مہنگائی لفظ ہی ایسا ہے جو بصارتوں سے ٹکرانے کے بعد اعصاب میں لرزش پیدا کر دیتا ہے۔ پریشانی کے عالم میں مبتلا کر دیتا ہے۔چیخنے چلانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ لفظ اپنے اندر خوف و ہراس اور وہم و گمان کی پرتیں رکھتا ہے۔دنیا میں وقت کے ساتھ جیسے جیسے روپے پیسے کی مانگ میں اضافہ ہوا۔اس کی پرورش بھی معاشرے میں اسی تیزی سے ہوئی ہے بلکہ اب تو لوگ اس لفظ کو سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے اور اپنی زبان سے ہائے ہائے جیسے کلمات صادر کرتے ہیں۔ یہ غیر فطری شرح پہلے تو سال بعد نمودار ہوتی تھی مگر اب کم بخت ہر روز دل و دماغ پر زور زور سے دستک دینے لگی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے ایام میں اتنی زیادہ مہنگائی پہلے کبھی نہیں دیکھی جتنی عصر حاضر نے اس کا وزن اب ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے۔ہاتھ میں بھوک و پیاس کا کشکول تھما دیا ہے۔
محکمے پرائیویٹیزیشن کی نظر ہو رہے ہیں۔ ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے پینشن سسٹم ختم کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹیز میں داخلوں کی شرح میں خاطرخواہ کمی آئی ہے۔ اب معاملہ تعلیم اور ہنر کے درمیان شدت اختیار کر گیا ہے۔ جیت کا جشن کون منائے گا ؟ علم یا ہنر۔اس بات کا فیصلہ ضرورت ایجاد کی ماں کے تحت کیا جائے گا ۔لیکن معاشرے میں ہنر مند انسان شکست نہیں کھاتا۔وہ بے روزگار نہیں رہتا بلکہ کسی نہ کسی صورت میں رزق روٹی کما لیتا ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ بھر لیتا ہے۔ غربت سے جان چھڑا لیتا ہے۔ اب عصر حاضر میں تعلیم یافتہ لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے جگہ جگہ ذلت اٹھا رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ بھوک اور پیاس نے انھیں ایسے ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو انسان کی شان کے خلاف ہے۔ اسی طرح حالات کے دوسرے رخ ڈیجیٹل مافیا اس قدر سرگرم ہے جیسے پانی میں بجلی کا کرنٹ۔یہ مافیا آن لائن فراڈ میں شب و روز مصروف رہتا ہے۔ بیچارے لوگ سادگی میں ہی لٹ جاتے ہیں۔ہر سو معاشرے میں بے یقینی کی دھند چھائی ہوئی ہے۔
حکومتی دعوے اپنی جگہ سہی لیکن ذخیرہ اندوزوں نے تو حد ہی ختم کر دی ہے۔ حکومت کی طرف سے ریٹ لسٹ کوئی جاری ہوتی ہے دکاندار چیزوں کو کسی اور داموں بیچ رہا ہوتا ہے۔راتوں رات امیر ہونے کے خواب غریبوں کے خون چوس کر پورے کیے جاتے ہیں۔ویسے بھی کسی کو کسی سے کیا لگے۔ ہر طبقہ اپنی اپنی ذات کا طرف دار ہے۔ مہنگائی کی شرح نے ایک غریب کی جو حالت کر دی ہے۔ وہ سو کوڑوں سے زیادہ دردناک ہے۔اسے سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دنیا میں بڑھتے ہوئے طبقاتی نظام نے امیر و غریب کے درمیان ایسے فاصلے بڑھا دیے ہیں جیسے آسمان زمین سے بلند ہے۔پاکستان میں بے روزگاری کی شرح نے نوجوانوں کو کشکول پکڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات لاکھوں روپے سمسٹر فیس ادا کر کے جب نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں۔تو انہیں تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر مافیا ماہوار تنخواہ اٹھارہ ہزار روپے کی پیش کش کرتا ہے، جب کہ حکومت پنجاب نے کم از کم چالیس ہزار روپے اجرت مقرر کی ہے ۔پچیس کروڑ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی شاہی طبقہ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہے باقی مجبوریوں کے ہاتھ پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔ چور بازاری کا یہاں یہ عالم ہے کہ راتوں رات آٹا مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ عدم دستیابی کا ہارن بجا دیا جاتا ہے۔عوام تو پہلے ہی غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ایک غریب جب بازار میں اشیائے خورد و نوش خریدنے کے لیے نکلتا ہے ، تو چیزوں کے ریٹ سن کر اس کے جسم و روح میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر روز اخبارات اور جرائد و رسائل چیخ چیخ کر ہماری توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں کہ مہنگائی سر اٹھا چکی ہے۔اس کا سر قلم کر دو ورنہ یہ عوام کا سر نیچے کر دے گی۔ حتی المقدور ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
آئی ایم ایف کے قرضوں اور حکومت پالیسیوں نے پچیس کروڑ عوام کے گلے میں ایک کشکول ڈال دیا ہے۔بلوں کی مد میں لیا جانے والا زائد ٹیکس اور ہر چیز پر ٹیکس کے اثرات عذاب اور تیزاب کی طرح تکلیف دیتے ہیں۔ جو نہ تو جسم سے ختم ہوتے ہیں اور نہ روح سے۔ یہ مسئلہ ہر اس شخص کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو غربت کی خاک چاٹ رہا ہے۔
ملک بیرونی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔عوام بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔کوئی دل بڑا کر کے حکومت پر تنقید کر لیتا ہے اور کوئی خاموشی کا روزہ رکھ لیتا ہے۔سفید پوش طبقہ ایسی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہے ، جسے دور سے ہی دیکھ کر سمجھا جا سکتا ہے۔ قوانین میں ترمیم کر کے عوام کو بند کوٹھڑی میں قید کر دیا گیا ہے۔نہ تو وہ بیچارے آواز بلند کر سکتے ہیں اور نہ ان کی شنوائی ہوتی ہے۔ محکموں کے اصول و ضوابط اس قدر پائیدار ہیں کہ کوئی ان سے ٹکرا نہیں سکتا۔اگر ٹکرائے گا تو گر کر مر جائے گا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کہاں جائیں؟
کس سے منصفی چاہیں؟
کس کے سامنے اپنا رونا دھوئیں؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں