اللہ دیکھ رہا ہے /علی عباس کاظمی

یہ بظاہر ایک عام سا واقعہ تھا، ایک معمول کی خریداری۔۔۔ مگر اس نے سوچ کے کئی بند دروازے کھول دیے۔ ایک مارٹ میں داخل ہوئے تو ذہن بکھرا ہوا تھا، نظریں اشیاء پر تھیں اور دل لاپرواہی میں ڈوبا ہوا۔ اچانک دیوار پر لکھی ایک تحریر نظر سے ٹکرائی، خبردار۔۔۔ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ یہ چند الفاظ ایسے تھے جیسے کسی نے خاموشی سے جھنجھوڑ دیا ہو۔ ایک لمحے میں احساس بدل گیا، قدم محتاط ہو گئے، حرکات میں سنجیدگی آ گئی، جیسے کوئی واقعی دیکھ رہا ہو۔

تعجب اس امر کا تھا کہ ایک مشین انسانی ضمیر کو بیدار کر سکتی ہے۔ ہم اپنے رویے درست کرنے لگتے ہیں، خود کو سنبھال لیتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں کوئی غلطی ریکارڈ نہ ہو جائے۔ہر موڑ پر موجود یہ کیمرے ہمیں نظم و ضبط کی یاد دہانی کراتے ہیں اور احساس دلاتے ہیں کہ ہم اکیلے نہیں بلکہ ایک نظام کا حصہ ہیں۔

دنیا نے اپنی حفاظت کے لیے نگرانی کا نظام بنا لیا ہے۔ ٹریفک کے اشاروں پر کیمرے لگے ہیں، دفاتر اور اداروں میں نگرانی کا انتظام ہے، بازاروں اور گلیوں میں کیمرے لگے ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے۔۔۔ انسان کو حدود میں رکھنا۔ ہم ان حدود کا خیال رکھتے ہیں، کیونکہ ہمیں دنیاوی نقصان دکھائی دیتا ہے۔۔۔ جرمانہ، بدنامی، سزا۔

مگر اصل سوال یہاں سے جنم لیتا ہے۔ اگر دنیا کی یہ عارضی نگرانی ہمیں اس قدر محتاط بنا سکتی ہے تو پھر اس دائمی نگرانی کا ہم پر کیا اثر ہونا چاہیے جو ہر لمحہ قائم ہے؟ وہ نگرانی جو صرف ہمارے ظاہر کو نہیں بلکہ ہمارے باطن کو بھی دیکھتی ہے۔۔۔ جو ہمارے اعمال ہی نہیں بلکہ ہمارے ارادوں سے بھی باخبر ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں خوف خدا کا تصور سامنے آتا ہے۔ خوفِ خدا کسی دہشت یا گھبراہٹ کا نام نہیں، یہ ایک شعوری کیفیت ہے۔ یہ احساس کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔ ہر حال میں، ہر جگہ، ہر وقت۔ یہ خوف انسان کو بکھرنے کے بجائے سنورنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہ وہ ڈر ہے جو انسان کو خود اس کے نفس کے مقابل کھڑا کر دیتا ہے۔

خوفِ خدا کا مطلب یہ نہیں کہ انسان زندگی سے گھبرا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی کو ذمہ داری کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ جب دل میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ اللہ ہماری آنکھوں کی خیانت، دل کی نیت اور سینے کی پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے تو پھر انسان اکیلا رہ کر بھی اکیلا نہیں رہتا۔ تنہائی بھی عبادت بن جاتی ہے اور خاموشی بھی جواب دہ ہو جاتی ہے۔

ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ گناہ صرف وہ ہے جو سب کے سامنے ہو جائے۔ حالانکہ اصل امتحان تو وہ ہے جو پردوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ جب کوئی دیکھنے والا نظر نہیں آتا، جب کوئی روکنے والا سامنے نہیں ہوتا تب اگر ہاتھ رک جائے، زبان سنبھل جائے، قدم پیچھے ہٹ جائیں تو ۔۔۔یہی خوفِ خدا کی پہچان ہے۔

خوفِ خدا انسان کے اندر ایک ایسا حصار کھڑا کر دیتا ہے جو ظلم، جھوٹ اور خیانت کو قریب نہیں آنے دیتا۔ یہ خوف انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت، عہدہ، دولت سب عارضی ہیں۔۔۔ مگر حساب یقینی ہے۔ دنیا میں شاید کوئی سوال نہ کرے، مگر وہاں ہر سوال پوچھا جائے گا اور ہر جواب کا ریکارڈ موجود ہو گا۔

دنیا کے کیمرے صرف وہی دکھاتے ہیں جو آنکھ دیکھ سکتی ہے، مگر اللہ کی نگرانی وہاں تک پہنچتی ہے جہاں سوچ جنم لیتی ہے۔ سوچ کی پہلی دستک، پہلی خواہش اور پہلی نیت بھی اس سے اوجھل نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ خوفِ خدا انسان کو اندر سے پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ وہ صرف ظاہر نہیں بلکہ باطن کی اصلاح کرتا ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ ہم لوگوں کے ڈر سے خود کو بدل لیتے ہیں۔نگران کی موجودگی میں ہاتھ زیادہ تیزی سے چلنے لگتے ہیں، کیمرہ ہو تو دیانت جاگ جاتی ہے، قانون سامنے ہو تو اطاعت یاد آ جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ اللہ کی موجودگی کا احساس ہمیں اسی شدت سے نہیں جھنجھوڑتا۔

اگر ہم ہر غلط کام سے پہلے صرف ایک لمحے کے لیے رک جائیںاور دل میں یہ شعور تازہ رکھیں کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو یقیناً بہت سی لغزشیں خود ہی رک جائیں۔ یہی احساس ایمان کی جان ہے۔ یہی احساس انسان کو مومن بناتا ہے۔۔۔ وہ مومن جو جلوت اور خلوت دونوں میں ایک جیسا ہوتا ہے۔

خوف ِ خدا انسان سے اس کی انسانیت نہیں چھینتا بلکہ اسے نکھارتا ہے۔ یہ خوف دل کو زندہ رکھتا ہے، ضمیر کو بیدار کرتا ہےاور انسان کو اس انجام کی یاد دلاتا ہے جہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ کوئی تعلق، نہ کوئی پردہ۔

julia rana solicitors london

دعا یہی ہے کہ اللہ ہمیں ایسا ایمان عطا کرے جس میں گناہ سے رکنے کی وجہ کیمرہ کی آنکھ نہیں بلکہ اللہ کی نگاہ ہو۔۔ ۔ایسا خوف جو ہمیں نیکی کی طرف مائل کرے، ہمیں خود اپنا نگہبان بنا دے اور ہمیں اس دن کی رسوائی سے بچا لے جب سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔( آمین)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply