• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انقلاب اسلامی ایران سنتالیس سال اور درپیش چیلنجز /ڈاکٹر ندیم عباس

انقلاب اسلامی ایران سنتالیس سال اور درپیش چیلنجز /ڈاکٹر ندیم عباس

انقلاب حرکت کا نام ہے،انقلاب بلندی کے عروج کا نام ہےا ور انقلاب ہی تبدیلی کا عنوان بنتا ہے۔دنیا میں جہاں جہاں انقلاب آیا وہاں وہاں بڑی بڑی سماجی تبدیلیاں ہوئیں۔زیر و زبر کر دینے والے انقلابات لانے آسان ہوتے ہیں مگر ان کی بقاء بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔مقامی اور بین الاقوامی قوتیں انقلاب کو اپنے لیے شروع میں محض خطرہ اور بعد میں وجودی خطرہ سمجھنے لگتی ہیں کہ آہستہ آہستہ انقلاب کی لپٹ میں آ جائیں گی۔یہیں سے انقلاب کی مخالفت شروع ہوتی ہے اور انقلاب کو فکری اور عملی طورپر ڈی ٹریک کیا جانے لگتا ہے۔انقلاب لانے والے ان حرکیات پر نظر رکھیں اور انہیں خود پر مسلط ہونے کی بجائے انہیں طاقت بنا کر انہیں انقلاب کی راہ متعین کرنے کے لیے استعمال کریں تو انقلاب تادیر قائم رہتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔انقلاب اسلامی ایران نے بھی لوگوں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا۔اس کی فکری بنیادیں اس قدر مضبوط تھیں کہ لاکھوں لوگ اس کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اس کی قوت و طاقت کا اکثر غلط اندازہ لگایا گیا اور مغربی حکمران اشرافیہ اور اکیڈمیا نے اسے محض ملاں کی جذباتیت سے تعبیر کیا۔یہیں پر ان سے بڑی غلطی ہو گئی۔انقلاب لانے والی ٹیم میں ایک سے بڑھ کر ایک فلسفہ و کلام کا ماہر موجود تھا۔معاشرے کے نباض ماہرین رہنمائی اسے حاصل تھی۔ایک مقبول قیادت جس کی سادگی دشمن کو بھی گرویدہ کر لے اور جس کی ذہانت ممالک کے اداروں کو چکرا کر رکھ دے موجود تھی۔
جب انقلاب کو آئے محض ایک سال ہوا تھا تو اس پر طویل ترین جنگ مسلط کر دی گئی۔ ایران۔عراق جنگ (1980 تا 1988) ایران کے لیے شدید جانی اور مالی تباہی کا باعث بنی یہ بیسویں صدی کی طویل ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق اس آٹھ سالہ جنگ میں ایران کے تقریباً 2 سے 3 لاکھ افراد شہید ہوئے جبکہ 5 سے 6 لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد فوجیوں کے ساتھ عام شہریوں کی بھی تھی اور ہزاروں افراد مستقل معذوری کا شکار بنے۔ عراق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نے ایرانی آبادی کو خاص طور پر متاثر کیا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ مالی نقصان کے لحاظ سے ایران کو تقریباً 500 سے 600 ارب امریکی ڈالر کا مجموعی نقصان برداشت کرنا پڑا، جس میں تیل کی تنصیبات، ریفائنریاں، صنعتی مراکز، بندرگاہیں اور سرحدی شہر شدید تباہ ہوئے، جبکہ تیل برآمدات میں کمی سے ملکی معیشت کو بڑا دھچکا لگا۔ اس جنگ نے نہ صرف ایران کو انسانی اور معاشی بحران سے دوچار کیا بلکہ عالمی پابندیوں کے باعث اسے دفاعی خود انحصاری کی طرف بھی مائل کیا، جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی دفاعی صنعت اور اسلحہ سازی کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔لوگ اس قدر انقلاب کی حمایت میں کمر بستہ تھے کہ لاکھوں قربانیوں کے باوجود بھی اس انقلاب کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔آپ کو مجھے اس سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ انقلاب عوام میں محبوب تھا جس کے لیے لوگوں نے مالی اور جانی ہر دو طرح کی قربانیاں دیں۔
آج انقلاب کو سنتالیس سال گزر چکے ہیں۔دوسری بلکہ تیسری نسل آ چکی ہے۔یہاں تک پہنچتے پہنچتے ایران اور ایرانیوں میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔جن لوگوں نے شاہ کے ستم کا مقابلہ کیا تھا وہ بزرگ ہو چکے ہیں۔انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے ملک کو سنبھالے ہوئے ہیں اور جنریشن زی کی آوازیں بھی بلند ہوتی رہتی ہیں نظام کی موجودہ شکل دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نظام میں اتنی لچک ہے کہ ان آوازوں کو سنا جاتاہے۔اندرونی،علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے مفادات پر انقلاب نے کاری ضرب لگائی ہے اسی لیے یہ قوتوں ایک لحظہ کے لیے بھی انقلاب کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اندرونی اور بیرونی سازشوں کا بازار گرم رہتا ہے۔پابندیاں تو شروع دن سے لگا رکھیں اس کے باوجود نظام کی طاقت دیکھیے کہ وہ ناصرف قائم بلکہ ابتداء سے آج زادہ طاقور ہے۔کچھ چیزیں ہوتی تو زحمت ہیں مگر نعمت بن جاتی ہیں پابندیوں نے ایرانیوں کو اپنی صلاحیتوں کو بھرپور استعمال کرنے کا موقع بھی عطا کیا ہے۔
آج بحری بیڑا ایران کے نزدیک پہنچ چکا ہے ایران اس کے لیے مدت سے تیاری کر رہا ہے۔اسے معلوم ہے کہ آج نہیں تو کل یہ دن آنا ہے۔ایران نے ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اپنی عسکری تیاری کو جدید میزائلوں، ڈرونز، دفاعی نظام اور بحری قوت کے ذریعے مضبوط بنایا ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں میں شہاب-3، قدر، سجیل اور خرمشہر شامل ہیں، جو 1,300 سے 2,000 کلومیٹر تک رینج رکھتے ہیں اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ کروز میزائلوں میں سومار، قدیر اور نور شامل ہیں جو درست نشانہ لگانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کے شاہد-129، شاہد-136، مهاجر-6 اور ابابیل ڈرونز نگرانی، حملہ اور دفاعی مقاصد کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ فضائی دفاع کے لیے ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز متعارف کرائے ہیں، جن میں باور-373، خرداد-15 اور تلاش شامل ہیں، جو دشمن کے جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بحری محاذ پر ایران کی نیوی فورسز خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں اسٹریٹجک برتری رکھتی ہیں، جہاں غدیر کلاس آبدوزیں، فتح کلاس آبدوز، تیز رفتار میزائل بردار کشتیاں، نور اور قادر بحری میزائل کسی بھی دشمن بحری بیڑے کے لیے سنجیدہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان تمام عسکری صلاحیتوں کی بدولت ایران نہ صرف دفاعی طور پر مستحکم ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی پوزیشن میں بھی موجود ہے۔

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply