• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ جھڑپوں میں فاتح کون؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ جھڑپوں میں فاتح کون؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حالیہ جھڑپوں کے خاتمہ کے بعد اپنی فتح کا اعلان کیا ہے جبکہ حماس کے لیڈران اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ فلسفہ اور منطق کے اپنے کئی ہمہ جہتی ظاہری و باطنی پہلو ہوتے ہوں گے اور ہر دو فریقین ان زاویوں سے اپنے مقاصد کے حصول کو اپنی فتح سمجھتے ہوں گے۔ گزارش مگر یہ ہے کہ جو سامنے نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان 11 روزہ طویل جھڑپوں میں 260 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے جن میں 70 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے صرف غزہ کے علاقہ میں 30 صحت کے مراکز کو تباہ کیا جس میں ایک مکمل بڑا ہسپتال بھی شامل تھا۔ غزہ کے علاقہ میں شاید ہی کوئی ایسی بلڈنگ باقی رہی ہو گی جو اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے تباہ نہ ہوئی ہو یا اسے شدید نقصان نہ پہنچا ہو۔ یونیسیف کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد حماس کے اس زیر انتظام علاقے میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ آٹھ لاکھ لوگ پائپ سے ملنے والے پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف ایک درجن کے لگ بھگ اسرائیلی شہریوں کی موت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جن میں ایک اسرائیلی فوجی بھی شامل ہے۔ فلسطینی حریت پسندوں نے اس 11 روزہ جنگی جھڑپوں کے دوران ہزاروں دیسی ساختہ میزائل پھینکے جن کی اکثریت کو اسرائیلی نظام دفاع نے ناکام بنا دیا اور شاید ہی 20٪ سے 25٪ ایسے میزائل ہوں گے جو اسرائیل میں گرے ہوں۔ اسرائیل میں لازمی ہے کہ ہر گھر اور عمارت میں آہنی زیر زمین بکتر ہوں جنہیں میزائیل اور گولہ باری سے نقصان نہ پہنچے۔ اسرائیل میں کوئی ایسا گھر بھی نہیں ہے جس میں سے کوئی نہ کوئی فوجی خدمات سر انجام نہ دے چکا ہو۔ فرسٹ ایڈ میں تقریباً اسرائیل کی آدھی آبادی ماہر ہے۔ صحت کی سہولتیں دنیا بھر میں سب سے اونچے درجے کی ہیں۔ شاید ان جنگی جھڑپوں کے نتیجہ میں اسرائیل کا معاشی نقصان ہوا ہو لیکن مضبوط اسرائیلی اقتصادیات کی وجہ سے وہ یہ نقصان جھیل سکتا ہے اور اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو امریکہ بہادر سمیت دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کی مالی مدد کے لئے ہمہ وقت حاضر و ناظر رہتے ہیں۔

حماس کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا ہے کہ اس تنازعہ نے غزہ اور اسرائیل کے مابین پُرامن تعلقات کے تصور کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے سیزفائر کا اعلان فلسطینی عوام کی ’فتح‘ کے مترادف ہے اور یہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی شکست کا غماز ہے۔ حماس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے ‘شیخ جراح اور مسجد الاقصیٰ سے اپنا ہاتھ اٹھانے’ کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وہ تاریخی مسجد اور یروشلم کا ضلع ہے جہاں سے فلسطینی خاندانوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالنے کی وجہ سے یہ 11 روزہ طویل جنگی جھڑپیں شروع ہوئیں۔ سیز فائر نافذالعمل ہوتے ہی فلسطینیوں نے غزہ کی سڑکوں پر آ کر ‘اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے اور خوب جشن منائے۔

دوسری طرف اسرائیل نے حماس کے دعویٰ کے برعکس ایسے کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے کہ وہ شیخ جراح اور مسجد الاقصیٰ سے ہاتھ اٹھائے گا۔ ملک کے وزیرِ دفاع بینی گینٹّز نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 11 روز کے دوران اسرائیل ایسی فوجی کامیابیاں دکھا سکتا ہے جو ‘غزہ میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد میں دفاعی اہمیت کے اعتبار سے مثالی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے 21 مئی کی اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ “جب ہم نے اپنی مہم کا آغاز کیا تو اس کے بنیادی مقاصد یہ تھے ۔۔اولاًدہشت گرد تنظیموں کو سخت دھچکا مارنا، ثانیا” ان کی صلاحیتوں اور انفراسٹرکچر کو مجروح کرنا اور ثالثاً ً ان کے یہاں عدم استحکام قائم کرتے ہوئے اپنے پاس پرسکون بحالی کرنا۔ بالکل وہی ہم نے کیا۔ ابھی تک عوام کو سب کچھ معلوم نہیں ہے، لیکن ہماری کامیابیوں کا مجموعہ وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوگا۔ جو تھا، اب نہیں ہوگا”۔

Advertisements
julia rana solicitors

دونوں اطراف پر میزائلوں اور دھماکوں کے باعث متاثر ہونے والے افراد یا ان کے باعث ہلاک ہونے والوں کے خاندان فتح کا اعلان نہیں کر رہے ہیں۔ اس جنگی تنازعہ کے باعث سب سے زیادہ اموات اور زخمی افراد غزہ کے فلسطینی ہیں اور وہاں املاک کی مد میں کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ حماس کے سنہ 2007ء میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد سے ایسے تنازعات کے اختتام پر دونوں ہی اطراف سے فتح کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چوتھی بڑی لڑائی تھی۔ سب سے پہلی مرتبہ دونوں سنہ 2008ء میں آمنے سامنے آئے تھے۔ ان تمام لڑائیوں اور چھوٹی جھڑپوں کے بعد دونوں اطراف سے ہی فتح کا اعلان کیا جاتا رہا ہے اور پھر اس سے اگلے تنازعہ کے بیج بھی بو دئیے جاتے ہیں۔ البتہ اس مسئلہ پر 3 دہائیوں سے نظر رکھنے کے بعد راقم یہ ضرور دعویٰ کر سکتا ہے کہ اگر دنیا نے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلہ کا مستقل حل نہ ڈھونڈا اور یہی جنگ بندی جیسا “سٹیٹس کو” برقرار رہا تو جنگی جھڑپوں کی ایک اور لہر سامنے آئے گی جس میں دوبارہ معصوم شہری مارے جائیں گے جن کی اکثریت پھر سے فلسطینیوں کی ہی ہو گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply