لیڈر بننے کا سفر دیانت: اعتماد کی اصل بنیاد(3)-مصور خان

قیادت کا سب سے نازک اور فیصلہ کن امتحان دیانت ہے۔ وژن مستقبل کی تصویر دکھاتا ہے اور کردار انسان کی اخلاقی ساخت بیان کرتا ہے، مگر دیانت وہ عملی حقیقت ہے جس پر عوام کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔ ایک لیڈر کی اصل پہچان اس وقت بنتی ہے جب اختیار اس کے ہاتھ میں ہو اور وہ اس اختیار کو ذاتی مفاد کے بجائے امانت سمجھے۔
دیانت کا مطلب صرف مالی بدعنوانی سے بچنا نہیں، بلکہ سچ بولنا، وعدہ نبھانا، اور مشکل حالات میں بھی حقیقت سے منہ نہ موڑنا ہے۔ ایک لیڈر اگر طاقت کے دباؤ، مقبولیت کے خوف یا نقصان کے اندیشے میں سچ چھپا لے تو وہ دیانت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اعتماد تقریروں سے نہیں، دیانت دار رویّے سے پیدا ہوتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دیانت کا کامل نمونہ ہے۔ نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی آپ ﷺ “امین” کے لقب سے پہچانے گئے۔ امانت خواہ دوست کی ہو یا دشمن کی، اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ یہی غیر معمولی دیانت تھی جس نے مخالفین کو بھی سوچنے پر مجبور کیا اور قیادت کو اخلاقی بلندی عطا کی۔ یہاں دیانت کوئی وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ مستقل طرزِ زندگی تھی۔
ہندوستان میں لال بہادر شاستری دیانت کی ایک خاموش مگر مضبوط مثال ہیں۔ سادگی، شفافیت اور ذاتی مفاد سے بے نیازی ان کی قیادت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ان کے دور میں اقتدار نمائش نہیں بلکہ ذمہ داری محسوس ہوتا تھا۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ دیانت بلند آواز تقاریر کی محتاج نہیں ہوتی، وہ رویّوں سے پہچانی جاتی ہے۔
لاطینی امریکا میں خوسے موخیکا (یوراگوئے) جدید دور میں دیانت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ صدارت کے باوجود سادہ زندگی، سرکاری مراعات سے انکار اور عوام کے وسائل کو ذاتی فائدے سے دور رکھنا ان کا امتیاز تھا۔ ان کی قیادت نے یہ پیغام دیا کہ دیانت جدید سیاست میں بھی ممکن ہے، اگر نیت صاف ہو۔
یورپی تاریخ میں تھامس مور کی مثال دیانت کے باب میں غیر معمولی ہے۔ انہوں نے اقتدار، عہدہ اور حتیٰ کہ جان کی قربانی دے دی، مگر اپنے ضمیر کے خلاف جانے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دیانت محض اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اخلاقی جرات بن جاتی ہے۔
ایشیا میں کوریا کے سابق صدر کم ڈے جونگ نے سیاسی انتقام اور ذاتی مفاد کے بجائے شفافیت اور مصالحت کو ترجیح دی۔ طویل قید اور جلاوطنی کے باوجود اقتدار میں آ کر انہوں نے وعدوں سے انحراف نہیں کیا۔ ان کی دیانت نے ثابت کیا کہ اقتدار ملنے کے بعد بھی اصول قائم رکھے جا سکتے ہیں۔
دیانت کی کمی قیادت کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عوام کمزور فیصلے معاف کر سکتے ہیں، مگر دھوکے کو نہیں۔ ایک بار اعتماد ٹوٹ جائے تو لیڈر کی ہر بات شک کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ اسی لیے تاریخ میں بہت سے طاقتور حکمران مٹ گئے، مگر دیانت دار رہنما زندہ رہے۔
آج کے دور میں اصل سوال یہ نہیں کہ لیڈر کتنا ذہین ہے یا کتنا مقبول، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شفافیت، جواب دہی اور سچائی اگر قیادت کا حصہ نہ ہوں تو ترقی اور استحکام محض دعوے بن کر رہ جاتے ہیں۔
اقتدار عارضی ہے، مگر دیانت مستقل پہچان ہے۔ دیانت اعتماد کی اصل بنیاد ہے، اور اعتماد کے بغیر قیادت صرف ایک نام رہ جاتی ہے۔ یہی وصف ہر لیڈر کو تاریخ میں یادگار بناتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply