانی کی دستیابی کے بغیر میں اپنی فوج کو وہاں ٹھہرا نہیں سکتا تھا۔”
سپیدۂ سحر کی پہلی کرن کے ساتھ ہی مختصر سی فوج صف آراء ہو گئی۔ جب میں نے ان جوانوں کو اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا تو مجھے ان کی مہارت اور عزم پر کامل یقین ہو گیا۔ میرے پاس کل ایک ہزار رائفلیں اور دو توپیں تھیں۔ اس فوج کی ریڑھ کی ہڈی ‘پانچویں گورکھا رجمنٹ’ کے ایک سو اسی جوان تھے،ان کے علاوہ کشمیر باڈی گارڈ رجمنٹ کے چار سو گورکھا و ڈوگرہ فوجی، کشمیر رگھو پرتاب رجمنٹ کے دو سو پچاس ڈوگرہ فوجی، پنیال کے ایک سو پچاس رضاکار، اور پنجاب انفنٹری کے بیس جوانوں پر مشتمل میرا ذاتی محافظ دستہ شامل تھا۔ ان میں سے آدھے جوان ‘گیٹلنگ گن’ پر مامور تھے اور باقی پنیالیوں کے ساتھ تھے، جبکہ ہزارہ ماؤنٹین بیٹری کی سات پاؤنڈ والی توپیں بھی ساتھ تھیں۔ اس کٹھن علاقے میں اس سے بڑی فوج کے لیے رسد کا انتظام ناممکن تھا، اور اس سے چھوٹی فوج مہم جوئی کے لیے ناکافی تھی۔ میرا تخمینہ تھا کہ ہمارا مقابلہ چار سے پانچ ہزار جنگجوؤں سے ہوگا، جو اگرچہ قدیم ہتھیاروں سے لیس تھے، مگر پتھر کی دیواروں (سنگر) کے پیچھے وہ نہایت مشتاق اور مہلک دشمن ثابت ہو سکتے تھے۔
ہماری پیش قدمی بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہی، تاہم راستہ ٹوٹا پھوٹا ہونے کے سبب کوچ میں کچھ تاخیر ہوئی۔ دوپہر کے قریب ہم نے آخری بلند مقام عبور کیا تو نلت (نگر) اور میون (ہنزہ) کے قلعے ہمارے سامنے تھے۔ قلعوں کی فصیلوں پر لہراتے جھنڈے، ڈھول کی تھاپ اور جنگی نعروں کی گونج بتا رہی تھی کہ ہمارا بھرپور استقبال تیار ہے۔ دشمن کے سپاہی تیزی سے قلعوں اور پہاڑیوں پر بنے “سنگاہوں” (پتھر کے مورچوں) میں پوزیشنیں سنبھال رہے تھے۔ میں نے ڈھلوان کے دامن میں اپنی فوج کو روکا اور تمام افسران کو بلا کر حملے کا حتمی منصوبہ سمجھایا۔
ہندو کش کے قلعے عموماً چوکور ہوتے ہیں جن کے چاروں کونوں پر برج بنے ہوتے ہیں۔ ان کی دیواریں دس سے پندرہ فٹ چوڑی، مٹی، پتھر اور لکڑی کے شہتیروں سے بنی نہایت ٹھوس ہوتی ہیں۔ تاہم برج، جو بلندی پر ہوتے ہیں، لکڑی کے فریم ڈھیلے ہونے کے باعث کمزور پڑ سکتے ہیں۔ ہم دشمن کے اس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ فاصلہ محض دو سو پچاس گز رہ گیا تھا۔ پھر معرکے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ بقول ای ایف نائٹ بیس دسمبر کو حملہ بغیر کسی تاخیر کے کرنا تھا دوربین سے ہم نے دشمن کی کمزوری کا پتہ لگایا تھا، قبائلی اپنے ہر مورچے پر ، خراب شیربچہ بیڑی اور دیگر کئی دفاعی جہگوں پر موجود تھے۔
اب فیصلہ کن وار کا وقت تھا۔
کرنل ڈیورنڈ کا حکم ملتے ہی گورکھوں اور پونیالیوں نے بلندیوں کو سنھبالا ہوا تھا، نلت میں اچانک گولیاں چلنے کی آواز بلند ہوئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ لڑائی کا آغاز کچھ جلد ہی ہو گیا ہے۔ کنجوتیوں نے اپنی دیوار کے روزنوں سے ہم پر گولیاں چلانے میں پہل کی تھی، جواب میں ہماری توپوں نے کونے والے برج کو نشانہ بنانا شروع کیا، جس کے جواب میں دشمن نے اندھا دھند مگر بے سمت فائرنگ کی۔ ہمیں اس فائرنگ سے کوئی خاص جانی نقصان نہ ہوا کیونکہ وہ بلندی سے نیچے فائر کر رہے تھے اور ہمارے جوان سیڑھی نما کھیتوں کی دیواروں اور نہر کے کناروں کی آڑ میں محفوظ تھے۔ دس منٹ کی گولہ باری کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا کیونکہ وہ برج بنیاد سے چوٹی تک ٹھوس بنایا گیا تھا۔
بقول ای ایف نائٹ ” نلت نالہ پہاڈ کے آخری کنارے پر واقع ہے۔ میدان کے آخر میں قلعہ تعمیر ہے۔ ہنزہ کے ہر گاوں کی طرح نلت بھی خوفناک جگہ ہے ہم نے گولہ باری کی تو قلعہ کی دیواروں پر کوئی اثر نہیں ہوا،
ملک نگر کے باشندے ہمارے حملے کی وجہ سے علاقہ چھوڑ چکے تھے۔ خواتین اور بچوں کو پہاڑوں پر منتقل کیا تھا ، ہمارے جاسوسوں کی اطلاع کے مطابق انہوں نے چارے کے لیے استعمال ہونے والی گھاس کو جلا دیا تھا تاکہ ہمارے خچروں کے لیے خوراک دستیاب نہ ہو، اور قلعے کے گرد نواح تمام پھلدار درخت کاٹ دیئے تھے تاکہ ہمیں کسی قسم کی ڈھال میسر نہ ہو۔”
ان کی تیاریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کنجوتیوں میں دور اندیشی اور مہارت بہت تھی اس میں شک نہیں تھا کہ ان کے پاس فوجی تربیت رکھنے والے بہت لیڈر رہے ہونگے۔ نلت جیسی اہم دفاعی جگہ کو چھینا ضروری تھا۔
” اسی دن ہم پہاڈی ڈھلوانی چڑھائی پر اپنی توپیں نہیں لے جا سکیں ، لیکن پونیال لیویز نے اپنا لہو گرم رکھا اور اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے قلعے کا دفاع کرنے والوں پر نیچے سے گولیاں برساتے رہے۔ اسی دوران کیپٹن میکنزی ، لفٹیننٹ مینز سمتھ پنجاب انفنٹری اور پونیالیوں کے ساتھ پہاڑ سے نیچے اتر کر آگے کی جانب جہاں قلعہ کا مورچہ تھا وہاں گئے۔ ففتھ گورکھوں کے ایک دستے نے نعرہ مار کر پیش قدمی کی اور پونیالیوں کے ساتھ مل کر قلعے کے سوراخوں پر ایسی شدید فائرنگ کی کہ دشمن میں ہلچل مچ گئی۔ وہ نلت نالے میں قلعہ کے پچھلی جانب اپنے آپ کو بچا رہے تھے ۔
دشمن کی گولہ باری بڑی سیدھی تھی۔ ان کے نشانہ باز بڑے اچھے تھے۔ بقول نائٹ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے پاس دور مار نشانہ باز اور بہت اچھے اسلحے کے علاوہ مقامی بنی ہوئی توڈے دار بندوقیں بھی تھی جس کو چلانے کا ڈھنگ وہ جانتے تھے۔ دشمن کے کچھ سپاہیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ برطانوی افسران کو نشانہ بنائیں۔ ان افسران میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو اس دن بال بال نہ بچا ہو۔ مثال کے طور پر اس جنگ میں لیفٹننٹ ولیم کے ہیلمٹ پر گولی لگی، لیفٹیننٹ بوالسرگون کے ریوالور پر اس وقت گولی لگی جب وہ قلعہ کے اندر آخری کوشش کر رہے تھے اس طرح کرنل ڈیورنڈ کو گولی ماری گئی جس سے شدید ذخمی ہونے پر اس سے چارپائی میں ڈال کر گلگت شفٹ کیا گیا۔
جاری ہے۔۔
Related
Facebook Comments
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں