ادب لکھنے کا مسئلہ ۔۔۔ سعید ابراہیم

اگر آپ لکھتے ہیں اور سنجیدگی سے لکھتے ہیں تو ایک سوال سے مفر ممکن نہیں کہ آپ لکھتے کیوں ہیں؟

کچھ لوگوں کا جواب ہوتا ہے کہ وہ تو بس اپنے لیے لکھتے ہیں۔ اگر ان سے اس جواب کی وضاحت کرنے کو کہا جائے تو وہ خاصی مشکل میں پڑجاتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اس سوال کا جواب سوچا ہی نہیں ہوتا۔ اپنے لئے لکھنا ایک بے معنی بلکہ ناممکن بات ہے کیونکہ اس کے لیے لکھنے والے کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ پوری کائنات میں اکیلا فرد ہے۔ ہم اس جواب کو سیدھا سیدھا لکھنے والے کے نفسیاتی الجھاوے سے تعبیر کرسکتے ہیں جسے درست کرنے میں خود اسے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اُلٹا اس بات کو اپنی مختلف بلکہ کسی حد تک قابلِ فخر شناخت کے طور پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔

ہمارے ہاں بڑی تعداد ایسے ادیبوں کی بھی پائی جاتی ہے جو ابلاغ کی ماہیئت سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتے یا اس کی صلاحیت سے عاری۔ یہ لوگ لکھنے کو محض ذاتی پہچان کے حربے کے طور پر برتتے ہیں۔بہت سے ہیں جو صاحبِ مطالعہ بھی ہوتے ہیں مگر مطالعے سے دانش کشید کرنے سے کم وبیش عاری۔ چونکہ انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے جو بھی لکھا ہے اس سے کیا مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے، سو وہ اپنی تحریر کے عدم ابلاغ کو ہی اپنی اہمیت کی کسوٹی سمجھ بیٹھتے ہیں۔یہ اپنے آپ کو کسی ایسی جدیدیت کا نمائندہ کہلانے پر مصر ہوتے ہیں جو نہ تو ابھی وجود میں آئی ہوتی ہے اور نہ ہی آنے کا کوئی امکان ہوتا ہے۔
ایک ایسے بھی ہیں جن کے لکھنے کا ان کے مافی الضمیر سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ انھیں صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ نقاد آج کل کس نظریۂ ادب کی جگالی کررہے ہیں۔وہ اسلوب یا افسانے کی کس طرح کی ساخت اور ڈھانچے کو سراہ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ نقادوں (ویسے معلوم نہیں کہ ابھی اردو ادب کو کوئی نقاد نصیب ہوا بھی ہے کہ نہیں) کے پسندیدہ نظریۂ ادب کی ماہیئت اور اس کے سیاق وسباق کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ اور یوں اٹکل پچو تحریروں سے صفحات سیاہ کرتے رہتے ہیں۔ بس کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی نام نہاد معروف نقاد ان کی تحریر پر دو جملے لکھ دے جنھیں وہ سند کے طور پر جاہل قارئین کے مونہہ پر مار سکیں۔ یہ خود کو ایسا تخلیق کار سمجھ بیٹھتے ہیں جس کی تحریر کی عظمت کو سمجھنے والا قاری ابھی پیدا ہی نہیں ہو سکا۔جبکہ وہ اپنی تحریروں سے خود اپنی ادبی موت کے پروانے پر دستخط کرچکے ہوتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہیں کرافٹ پر عبور حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ قارئین کو میسمرائزکر لیتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ قارئین میں تنقیدی اور سیاسی شعور بالکل پیدا نہ ہو۔ یہ لوگ عمومی طور پر روائتی قصے کہانیوں والا اسلوب برتتے ہیں۔مسٹیرئیس بابے ان کا پسندیدہ کردار ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ قارئین کے ذہنوں کا رخ اپنی مرضی کی سمت میں موڑ سکتے ہیں۔ یہ مرضی کی سمت ذاتی مقبولیت بھی ہوسکتی ہے اور حکومتِ وقت کے جبر کی جانب سے دھیان ہٹانا بھی، جس کے صلے میں سرکاری نوکری، اعزازات اور مراعات ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کئی ایسے بھی ہیں جو نظرئیے کی بہت محدود تفہیم کے اسیر ہوتے ہیں۔ایسے اصحاب عمومی طور پر سطحی، یک رخا اور نعرہ باز قسم کا ادب لکھتے ہیں اور اسے تبلیغ کے طور پر برتتے ہیں۔

ادب بنیادی طور پر ادیب سے حساسیت ،شعور اور ہنرکاری کا مطالبہ کرتا ہے۔حساسیت تو خیر جبلی معاملہ ہے مگر شعور سراسر اکتساب کی بات اور ہنر کاری ریاضت کا نتیجہ۔ ادیب عمومی طور پر کسی نہ کسی واقعے سے متاثر ہوکر ہی لکھتا ہے، بھلے وہ واقعہ بہت واضح ہو یا مبہم، ادیب کی حساسیت اگر اس کی جانب معمول سے زیادہ شدت سے متوجہ ہوجائے تو اس کے فن پارے میں ڈھلنے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔حساسیت اور کرافٹ کی بنیاد پر جذباتی حوالے سے ایک زور دار کہانی تو ضرور وجود میں آسکتی ہے مگر اس کے علم اور تحقیق کی بنیاد پر بنائے گئے تنقیدی اصولوں پر پورا اترنے کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ضروری نہیں کہ محض حسیاسیت اور کرافٹ کے زور پر لکھی گئی سبھی تحریریں سطحی ہوں۔ لکھنے والا خود بھی نفسیات کا کوئی الجھا ہوا کیس ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے وہ لاشعوری طور پر سماج کی ساخت اور انسانی نفسیات کے کچھ ایسے گوشے وا کردے جن کا جاننا کسی نعمت سے کم نہ ہو۔ مگر باقاعدہ ادب کے معاملے میں شعور کی شرط کو کسی صورت ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ شعور ہی ہے جو دماغ کے جذباتی اور عقلی منطقوں کو توازن عطا کرتا ہے۔ جذبہ لکھاری کو فرد اور سماج کی ساخت کو ہمدردی کیساتھ دیکھنے اور اس کے باطن کی گہرائی میں اترنے کے لیے متوجہ کرتا ہے جبکہ عقل اس گہرے اندھے کنوئیں میں روشنی کا کام کرتی ہے۔اور پھر دکھائی دینے لگتا ہے کہ اس کنوئیں میں سماجی مظاہر جھاڑ جھنکار کی صورت ہیں یا مرتب حالت میں۔ باشعور ادیب کا کام اب یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں کو کسی کہانی، افسانے یا ناول کی صورت ہنر کے ساتھ یوں بیان کرے کہ واقعات کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی عوامل عیاں ہونے لگیں۔

ایسا ادیب بہرحال تقابلی اور ہمہ جہت مطالعے سے ہی پنپ سکتا ہے۔مطالعہ نہ صرف شعور میں اضافہ کرتا ہے بلکہ دھیرے دھیرے کرافٹ میں بہتری بھی آتی چلی جاتی ہے۔بات کے عمدہ ترین ابلاغ کیلئے بہرحال موضوع کی گہری تفہیم اور اسے سادہ اور سہل انداز میں بیان کرنا ناگزیر ہیں۔ یہی وہ ادیب ہے جو حقیقتاً سماج کی تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالنے کا اہل ہوتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ادب لکھنے کا مسئلہ ۔۔۔ سعید ابراہیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *