آج کی دھمال۔۔
ہر چیز جو اب
جھیلی نہیں جاتی۔
جاو اداسی اب بہت ہوچکی اب دل سے اتر گئی ہو۔
جدائی! اب جدا ہوجاو ۔ وقت جدائی ہے۔
اے زہر کے پیالو!
اب زہر کی معیاد بھی ایکسپائر ہوچکی ہے۔
اب تو زہر کا ہر دھارا
امرت دھارا بننے کو ہے۔
غم کیا کام ہے اب تلک مجھ سے ۔؟
یہ تمغہ نہیں چاہئیے۔
زہر خندہ، زہر کانوں میں انڈیلتے سازشی
اب ختم کرو یہ مشقیں بہت وقت بیتا۔
جھوٹ کے پاؤں رکھنے والو!
بہکانے والو
روٹھے لوگو!
بھولے بسرے ہو چکے تم۔
اب تو ہر پھولے بسورےاور بے رخی سے سجے ہر چہرے پر وقت کی جھریاں ہیں۔
ذرا آئینے تو دیکھو
کھیلن کو چاند مانگنے والے اب تمہارے قد برابر ہوگئے۔
اب ہم بھی گم گشتہ سے ہیں۔
اب تو ہمارے عہد و پیماں بھی ہمیں مضحکہ سے لگتے ہیں۔
تم انہی کو تھامے ہوئے ہو۔؟
اے منتظر گھنٹیو! فون بند کر رکھا ہے۔
اے شکوے شکایتو! کان تاب شنید نہیں رکھتے۔
جاو پرانی یادو! اب مبہم ہوچکی ہو تم پرانی بوسیدہ البموں میں پڑی ۔
اے پیارے ننھے بچو تم بھی اب بڑھاپے کی بستیوں میں آباد ہو۔
تو کیا تم اب بھی ہم چراغ سحریوں کی طرح لوگوں کے اعمال جانچو گے؟ یا قصیدے سناو گے؟
اب تو تمہارے بچے تمہاری جوانیوں کے قصوں کے چشم دید گواہ ہیں۔
اب وہ تمہارے کرداروں کی توجیہہ دیں گے۔
سب پرانی کہانیاں۔
واقعات کی توجیہات بھی رخ بدل گئیں۔
کوئی حادثہ کیوں ہوا؟
کیا وہی پرانی من گھڑت وجوہات ہیں تمہارے پاس۔؟
نہیں وقت بہت گزر چکا ہے۔
جو تم نے سنبھال رکھی ہیں وجوہات سانحات اب کوئی نہیں مانتا ۔
پرانے ٹرامے اب ڈرامے اور تمثیل میں
کسی تھیٹر پر تفریح نہیں بن سکتے۔
اپنے فلسفوں پر نظر ثانی کرو۔
وقت بدل گیا ہے ۔
خوابوں کی تعبیر کے اشارے بدل گئے ۔
علامتیں اب تعویذ میں نہیں سماتیں ۔
اب ہر سفر الگ ،رخت سفر الگ
منزل کی تمنا الگ۔
تو کب تلک الگ راستوں سے مڑتے ہر موڑ پر راہ تکی جائے؟
یہ آج اب بہت تھوڑی ہے۔
کیا اس آج کو کل پر اٹھا رکھیں؟
اور الگ الگ دھمال نہ ڈالیں ۔؟
آج کی دھمال ہی تو اب زاد راہ ہے۔
اسی میں سانس لینا ہے۔
آج میں شامل ہو سکتے ہو تو
آو دھمال ڈالیں ۔
اٹکے دماغوں کو بھٹکنے سے بچالیں۔
آج کو منالیں۔
کبھی آج مل جائے تو
آ بیٹھنا۔
بس نئی دھمال کے لئے
جام حیات کے لئے۔
اگر آج وقت نکلے تو۔
سوچنا
ہم بھی کہیں غلط تھے
اور شاید تم بھی۔
پر زندگی کہتی ہے
ہر تعلق میں امرت گھولیں تم بھی
ہم بھی۔
شعور کے نئے افق
تلاش کریں ۔
کسی بے دھیان وقت میں
کسی بیگانے جزیرے کی
ریت پر قدم گاڑ کر
کوئی تازہ قلعہ بنائیں
پھر خوب قہقہے لگائیں
اگر آج مل جائے تو۔
۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں