ننانوے خوابوں کا گیت۔ ریسائٹل کی شام99 سالہ بوڑھا سٹیج پر گٹار بجا رہا تھا۔
اس کی 89 سالہ بیوی ایسی قوت سے گا رہی تھی جیسے وہ اٹھارہ سال کی لڑکی ہو۔
طویل قامت ننانوے سالہ بوڑھا بچوں کی ریسائٹل شام میں ننانوے خوابوں کا گیت بن رہا تھا۔
ننانوے سن کے بوڑھے کی آ نکھیں جھکی ہوئی تھیں ۔
مسکراتا چمکتا چہرہ اور بند آنکھیں شاید وہ اپنی زندگی کے ننانوے خوابوں کو جمع کرنے کی دھن بجا رہا تھا ۔
خاموش ننانوے خوابوں کا گیت کار آخری خواب سے پہلے شاید مر جاتا اور دھن مکمل نہ ہوتی۔
عمر رسیدہ بیوی پوری قوت سے گلے سے اس کی دھن کاساتھ دیتی رہی۔
ابھی ڈرم پیٹنے والے نے زور سے ڈرم پر سٹک چلائی ننانوے خوابوں والا بوڑھا
ایک دم آنکھیں کھول کر آخری تار کو جھنجھوڑ کر ایسا جاگا جیسے ایک سو خوابوں کی تعبیر مل گئی ہو۔
وہ مسکرانے لگا اور گانے لگا اب اس کی نحیف ٹانگیں بھی تال پر تھرکنے لگیں ۔
ننانوے خوابوں کا گیت کا ننانوے سالہ بوڑھا ابھی تو طفل مکتب تھا
پورے ایک سو خوابوں کی تعبیر پر دھن بجاتا بجاتا کنڈر گارٹن کا بوڑھا امیدوں بھرا بچہ۔
سر پر رنگین ہیٹ لئے ایسے جیسے کسی ماں نے ننھے کنڈر گارٹن بچے کو سردی سے بچانے کے لئے گرم اونی ہیٹ رکھ دیا ہو۔
سامنے بیٹھا چالیس سالہ آدمی شمالی امریکہ کا دہقان اپنے بچے کی باری آنے کا منتظر
سرخ سفید رنگت اس کے معصوم گالوں کی ابھری ہڈی اس کے بچے کے معصوم ہونے کی گواہ تھی۔
ابھی تو اس کے صرف چالیس خواب ہی جمع ہوئے تھے۔
اس کے ایک سو سال کے خواب اس کے بچے کے پاس تھے۔
یقیناََ اس کا بچہ معصوم ہوگا تبھی تو ماحول میں اس کے گالوں کی ابھری ہڈی کے لئے ہمدردی تھی۔
صادقہ نصیر
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں