کراچی(قسط3)۔۔مشتاق خان

SHOPPING
SHOPPING

کراچی (پارٹ 3) تمام بہن بھائیوں کا بہت شکریہ جنہوں نے میری تحریر کو پسند کیا اللہ تعالی ان سب کو مزید صبر اور حوصلہ عطا فرمائے آمین ۔ پیش خدمت ہے میری کراچی تحریروں کا تیسرا حصہ۔ کراچی میں سمتوں کا کوئی عجیب مسئلہ ہے آپ نارتھ کراچی سے ناک کی سیدھ میں کسی بھی طرف چلے جائے مزار قائد ہی آئے گا لیکن اس سے آگے سمندر کس طرف ہے کہاں ہے یہ ایک مشکل کام ہے اس مرحلہ میں جدید آلات بھی کام نہی کرتے رش اور اینگزائٹی آپ کو قابو کر لیتی ہے اور دماغ صرف اس کام پر لگ جاتا ہے کونسا راستہ خالی ہے آگے بڑھنے کو بحرحال پوچھ پوچھ کے شام سے پہلے سمندر پر پہنچ ہی گئے ۔ بیگم میری تنقیدی فطرت کو بہت سمجھ چکی تھی تو سیدھا سی ویو پارک کے اندر لے گئی بہت صاف ستھرا پارک تھا کافی چائے دہی بھلے چپس سب بہتر تھے وہاں سمندر کے ساتھ بنی پتھر کی دیوار پر بیٹھ کے سورج کا پانی میں ڈوبنا اور ان چند لمحات میں سب کا سیل فونز سے اس منظر کی تصاویر لینا یہ ایک شاندار یاد ہوتی ہے میرے جو بھائی بہن باہر سے کراچی آئے ان کو یہی مشورہ ہے کے اس پارک میں ہی جائے سیدھا کیونکہ اس پارک میں پتھر کی دیوار پر بیٹھ کے کراچی کی طرف آپ کی پشت ہو جاتی ہے آپ کی نظر بہت پاس سمندر کے گندے پانی پر بھی نہی پڑتی بلکہ آپ کو سمندر کی وسعت اور سورج کے غروب ہونے کے منظر کے علاوہ کچھ محسوس ہی نہی ہوتا۔ واپسی پر اندھیرے کی وجہ سے بہت زیادہ بھٹکے بحرحال کسی نا کسی طرح گھر پہنچ ہی گئے کراچی میں نئے آنے والے لوگوں کو میرا یہ بھی مشورہ ہے کے کہیں جاتے ہوئے اگر بہت زیادہ رش آجائے تو پریشانی میں کسی خالی شاہراہ پر ہرگز نا جائیں کیونکہ وہ رش والا راستہ ہی آپ کا راستہ ہوتا ہے اور کوئی بھی یو ٹرن کسی سے پوچھے بغیر نا لیں کیونکہ ایک غلط یو ٹرن آپ کو ایک گھنٹہ تک مزید گھما سکتا ہے سڑکوں پر ۔ کراچی میں میری پہلی شاپنگ صائمہ پری مال تھی اور اس کے نام کو دیکھ کے کتنی دیر سوچتا رہا کے یہ صائمہ واقعی کوئی پری ھے یا کسی کی بیٹی یا بیوی یا بہن ھے جس نے اس سے پیار میں اتنی پیاری بلڈنگ بنائی اور اس کا نام بھی لکھا ھے اس پر بہت پیار آیا صائمہ پری پر کسی نے کہا کے یہ پری نہی پاری ہے لیکن میرا خیال ہے کہ کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت پری کو پاری لکھا گیا ہے کیونکہ پھر جوں جوں کراچی دیکھتا گیا تو ایسا لگا کے کراچی کی ہر بڑی بلڈنگ پر یہی نام لکھا ھے حتی کے اس پری کے نام پر بڑے بڑے ہاوسنگ پراجیکٹ بھی ہیں جیسے کہ صائمہ عریبین ولاز وغیرہ اور ایسی ایسی جگہ اس پری کی بلڈنگز دیکھی کے اس کے آس پاس سب بلڈنگز کو غیر قانونی قرار دیکر گرا دیا گیا لیکن اس پری کی بلڈنگ کی خاطر مصروف شاہراہ کو بھی دو میں تقسیم کرکے اس بلڈنگ کو بچایا گیا ہے اتنی ساری بلڈنگز اور دیو مالائی ہاوسنگ پراجیکٹس کی منی ٹریل کا نا پوچھا جانا بھی اس بات کو تقویت دیتا ہے کے اس کی مالک کوئی پری ہوگی کوئی کہہ رہا تھا کے یہ کسی پری کے نہی بلکہ کسی وزیر کے ہیں سب جس کی سمندر کی لہریں گننے کی ڈیوٹی تھی اور وہ جہازوں کو روک لیتا تھا کے آگے جانا ھے تو پیسے دو باقی یہ سب میرا قیاس یا سنی سنائی باتیں ہیں اور سچ اللہ ہی بہتر جانتا ھے ۔ کراچی میں ایس بی سی اے ، کے ڈی اے ، پورٹ اینڈ شپمنٹ پولیس کسٹم اور بڑے بڑے بھائی لوگوں کی شاپنگ کے لئے علیحدہ شاپنگ مال ھے جس کا نام ڈولمن اور لکی ون ھے وہاں آپ کو ہر چیز فرانس جرمنی لندن اٹلی دبئی کی قیمت پر ملے گی میری نظر اور عقل وہاں موجود چیزوں کی قیمتیں دیکھ بہت پریشان رہی کیونکہ وہاں موجود شرٹس اور جینز اور ڈریسز پچیس تیس ہزار سے شروع ہوکر دو تین لاکھ تک بھی جارہے تھے جبکہ لگتے یہ سب کپڑے سیکنڈ ہینڈ ہیں تو مجھے یہی سمجھ آئی ہے کہ ان کپڑوں کا اتنا مہنگا ہونے کی وجہ بھی یہی ھوگی کہ یہ لنڈے میں موجود کپڑوں کی طرح عام غریب انگریزوں نے نہی پہنے ھوتے بلکہ ان کپڑوں کو یورپ کے ایلیٹ کلاس کے انگریزوں نے خوب اچھے سے پہن پہن کر ان میں قابلیت اور خوبصورتی داخل کی ہوتی ہے اور پاکستان کی ایلیٹ کلاس اسی قابلیت کو اپنے اندر اور اپنے بچوں کے اندر بڑھانے کے لئے یہ امپورٹڈ کپڑے پہنتے ہیں ۔ کراچی کے لوگ کسی نا کسی آسیب کے زیر اثر ضرور ہیں میں نوٹ کیا ھے کے دہائیوں سے ہمسائے بھی ایک دوسرے کو ملنا پسند نہی کرتے جب تک کوئی مفاد آڑے نا آجائے حتی کے ایک دوسرے کی فیملی ممبران کے نام بھی نہی جانتے یہ لوگ مجھے بھی اپنے ہمسائے کا نام اور اس کے بچوں کے نام صرف اس لئے یاد ہیں کہ ان کی بیگم کی آواز بہت گرجدار ہے اور اپنے میاں جو کے سارا دن نیچے سڑک پر اپنی گاڑی کو ٹھیک کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچوں کو تقریبا سارا دن آوازیں دیتی رہتی ہیں ۔ لاہور میں ھم لوگوں پر تقریبا یہ فرض یا کم از کم واجب ھے کے ہر نماز کے بعد اپنے دائیں بائیں کے نمازی اور اپنے بزرگ نمازیوں سے ہاتھ ملا کر مسجد سے نکلیں یہاں ہر نمازی ایسے بیٹھے ھوتے ہیں جیسے سب کسی علیحدہ علیحدہ سیارے تشریف لائے ہیں ۔ انشاءاللہ سلسلہ جاری رہے گا

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *