اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جو لالی چھائی ہوئی ہے وہ سورج کے طلوع ہونے کی نہیں بلکہ ان شعلوں کی ہے جو تہران سے لے کر مشہد تک اور اصفہان سے لے کر تبریز تک بھڑک رہے ہیں۔ جنوری 2026 کی سرد ہوائیں ایران کے گلی کوچوں میں گرم لہو کے ساتھ ٹکرا رہی ہیں، اور سات سمندر پار واشنگٹن کے طاقتور ایوانوں سے آنے والی آوازیں اس جلتی ہوئی آگ پر کبھی تیل اور کبھی امید کا چھڑکاؤ کر رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی دوسری اور آخری صدارتی مدت میں پہلے سے زیادہ جارحانہ عزائم کے ساتھ براجمان ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک ایسا بیان داغا، جس نے سفارتی آداب کی تمام دیواریں گرا دیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ”ایرانی محبِ وطنو، احتجاج جاری رکھو… اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو… مدد آ رہی ہے“، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسا تزویراتی عندیہ ہے جس نے خطے کی سلامتی کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کردیا۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ”مظاہرین کا بے جا قتلِ عام“ نہیں رکتا، کوئی بات نہیں ہوگی۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 28 دسمبر 2025 کو شروع ہونے والا یہ احتجاج محض مہنگائی یا کرنسی کے بحران کا ردعمل نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک مکمل سیاسی مزاحمت کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا واحد مطالبہ ”نظام کی تبدیلی“ ہے۔ 2009 کی سبز تحریک کے بعد یہ ایران کودرپیش سب سے سنگین چیلنج ہے۔ تاہم، جذبات کے اس طوفان میں ہمیں ٹھنڈے دماغ سے زمینی حقائق کا تجزیہ کرنا ہوگا، خاص طور پر دو اہم سوالات کے تناظر میں۔ کیا رضا پہلوی کی واپسی ممکن ہے؟ اور کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران میں فوجی مداخلت کی حد تک جا سکتے ہیں؟
سب سے پہلے بات کرتے ہیں ”شاہ کی واپسی“ کے بیانیے کی۔ رضا پہلوی، جو گزشتہ پچاس سالوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، نے ان مظاہروں کے دوران اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ایران واپسی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وہ خود کو ایک ”عبوری رہنما“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور مطلق العنان بادشاہت کی بجائے ایک جمہوری ریفرنڈم کی بات کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک رومانوی خیال لگتا ہے کہ جس طرح 1979 میں خمینی پیرس سے تہران اترے تھے، اسی طرح 2026 میں پہلوی واشنگٹن سے تہران اتریں گے۔ لیکن حقیقت بہت تلخ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ رضا پہلوی کی حمایت زیادہ تر بیرونِ ملک مقیم ایرانی کمیونٹی تک محدود ہے یا پھر سوشل میڈیا پر چلنے والی ان مہمات کا حصہ ہے جنہیں بعض اوقات بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں، خصوصاً اسرائیل، کی جانب سے ہوا دی جاتی ہے۔ اندرونِ ملک، جہاں نوجوان نسل سڑکوں پر سینہ تانے کھڑی ہے، وہاں ”شاہ کا بیٹا“ ہونے سے زیادہ ”آزادی اور معیشت“ کے نعرے اہم ہیں۔ خود صدر ٹرمپ کا رضا پہلوی سے ملاقات نہ کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی ساز بھی ”بادشاہت کی بحالی“ کو سنجیدہ آپشن نہیں سمجھتے۔ ایرانی عوام کی اکثریت کے حافظے میں شاہی دور کی آمریت اور ساواک کے مظالم کی یادیں ابھی بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں، لہٰذا مستقبل کا ایران ماضی کے کسی ماڈل کو اپنانے کی بجائے ایک نیا راستہ تراشنے کی جستجو میں ہے۔
دوسرا اور اہم ترین پہلو ایرانی ریاست کی اپنی ساخت ہے۔ بہت سے تجزیہ کار موجودہ حالات کا موازنہ 1979 کے انقلاب سے کرتے ہیں، لیکن یہ موازنہ تکنیکی طور پر غلط ہے۔ 1979 میں شاہ کی فوج ایک روایتی فوج تھی جو عوام پر گولی چلانے سے ہچکچا گئی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ اس کے برعکس، آج کی فوج”سپاہِ پاسدارانِ انقلاب“ (IRGC) کر رہی ہے، جو محض ایک فوج نہیں بلکہ ایک نظریاتی، سیاسی اور اقتصادی سلطنت ہے۔ پاسداران اور باسیج ملیشیا کی مشترکہ قوت تقریباً دس لاکھ اہلکاروں پر مشتمل ہے جن کے مفادات، روزگار اور بقا موجودہ نظام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنوری 2026 کے وسط تک، سکیورٹی فورسز میں کسی بڑی بغاوت یا تقسیم کے آثار نظر نہیں آئے۔ جب تک اشرافیہ اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں دراڑیں نہیں پڑتیں، محض عوامی دباؤخواہ وہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہوریاست کو ”گھٹنوں پر“ نہیں لا سکتا۔
صدر ٹرمپ کا جملہ ”مدد آ رہی ہے“ (Help is coming) بہت سے معانی رکھتا ہے۔ کیا اس کا مطلب فوجی حملہ ہے؟ قانونی طور پر امریکی صدر کے پاس ”آرٹیکل ٹو“ کے تحت یہ اختیار موجود ہے کہ وہ قومی سلامتی کے مفاد میں کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر محدود فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ ماضی میں اوباما کا لیبیا پر حملہ ہو یا ٹرمپ کا ہی 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ، یہ سب اسی اختیار کے تحت کیے گئے۔ اس وقت پینٹاگون میں ٹرمپ کے سامنے مختلف آپشنز موجود ہیں: علامتی فضائی حملے، قیادت کو نشانہ بنانے والے ”ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیکس“ (Decapitation strikes)، یا پھر پاسداران کے مراکز پر مسلسل بمباری، لیکن یہاں ٹرمپ کی ”مسکیولر فارن پالیسی“ (Muscular Foreign Policy) کو زمین پر موجود رکاوٹوں کا سامنا ہے۔اگر امریکہ ایران پر براہِ راست حملہ کرتا ہے تو اس کے نتائج یوکرین یا غزہ جیسے نہیں ہوں گے بلکہ یہ آگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایران نے واضح دھمکی دی ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈے اور اسرائیل جائز ہدف ہوں گے۔ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا وسیع ذخیرہ اور خطے میں پھیلی پراکسی ملیشیاؤں (یمن کے حوثی، عراق کی ملیشیا، لبنان میں حزب اللہ) کا نیٹ ورک موجود ہے جو امریکی مفادات کو غیر معمولی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، معاشی محاذ پر بھی خطرات کم نہیں ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کے دہانے پر بیٹھا ہے اور چین کو روزانہ 1.6 ملین بیرل تیل برآمد کرتا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں 10 سے 12 ڈالر فی بیرل کا فوری اضافہ ہو سکتا ہے جو عالمی معیشت اور خود امریکی ووٹرز کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہوگا۔ لہٰذا ٹرمپ کے لیے ”مدد“ کا آپشن شاید فوجی حملے سے زیادہ سخت ترین اقتصادی ناکہ بندی، سائبر وارفیئر، اور انٹیلی جنس سپورٹ تک محدود رہنے کا امکان زیادہ ہے، کیونکہ ”رجیم چینج“ کے لیے زمینی فوج اتارنا ایک ایسی دلدل ہے جس میں امریکہ پہلے بھی عراق اور افغانستان میں دھنس چکا ہے۔
ایران کے عوام اس وقت تاریخ کے ایک خونی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ان کی جدوجہد حقیقی ہے اور ان کا درد ناگزیر۔ لیکن جذبات سے ہٹ کر اگر ہم طاقت کے ترازو پر دیکھیں تو پلڑا ابھی بھی ریاست کے حق میں جھکا ہوا نظر آتا ہے۔ سکیورٹی ادارے ابھی تک وفادار ہیں، اپوزیشن منقسم ہے، اور رضا پہلوی کا کارڈ زمین پر غیر مؤثر ہے۔ ٹرمپ کی دھمکیاں ایرانی حکومت کو دباؤ میں تو لا سکتی ہیں لیکن اسے گرا نہیں سکتیں۔ بلکہ خطرہ یہ ہے کہ امریکی مداخلت کے خوف کو جواز بنا کر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال مزید بے دریغ کر دے گی اور اسے ”غیر ملکی ایجنٹ“ قرار دے کر کچل دے گی۔ 2026 کا سال ایران کے لیے فیصلہ کن ضرور ہے، لیکن یہ فیصلہ شاید فوری انقلاب کی صورت میں نہ ہو بلکہ ایک طویل، تھکا دینے والی اور خونی جدوجہد کی صورت میں نکلے گا جہاں عوام کو اپنی آزادی کی قیمت اپنے لہو سے چکانی پڑے گی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں