یومِ یکجہتی کشمیر/ علی عباس کاظمی

پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک سرکاری چھٹی نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو لوگوں کو کشمیر کے مسئلے اور وہاں کے عوام کے حالات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر سال اس دن ریلیاں، سیمینارز، تقاریب اور خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام سے اظہارِ ہمدردی کیا جا سکے۔ اس دن کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں اور پاکستان کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس دن کی روایت کئی دہائیوں پرانی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اہمیت مزید بڑھتی گئی ہے۔

یومِ یکجہتی کشمیر کی ابتدا نوے کی دہائی میں ہوئی جب پاکستان میں سیاسی اور سماجی حلقوں نے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اس دن کو منانے کی تجویز پیش کی۔ بعد ازاں یہ دن قومی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ہر سال اسے باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔ اس دن کے پس منظر میں کشمیر کا وہ تاریخی تنازعہ ہے جو برصغیر کی تقسیم کے وقت سامنے آیا۔ 1947 میں پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد کشمیر ایک ایسا خطہ بن گیا جس پر دونوں ممالک کا دعویٰ رہا۔ اسی تنازعے نے خطے میں مسلسل کشیدگی کو جنم دیا اور آج تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

اقوامِ متحدہ نے بھی کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مختلف قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیری عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دینے کی بات کی گئی۔ تاہم یہ قراردادیں عملی طور پر نافذ نہ ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر ایک ادھورا وعدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف کشمیری عوام کو متاثر کیا بلکہ بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصول کیوں بعض علاقوں میں موثر ثابت نہیں ہو پاتے۔

کشمیر قدرتی حسن کے اعتبار سے دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں اور جھیلیں اس خطے کی پہچان ہیں۔ لیکن اس خوبصورتی کے پیچھے وہاں کے لوگوں کی مشکلات اور دکھ بھی چھپے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام کو کئی سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مواصلاتی پابندیاں، کاروباری مشکلات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال وہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان حالات نے کشمیری عوام کے روزمرہ معمولات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔

کچھ سال پہلے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد علاقے میں کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس فیصلے کے اثرات سیاسی، سماجی اور آبادیاتی سطح پر محسوس کیے گئے۔ اس اقدام پر مختلف حلقوں میں بحث اور تنقید بھی ہوئی۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ فیصلہ خطے کے انتظامی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش تھا جبکہ دوسرے حلقے اسے ایک متنازعہ قدم سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اگر اس تنازعے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف دو ممالک کا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی پہلو بھی رکھتا ہے۔ کشمیر میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ آباد ہیں جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس خطے کی ثقافت، دستکاری اور روایات پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پشمینہ شالیں، قالین اور دیگر دستکاریاں کشمیری ثقافت کی پہچان ہیں۔ لیکن مسلسل تنازعات نے اس ثقافتی حسن کو بھی متاثر کیا ہے اور وہاں کے لوگوں کی معاشی حالت پر اثر ڈالا ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے بھی کشمیر کا مسئلہ اکثر عالمی توجہ حاصل کرتا ہے۔ مختلف تنظیمیں اس خطے میں شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کے مسائل کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ جدید دور میں سوشل میڈیا نے کشمیری نوجوانوں کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کیا ہے۔ ویڈیوز، تصاویر اور تحریروں کے ذریعے وہ اپنے حالات بیان کرتے ہیں اور عالمی برادری کو اپنی مشکلات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک نئی تبدیلی ہے جس نے مسئلے کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کیا ہے۔

عالمی سیاست بھی کشمیر کے مسئلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے موقف اختیار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ عالمی ادارے اس مسئلے پر واضح اور موثر کردار ادا نہیں کر پاتے۔ اس صورتحال نے مسئلے کے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر عالمی برادری غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے تو مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود کشمیر میں مثبت سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ مقامی سطح پر مختلف سماجی ادارے تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو بہتر مستقبل کی امید دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر خطے میں امن قائم ہو جائے تو کشمیر سیاحت کے لیے ایک اہم مرکز بن سکتا ہے جو معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو خطے میں عدم استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بات چیت اور سفارتی کوششیں اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف معاہدے اور مذاکرات ہوئے جن سے امید کی کرن پیدا ہوئی، لیکن مستقل حل ابھی تک سامنے نہیں آ سکا۔

حالیہ برسوں میں ماحولیاتی مسائل بھی کشمیر کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس خطے کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر دونوں ممالک مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں کیونکہ ماحولیات ایک غیر سیاسی موضوع ہے اور اس پر تعاون سے اعتماد سازی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔

میڈیا کا کردار بھی کشمیر کے مسئلے میں اہم ہے۔ مختلف ممالک میں میڈیا اپنے اپنے نقطہ نظر سے مسئلے کو پیش کرتا ہے۔ اس وجہ سے عوام تک پہنچنے والی معلومات میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اسے سمجھنے کے لیے متوازن سوچ کی ضرورت ہے۔ کشمیری عوام اپنی ثقافت، موسیقی اور شاعری کے ذریعے اپنی شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ثقافتی اظہار ان کی جدوجہد کا ایک خاموش مگر طاقتور انداز ہے۔

یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریبات میں اب جدید ذرائع ابلاغ کا بھی استعمال ہو رہا ہے۔ ریڈیو پروگرامز، آن لائن ویڈیوز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ نئے طریقے نوجوان نسل کو اس مسئلے سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا صرف اظہارِ یکجہتی کافی ہے یا اس مسئلے کے حل کے لیے مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

julia rana solicitors london

یہ دن ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ انسانی حقوق اور امن کے قیام کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو خطے میں امن اور خوشحالی کا باعث بنیں گے۔ یومِ یکجہتی کشمیر صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک پیغام ہے جو ہمیں انصاف، ہمدردی اور امن کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply