موت سے ایک دن پہلے /روبینہ فیصل

18 جنوری اتوار کا دن ۔۔۔اس دن وہ سب تھا جن سے انہیں زندگی میں خوشی ملتی خوش لباس خوش ذوق خواتین کا جھرمٹ ، اچھا کھانا ، لکھنے پڑھنے والے دوست ، ایک نوجوان کا انگریزی میں لکھا اور کینیڈا میں پبلش ہوا ناول ، بڑی ڈائننگ ٹیبل پر ان کے ساتھ صدیقہ تو بیٹھی ہی تھیں ساتھ ٹیبی اور طیبہ بھی تھیں ان چاروں کے آگے دو سالگرہ کیک رکھے ہوئے تھے ایک کیک ان دونوں میاں بیوی کے لیے تھا ۔۔ رشید مغل اور صدیقہ دونوں کے کپڑے بھی گرین تھے اور حیدر صاحب کے لائے ہوئے کیک کا رنگ بھی گرین تھا ۔۔انہوں نے پہلے دوسرا کیک کاٹ دیا پھر اپنے سامنے رکھا کاٹا ۔۔ ساتھ صدیقہ کے لیے کچھ مزاحیہ محبت بھرے جملے کہے ۔۔ ۔
اس دن مرنے سے ایک دن پہلے وہ بالکل وہی ماحول دیکھ کر گئے جو انہیں خوشی دے سکتا تھا ، اپنے جملوں کی ایسی باز گشت چھوڑ کے گئے جنہیں یاد کر کے ان کے جانے کے بعد بھی پہلے ہمارے ہونٹوں کے کناروں سے ہنسی ہی پھسلتی ہے آنکھیں بعد میں بھیگتی ہیں ۔۔ اور یہ بھی ان کی ایک اور دلی خواہش تھی کہ میں جب دنیا سے رخصت ہوں تو پیچھے رہ جانے والے میری بات یاد کریں تو انہیں ہنسی آئے ۔۔۔
وہی اٹھارہ جنوری کی رات ان کی زندگی کی آخری رات تھی ۔ میں نے طیبہ ، ٹیبی ، صدیقہ اور ان کے لیے چھوٹے چھوٹے گفٹس لے کر رکھے ہوئے تھے کہ ان لوگوں نے ہمیشہ میری سالگرہ پر مجھے محبتوں تحفوں سے نوازا ہے ۔ وہ تحائف میں انہیں دینا بھول گئی ۔۔ مجھے بڑا افسوس ہوا میں ، سب کے جانے کے بعد کچن صاف کررہی تھی پھر ایک شادی پر بھی جانا تھا ، سوچا کم از کم ان سب کو فون کر کے بتادوں کہ میں گفٹ دینا بھول گئی ۔۔
انہیں فون کیا تو کہتے ہنی دین آجا ، تو مینو گفٹ دئی میں تیرے واسطے کتاباں کڈ کے رکھیاں ہوئیاں نیں میں تینوں او دیاں گا “
رشید مغل ، کے مزاج میں رومان ، کھلنڈرا پن سب کچھ تھا مگر اس سب کے باوجود وہ بہت منظم انسان تھے ۔۔ مجھے حیرت ہوئی کہ رات کے اس پہر جب اگلا دن ورکنگ ہے اور ان کے گرینڈ کڈز نے سونا ہوتا اور وہ اپنی فیملی لائف پر کبھی بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے ۔۔ یہ انہیں آج کیا ہوگیا کہ اسی وقت بلا رہے ہیں ۔
جب انہوں نے اتنے اصرار سے کہا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے فیصل سے کہا جو بالکل بھی باہر نکلنے کے موڈ میں نہیں تھے ، “ چلتے ہیں ہمت کریں وہ بہت پیار سے کہہ رہے ہیں ۔ ۔ “یوں ہم نے ان کی زندگی کی اس آخری رات ان سے آخری ملاقات جو کہ ان کے اپنے گھر میں ، اپنے ٹھکانے پر ہونی تھی وہ بھی کر لی ۔۔
میں ، ایک زمانے میں میں جب بھی انہیں کال کرتی تھی تو یہی پوچھتی فوت کب ہونا ہے ۔۔ کہتے تیری نظر میریاں کتاباں تے ہے اور بہت اونچا قہقہ لگاتے صدیقہ بھی ہنس دیتیں ۔۔ جاوید چوہدری کے انتقال کے بعد میں نے یہ منحوس لفظ زبان سے نکالنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کے بعد مجھے احساس ہوگیا کہ یوں بھی ہوسکتا ہے جن کے بغیر جینے کا تصور نہ کیا ہو وہ محبت اور احترام دینے والے دوست بھی اکیلا کر کے جاسکتے ہیں ۔ جن سے بات کر تے ہوئے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ مائنڈ کر جائیں گے ۔۔ وہ لوگ یوں خاموشی سے منہ موڑ کے جاسکتے ہیں ۔ میرا کوئی فنکشن کتاب لانچ ہو یا فلم کی سکریننگ ،بچوں کا عقیقہ سالگرہ ہو یا گریجویشن کی تقریب ، نجانے کتنے سالوں سے ہر پل میرے ساتھ ساتھ رہے ہیں بھلا یہ لوگ بھی کبھی جاسکتے ہیں مگر جاوید چوہدری صاحب کے جانے کے بعد میرا دل ڈر گیا تھا ۔۔۔ کہ یہ سب ہوسکتا ہے ۔۔
اس آخری رات وہ مجھے کتابیں دیتے رہے ۔مارگریٹ ایٹ ووڈ کی بالکل نئی کتاب جو ابھی تک خود بھی نہیں پڑھی تھی نارملی مجھے کتاب پڑھنے کے بعد دیتے تھے مگر اس رات ابھی خود بھی نہیں پڑھی اور مجھے دے دی ۔۔ دو کتابوں بارے کہا شروع کی ہوئی ہیں پڑھتے ہی تمہیں دے دوں گا ۔۔
اس رات ہم نیچے بیسمنٹ میں بیٹھے تھے ۔۔ میں صدیقہ اور فیصل صوفے پر بیٹھے باتیں کرتے رہے ، وہ بیٹھے نہیں ، مسلسل ادھر اُدھر گھومتے رہے ۔۔ بے چین ،پرجوش ، مگر بیٹھے نہیں ایک پل بھی نہیں ۔۔ صدیقہ مجھے اپنی بہن کی بیماری بارے بتا رہی تھیں انہیں درمیان میں بار بار ٹوک رہے تھے ۔۔ اور یہ ہم تینوں کی بات کرنے کی روٹین تھی ۔۔ میں اور صدیقہ کبھی ان کی مداخلت کے بغیر بات مکمل نہیں کر سکتے تھے ۔۔ بلکہ ہم تینوں کو اسی طرح بات کرنے کی عادت تھی ۔ فون ہو یا آمنے سامنے کبھی کسی کی بات اکیلے پوری نہیں ہوتی تھی درمیان سے ہی فقرہ اچک لیا جاتا تھا ۔۔ اور ہم دونوں بھی ان کے ساتھ یہی کرتی تھیں۔ اب نجانے ہم ان کے بغیر مکمل جملوں کے ساتھ بات کیسے “مکمل “کیا کریں گی ؟
رشید مغل نے اپنے علم اور نالج کے باوجود کبھی سامنے بیٹھ شخص کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ علمی لحاظ سے کتنے برتر ہیں ۔ ہمیں عاجزی سے ، مذاق سے ، عام گفتگو کے ذریعے بڑی بڑی باتیں سکھا گئے ۔ اس آخری رات جس خلوص سے وہ مجھے کتابیں دے رہے تھے، مجھے اتنے اپنے ، اتنے پیارے لگے میں نے اٹھ کر انہیں تھینک یو کہا اور ہگ کیا اس لمحے کو میں سوچ رہی تھی کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی میں ایسے قابل اور محبتی لوگ ہیں شائید اسی لمحے مجھے میری ہی نظر لگ گئی ۔
کچھ دن پہلے ہی مجھے کہہ رہے تھے” اڑئیے ہن توں بہت اوتے اڈ گئی ایں سب نوں پچھے چھڈ دتا لوکی ہن تیرے تو سڑن لگ گئے نیں ۔۔ “
میری ہر اچیومنٹ کو اپنی سمجھتے تھے ۔ اور مجھے بھی وہ دن یاد آتے ہیں ، جب ہم ٹم ہارٹنز میں ملا کرتے تھے ، میرے وہ بہت ڈپریشن کے برے دن تھے ، تب مجھے بہت ڈانٹا کرتے تھے کہا کرتے تھے تم کہانیوں کے کنوئیں پر بیٹھی ہو اور انہیں لکھنے کی بجائے ڈپریشن میں جا رہی ہو ۔۔ انہی دنوں میں نے کتابوں کی باتوں کے علاوہ بھی ان سے بہت کچھ سیکھا ،
دن کو کیسے گھنٹوں میں تقسیم کر نا ہے ، چھوٹے بچوں کے ساتھ رائٹنگ کیسے کرنی ہے، مائی سپیس کیا بلا ہو تی ہے ، پیسے کے معاملات میں وزڈم سکھاتے ہوئے اپنی امی کی مثال دیتے کہ انہوں نے ہر بچے کے اخراجات کے لئے جوتوں کا ایک ایک ڈبہ رکھا ہوتا تھا ۔۔
غیر روایتی ہونے کے باوجود وہ روایتی تھے ۔۔
ان کی legacy ہی یہی ہے کہ کیسے شادی شدہ زندگی ، بچوں اور دوسری زندگی ادبی ہو یا کوئی اور انہیں متوازن کر کے کیسے چلا جا سکتا ہے ۔ شادی کا گہرا فلسفہ انہوں نے مجھے ایک دائرہ کھینچ کر سکھایا کہ “ویکھ میں صدیقہ نوں کیا توں مینو بدلن دی کوشش نہ کریں میں تیرے مذہب روایت سب نوں اونج ای رہن دینا اے ۔۔ اے تیرا دائرہ اے میرا ۔۔ اپنے اپنے دائرے وچ چلتے ہوئے اسی بوہت سوہنا سفر طے کر سکدے آں ۔۔۔ “
ان کی لیگیسی میں علم کے ساتھ ساتھ محبت بانٹنا بھی ہے ۔۔ مسکرانا ہنسنا لطیفے سنانا ۔۔ چھوٹوں بڑوں سب کو اجازت دینا کہ وہ ان کا مذاق اڑا بھی سکیں ۔۔
وہ جب گانا گاتے مجھے گانا اچھا نہ لگتا تو میں جھٹ سے کہہ دیتی “توبہ اتنا بے سرا گاتے ہیں “۔۔ پھر سے قہقہ لگا دیتے ۔۔ کبھی مائنڈ نہیں کیا ۔۔ صدیقہ کے بغیر کوئی انوائٹ قبول نہین کرتے تھے ۔۔ مجھے کہتے ؛”پتہ نہیں پاکستانی مرداں دا کی مسئلہ اے اپنیاں زنانیاں سامنے میسنے بنے رہندے نیں میں تے صدیقہ نوں ہر جگہ نال نال رکھدا واں ۔۔ جو کر نا اسے پتہ ہو ۔۔ “
صدیقہ بہت پیاری خاتون ہیں میں انہیں کہا کرتی تھی انہی کا حوصلہ ہے کہ آپ کو برداشت کرتی ہیں ۔۔ آج سوچتی ہوں ایسی کھری کھری باتیں تو اب ہم سکول فرینڈز کے ساتھ بھی نہیں کر سکتے ، مذاق کو مائنڈ کرنا اور دل ہی دل میں اپنے ہی مطلب بنا لینا ، لوگوں کی اس عادت نے مجھے اتنا خوفزدہ کردیا ہے کہ میں جسے بالکل بھی سوچ کر بولنے کی عادت نہیں تھی اب ان کے جانے کے بعد اور بھی ڈر گئی ہوں کہ میرے لاڈ اٹھانے والے ، مجھے سمجھنے والے تو ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑ تے جا رہے ہیں ۔۔
اس آخری رات حیدر صاحب کو سات ڈالرز دینے تھے وہ سکے میرے ہاتھ پر رکھے ، فیصل کو قصائی کی ٹوپی دی کہ میں اسے ہر سال دیتا ہوں گم کردیتا ہے تو جائیے گا تے دے دئییں ۔ اگلے ہی دن جب وہ مر ہی گئے تو مجھے خیال آیا وہ قصائی تو ان کے گھر کے زیادہ قریب تھا تو فیصل کو کیوں ٹوپی دی ۔۔
سات ڈالرز پکڑا کر بھی ہاتھوں کو جھاڑا اور کہا میرے ذمے ہن کچھ نہیں ۔۔
انہوں نے جانا تھا اس کی خبر نہ ان کو تھی نہ ہمیں
پھر بھی اس آخری ملاقات کا سوچوں تو لگتا ہے جیسے انہیں بھی ، مجھے بھی بلکہ ہم سب کو پتہ تھا کہ یہ الودعی ملاقات ہے ۔۔ ورنہ اس آخری دن یہ سب چیزیں اس ترتیب سے کیسے ہوتیں ۔۔
انہیں نوٹ بک میں ایک ایک چیز لکھنے کی عادت تھی ۔ مجھے بتایا کرتے تھے کہ صبح اٹھتے ہی میں نے سارا دن کیا کیا کرنا ہے ایک ایک چیز اس میں لکھ لیتا ہوں ۔۔ مجھے یقین ہے سوموار انیس جنوری کو بھی صبح اٹھ کر انہوں نے اپنی نوٹ بک میں پورے دن کا دائرہ بنایا ہوگا اور موت کا وقت لکھتے ہوئے فرشتے کی طرف دیکھ کر مسکرائے ہوں گے ۔۔ آنکھوں میں شرارت بھری ہوگی اور اسے چھیڑتے ہوئے کہا ہوگا “ تینو بڑی چھیتی اے “ ایک لمحے کو صدیقہ کے اکیلے رہ جانے کا غم ستایا ہوگا پھر قہقہ لگا کر کہا ہوگا “ اے ہن بڑی تیز ہو گئی اے میرے بغیر رہنا سکھ جایے گی ۔۔۔۔”
اس کے بعد اپنے انک والے پن کو نفاست سے جیب میں رکھا ہوگا ۔۔ اور زندگی کے آخری دن کو بھی ضائع نہ کرنے کا فیصلہ کر کے یونیورسٹی کی طرف سیکھنے سکھانے کو نکل گئے ہوں گے ۔۔۔
قبر تک علم حاصل کرنے کا عملی سفر دیکھنا ہو تو رشید مغل کی زندگی کو دیکھو ۔۔۔ وہ ، خوشی اور محبتوں کے ساتھ جئے
اور آخری دن تک قدرت نے ان کی یہ رسم ٹوٹنے نہیں دی ۔۔
“رشید مغل !! ہم آپ کو اپنی زندگی کی آخری سانس تک یاد رکھیں یہ انتظام بھی آپ خود ہی کر کے گئے ہیں ۔
ہم آپ کو کبھی بھی الواداع نہیں کہیں گے ۔۔
“ہن سانو تہاڈی عات پے گئی اے ۔۔”

Facebook Comments

روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply