بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط12)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

شام کو باپ بیٹا بی بی پاکدامن کے مزار پہ  حاضری دینے گئے ۔ وہاں باوا جی نے چادر چڑھائی ، اصغر نے زائرین میں نیاز تقسیم کی ، باوا جی نے نوافل پڑھے، زیارت معصومین پڑھی تو وہاں موجود لوگ ان کی اقتدا میں صلوات و سلام پڑھتے شریک ہو گئے، اصغر نے سرائیکی کا ایک بند پڑھا تو سامعین کے اصرار پر اسے بارہا دہرایا۔ رقت اور کُرلاٹ سے مجلس کا سماں بندھ گیا۔ باوا جی نے دعا کرائی، اور رخصت ہوئے۔
ہوٹل پہنچے ۔ ۔منہ ہاتھ دھو کے ڈنر کیا۔ ساجد کو بلا کے پیکنگ کی ، صبح کے سفر کی تیاری کر کے سوئے۔
باوا جی گرچہ بہت تھک گئے تھے لیکن نیند بہت دیر میں آئی۔ وہ گاؤں میں اصغر کو جس روپ میں اب متعارف کرانا چاہتے تھے اس کے منظر سوچتے رہے، رد عمل کیسے ہو گا یہ فکر بھی جاگزیں تھی،اصغر نے جیپ کا فیول ٹینک فل کرا لیا تھا، ساجد کو یہ کہہ دیا کہ صبح اٹھ کے اسے اچھی طرح صاف کر لے۔۔

نئی قسط:

باوا وقار شاہ ایک ہمہ صفت،ہمہ جہت، زیرک، مجذوب اور آبائی  روحانی شرف کی وارث شخصیت تھے,دس سال کی عمر تک اپنی دادی اور والد سے گھر میں دینی تعلیم حاصل کی، میٹرک کرتے بیس سال کے ہو گئے،اگلے دس سال فوج میں ملازمت کی، جو دراصل مجاہدہ اور چلہ کشی تھی، گدی کے جانشین بنے تو شادی جلدی ہو گئی والد باوا فضلشاہ کی وفات پر گدی نشین ہوئے تو علاقے میں محترم ترین ہستی گردانے جاتے تھے۔ دربار، خاندان کی دیکھ بھال کے ساتھ بڑی زمینداری ، مربعہ، گھوڑے پالنے جیسے دنیاداری امور میں قد آور مقام تھا۔

تین بیٹے متضاد مزاج اور وراثت کے حامل تھے، اکبر شاہ مجذوب مزاج اور گدی کے جانشین، جعفر شاہ اتھلیٹ پڑھائی  میں لائق اوراب فوج میں افسر تھے، اصغر شاہ میں دونوں مزاج مخفی رہے، جن کی جھلکیاں اب نمودار ہو رہی تھیں ۔

لاہور سے صبح تڑکے ناشتہ کر کے ہوٹل سے چیک آؤٹ کیا، ساجد نے جیپ چمکا دی تھی، اصغر نے بڑے سکون سے ڈرائیو کرتےتین گھنٹے میں جہلم پہنچا دیا، راستے میں کھاریاں کے پاس بنے نئے ریسٹورنٹ پہ  بریک کی تھی، واش روم جانے، چائے پینے اورجیپ کا تیل پانی چیک کرتے بس دس پندرہ منٹ لگے۔

گاؤں میں جیپ پر آمد

راستے میں باپ بیٹے کی گفتگو کا محور شادی اور ازدواجی زندگی تھی، دونوں لگتا تھا ڈھکے چھپے الفاظ میں دوسرے کو یہ بوجھ اٹھانے پرلطیف انداز میں مائل کر رہے تھے، جیسے باوا جی نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا کہ ہم اچھی جگہ شادی کے لئے خود کو اچھے روزگار ، کاروبار میں سیٹ کرتے اپنا اچھا وقت گزار دیتے ہیں ۔اور اسی گفتگو میں اصغر نے مزاح میں یہ کہہ دیا کہ جس گھر میں ساس ہی نہ ہو تو بہو کیسے ہو سکتی ہے ۔۔؟

جہلم کے مشہور ہوٹل میں ہلکا پھلکا لنچ کھایا، تھوڑا ریسٹ کیا، اور چل پڑے، یہاں سے گاؤں تک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو بہت صبر آزما تھی، پے در پے موڑ کاٹتی سنگل روڈ، اس پر  مویشیوں کی جگہ جگہ آمد و رفت، اپنی جگہ ، لیکن باوا جی کے ذہن میں گاؤں کے ممکنہ ردعمل ، وہاں کے معاملات کی ازسر نو تنظیم ۔ جائیداد کی ممکنہ تقسیم پیش آنے کا خدشہ  تھا۔

ان تفکرات میں الجھے وہ خاموش رہے، ساجد گاہے گاہے پوچھ لیتا کہ کتنا پند باقی ہے، اصغر بھی کچھ ٹینس ہو گیا۔گاؤں میں خواتین ابھی دوپہر کی روٹی پکانے کے لئے تندوریاں تپا رہی تھیں کہ ریلوے کراسنگ کو عبور کرتے اصغر شاہ کی جیپ فراٹے بھرتی گاؤں کے محلہ سادات کی بڑی گلی میں داخل ہو گئی، انجن کی گونج سنتے بچے اور خواتین گلی میں نکل آئے، ادھر اُدھر آتے جاتے بندے بھی رُک کے دیکھنے لگے، اصغر نے جیپ ڈنگروں والی حویلی کے کھلےپھاٹک سے گزار کے برآمدے کے سامنے پارک کر دی۔سرونٹ کوارٹر سائیڈ پہ  منشی کی بیٹی، داماد جانی، جو پچھلے ہفتے ملتان سے یہاں شفٹ ہوئے، جانی کا باپ چاچا نورا جو یہاں پر باوا جی کا منشی ۔انچارج اور کارکردار تھا اور اسکی بیوی جسے سب چاچی کہتے اور وہ گھریلو امور کی ہیڈ تھی۔

ہڑبڑا کے کھڑے ہو گئے، باوا جی جیپ سے اترے تو سب سے پہلے انکی گھوڑی ہنہنای، باوا جی نے اسے پچکار کے بُلایا ،،گلبدن کیسی ہو۔ اس نے تین بار منہ اوپر نیچے کیا، بدن تھرتھرا کے پُر سکون ہو گئی کہ مالک آ گئے ہیں۔

اصغر یہ سین دلچسپی سے دیکھتا رہا، نوکر ٹبر نے باجماعت باوا جی کے پاؤں چھوئے، چاچا نورے نے ہنگامہ برپا کر دیا ۔۔ اوئی  تو جا چابیاں لے کے آ۔۔ اوئے بیٹھک دے غسل خانے وچ پانی بھر کے رکھ، نی توں پسار کھول ،اوئے جانی چل گاں چو ، بھاگم بھاگ مچ گئی۔

باوا جی کی حویلی بہت بڑی تھی، اندر پرانا گھر، ساتھ جعفر کی انیکسی، سامنے اکبر شاہ کی کوٹھی، سائیڈ پر ڈنگروں اور نوکروں کےکمرے، گلی والی سائیڈ پہ بیٹھک اور مہمان خانہ، صحن ایک ہی تھا۔

اتنی دیر میں اکبر شاہ کی بیگم ،بچیاں سلام کرنے پہنچ گئیں، دونوں بیٹیوں کو بھی اطلاع ہو گئی وہ بھی برقعے پہنے بچوں سمیت آ گئیں،کمرے کھولے گئے، جھاڑ پونچھ ہوئی ، برآمدے میں چارپائیاں لگ گئیں، اصغر کا کمرہ بھی صاف ہو گیا۔

ساجد نے باوا جی کا سامان ان کے بیڈ روم میں پہلے رکھا پھر اصغر کی ساری چیزیں سیٹ کر دیں، ملتانی حلوے کے ڈبے چاچی کےحوالے کیے، چاچی نے دیگچہ بھر کے چائے بنائی ، بچوں میں ڈبے تقسیم کیے، صحن میں رونق بھر گئی۔

اصغر کا ریڈیو

اصغر اور باوا جی بھی بچوں سے باتیں کرتے رہے، چاچے نورے کا شور شرابہ  جاری رہا،فریج آن کی گئی ، جب وہ خود چاچی سے پوچھتے راشن کی لسٹ یاد کرتے ، ساجد کو ساتھ لے کے بازار گیا تو شور تھما

باوا جی برآمدے میں اپنی ایزی چیئر پہ  براجمان اپنی آل اولاد کو دیکھ کے مسرور ہو رہے تھے۔اکبر شاہ جی کے بارے میں انکی وائف نے بتایا کہ خصوصی سالانہ مجالس بارے میٹنگ میں شہر گئے ہوئے ہیں۔اصغر کو تو بھابھی، بہنوں اور بچوں نے گھیر رکھا تھا، ہر کوئی اس سے بات کر رہا تھا، اسے واقعی سمجھ نہیں  آ رہی تھی کہ کس کوجواب دے ۔۔۔ لیکن خون کی محبت کا احساس ہی بہت دل نشین تھا،

تھوڑی دیر کے بعد بڑی باجی نے آرڈر جاری کیا۔ کہ باوا جی اور اصغر سفر سے تھک گئے ہیں ، آرام کریں گے۔۔۔ہم سب شام کو دوبارہ جمع ہوں گے، چاچی نے اپنا شُذرہ دیا، آج شام نہیں ، کل دن کا کھانا سب مل کے یہاں کھائیں گے، تندور کی روٹیاں اور ایک سالن میں بنا لوں گی، آپ تینوں ایک ایک ہانڈی پکا کے لانا، میں نے حلوہ بھی بنانا ہو گا۔

دربار اور ڈھوک سے بھی سب ملنے تو آئیں گے ناں۔ اکبر شاہ کی بیگم کے سوا سب یہ حکم نامہ سن کے ہنسنے لگے۔۔جلسہ برخاست ہوا، باوا جی بیٹھک میں جا کے لیٹ گئے، اصغر اپنے بیڈ روم میں دروازہ بند کر کے ، ریڈیو آن کر کے سو گیا وہ واقعی دو تین دن کی مصروفیت سے تھک گیا۔ پھر اس کا بیڈ بھی تو مرحومہ والدہ والا تھا۔

باوا جی شام کو اٹھے ، غسل کیا ، کپڑے بدلے اور دربار جانے کو تیار ہوئے ۔ اصغر سو رہا تھا سختی سے کہہ گئے کہ اسے سونے دیاجائے، نورے کے ساتھ نکلے تو دربار سے ملحق مسجد میں مغرب کی آذان شروع ہو گئی، شیعہ مؤذن کی آذان اتنی طویل تو ہوتی ہےکہ بندہ ذرا دور سے بھی مسجد پہنچ سکتا ہے، سیدھے مسجد چلے گئے، پتہ چلا کہ پیش نماز صابر شاہ بھی اکبر شاہ کے ساتھ شہر گئے تھےواپس نہیں  پہنچے، باوا جی نے مغرب کی نماز پڑھائی۔

قرآت ، رکوع و سجود کی تسبیح میں اتنی رقت تھی کہ ہچکیاں مشکل سے رکتیں۔ نماز سے متصل دعا منگوائی  تو سارے نمازی بھی گڑگڑا کے رو رہے تھے۔ اتنی دیر میں اکبر شاہ اور صابر شاہ بھی شامل ہو گئے،عشا کی نماز صابر شاہ نے پڑھائی ۔ تسبیح، نوافل اور سنت کے بعد اس نے دعا اور زیارت پڑھانے کے لئے باوا جی کو فرمائش کی، آج باوا جی کی خصوصی حاضری لگ رہی تھی، زیارت تک لگتا تھا مجلس عزا ہو رہی ہے،مسجد میں موجود تمام نمازیوں نے باوا جی سے مصافحہ کیا، مسجد سے نکل کے دربار پہ  حاضری دی، اکبر شاہ ہمراہ تھے۔واپس گھر پہنچے تو اصغر بھی جاگ کے نہا دھو کے فریش ہو چکا تھا، دونوں بھائی  بڑے تپاک اور پیار سے ملے۔

اکبر شاہ نے بھائی  کا ماتھا چوم کے دعا دی اور کہا، ماشااللّہ بڑے اور جوان لگ رہے ہو۔

اس دوران چاچی اکبر شاہ کی بیگم اور بچیوں کو پکے ہوئے کھانے سمیت حویلی لے کے آ چکی تھی، کھانے والے کمرے میں پراپرٹیبل پر بچیوں نے ڈنر لگا رکھا تھا، کھانے پہ  باوا جی نے ملتان بارے سرسری اور ضروری تفصیل شیئر کی،اکبر شاہ نے یہاں کے موٹے موٹے کام بیان کیے، بیگم اکبر ملتان کی دعوتوں خاص طور پہ  جج صاحب کی پوتی بارے پوچھتی رہی، اصغر بھتیجیوں سے شغل کرتے جواب ٹالتا رہا، چاچی کا سپیشل قہوہ پیتے رات کے گیارہ بج گئے۔

باوا جی نے پیار اور دعاؤں سے بہو بیٹے اور پوتیوں کو صحن پار جانے کو رخصت کیا تو بچیاں چچا کو گُڈ نائٹ ، بائی  بائی ٹاٹا کرتی چلی گئیں ۔۔۔
کسی بھی بڑے خاندان ، ذات یا قبیلے میں ایک بات طے ہوتی ہے کہ کسی گھر کے خانگی معاملات پر بھلے برادری میں چہ مگوئیاں ہوتی رہیں لیکن جب تک اہل خانہ خود موضوع نہ چھیڑیں انکے سامنے ذکر نہیں  ہو سکتا۔

منشی مانے کی بیٹی زرینہ عرف زری چاچے نورے کی بہو بھی باوا جی کے گھر پلی بڑھی تھی، چک میں رہتی رہی تو بھی گاؤں کے آئے گئے کی خبر رکھتی، اس کا میاں جانی تو اللہ لوک تھا، انہیں باوا جی نے چاچا نورے اور چاچی کے ساتھ گھرسنبھالنے کے لئے گاؤں شفٹ کیا، زری نے یہاں خوب پر پُرزے آتے ہی نکال لئے ۔ خاندان کی خواتین تو اس سے ملتان اورچک بارے سُن گن لینے کی مشتاق تھیں اکبر شاہ کی بیگم کی وہ مشیر خاص بن گئی، بچی بچہ تو تھا نہیں ۔ گدی کے جانشین کی بیوہ بہو  کے ناطے بیگم اکبر شاہ خاندان کے معاملات اپنے ہاتھ لینا چاہتی تھی۔

اصغر شاہ نے اسکی یہ خواہش اپنی شادی بارے اس کے تجسس اور جج فیملی بارے کرید سے بھانپ لی تھی،وہ بھی تو گاؤں سے میٹرک کر کے نکلا تھا ، والدہ کی وفات کے بعد اسی بڑی بھابھی ساتھ رہ کے گیا تھا۔

اسے باوا جی روٹین کا اچھی طرح معلوم تھا کہ گاؤں میں ان سے ون ٹو ون بات کرنے موقع ملنا کتنا مشکل تھا۔وہ دربار، ڈھوک، تقریبات اور مہمان داری میں مصروف رہتے ڈیرے پے ہوتے تو ملنے والے آ جاتے۔اصغر باوا جی کو حویلی کی بے ترتیب زندگی کا احساس دلانا چاہتا تھا جس کے لئے روزانہ کوئی  پہلو اجاگر کرنا لازم تھا۔

اصغر نے چاچی کو تھوڑا اسکی بہو زری کے خلاف بھڑکایا۔ ساتھ یہ ڈیوٹی لگائی  کہ اس کا ، باوا جی کا ناشتہ صبح جلدی اور ایک ساتھ تیار ہونا چاہیے اس طرح دونوں کو آپس میں بات چیت کا موقع  میسر رہے گا۔اگلے دس بارہ دن تو باوا جی شدید مصروف رہے، علاقے کے سادات معتمدین ملنے آتے رہے،

ایک تو کرم شاہ والا مربعہ ، دوسرا یہاں بنک بننے کی بات ایسے پہنچی کہ باوا جی اصغر کو بنک کھول کے دے رہے ہیں،اوپر سے جیپ لینے کو بھی بنک سے نتھی کیا گیا۔ باوا جی خوب سمجھ گئے کہ یہ اصغر کے رشتے کے لئے تگ و دو ہے۔مزید تصدیق یوں ہوئی  کہ تاجی شاہ کے تایا اور سسر جج صاحب فیملی سمیت لاہور سے اپنے گاؤں آئے تو پہلی بار باوا جی کو پیغام بھیج کے ملاقات طے کر کے ان سے ملنے آئے، گاؤں میں کافی ہلچل تھی، کہ سادات فیملی میں عرصہ بعد کوئی  بڑا فنکشن متوقع ہے،اصغر کو صبح ناشتے پہ  بریف مل جاتا۔

اصغر اپنے مشن پہ  قائم تھا، آنٹی زہرا اپنے بہنوئی  کرنل صاحب کے ساتھ زیارات سے واپس آ کے پنڈی رُک گئی،کرنل صاحب کی بیگم علیل تھیں ، اصغر پہلے اکبر شاہ کے گھر والے فون سے کا لیں کرتا ۔ لیکن بھابھی سر پہ  موجود رہتی تو ابوہ پی سی او سے روزانہ پنڈی اور چک فون کرتا، پنڈی بھائی  جعفر سے ، کرنل صاحب کو اور چک میں آڑھت والے نمبر پے ٹھیکیدارحق نواز سے پراگرس رپورٹ لیتا۔

جعفر شاہ کی میجر پروموٹ ہونے پے پنڈی کالج آف سگنل میں پوسٹنگ ہوئی ، بنگلہ ملنے، شفٹنگ کی مصروفیت رہی،دوسرے ویک اینڈ پہ  کرنل صاحب کی کار پہ  آنٹی زہرا اور جعفر فیملی ساتھ آئے،

باوا جی کے ہاں دو دن خوب رونق لگی، جعفر شاہ نے اصغر کی جیپ کا نام لئے بغیر باوا جی سے پرزور مطالبہ کیا،کہ اب بائیک سے گزارہ نہیں  ہوتا، مجھے کار لے کے دیں ۔ اب کرنل صاحب، اکبر شاہ اور اصغر موجود تھے۔فیملی کی خواتین بھی موجود تھیں، باوا جی جعفر کے مزاج سے واقف تھے لیکن انہیں ناگوار گزرا۔

اُن کے ہنکارا بھرنے سے اصغر سمجھ گیا۔ اس نے بات اچک لی، جعفر سے بڑی خوشدلی سے کہا،سر۔ بھائی  جان۔ میجر صاحب کون سی کار پسند ہے ؟ جعفر نے موڈ میں اسے دیکھا۔۔

اصغر نے بہت پیار سے پھر کہا، آج کل فوجی افسروں کی پسند تو فوکسی ہے ! چاہیے ؟ سڑسٹھ ماڈل ہے۔۔جعفر نے کہا  ، کہاں ہے ؟ کتنے کی ہے ؟ اصغر نے مسکرا کے کرنل صاحب کی طرف دیکھ کے کہا ،

ان کے بھائی  میجر صاحب کورس کرنے یو کے جا رہے ہیں۔ وہ اپنی فوکسی بیچنا چاہتے ہیں ،کہ واپسی پہ  وہاں سے نئی لے کےآئیں گے،جعفر نے قیمت کا پوچھا تو اصغر نے کہا، میں کال بک کرا دیتا ہوں، کار بہت اچھی ہے، سودا آپ دونوں فوجی بھائی  طے کر لو، کارتین دن میں پنڈی آپکے گھر پہ  پہنچ جائے گی، باوا جی نے اصغر کو دیکھا ۔ اس نے اٹھ کے پانی کا گلاس بھرا انہیں پکڑاتےسرگوشی کی، آپ دعا کریں ۔

میجر جعفر کی کار

کال مل گئی ۔ اصغر نے پہلے بات کی، جعفر کی بات کرائی  ۔ دس اور بارہ ہزار کی بات ہو رہی تھی، اصغر نے فون پکڑ لیا، اور خود بات کی، دوبارہ کال کا کہہ کے فون بند کر دیا۔ باوا جی نے جعفر سے پوچھا ۔ کیا خیال ہے ؟

جعفر تھوڑا گھبرا سا گیا۔ کہنے لگا بائیک بیچنے اور پیسوں کے بندوبست ۔۔ باوا جی نے ٹوک دیا، پوچھا یہ بتاؤ ۔۔

کار تمہیں پسند ہے ؟ جعفر نے آہستہ سے کہا۔ جی میں بھی یہی لینے کا سوچ رہا تھا، باوا جی نے اصغر سے کہا

کال کرو ۔ پیسے پوچھو کب چاہئیں اور شفیق ڈرائیور کے ہاتھ کار کل پرسوں منگوا لو ۔۔۔۔۔

دونوں بھائی  فون کی کیبل لپیٹتے لان سے اٹھ کے کوٹھی کے اندر چلے گئے

کرنل صاحب نے بڑے فخر سے کہا، بھائیا جی تسی پیر ہو پر سانوں وی من لو، کہا تھا ناں اسے بچہ نہ سمجھیں !

یہ ماشااللّہ بہت ہنر مند ہے، باوا جی نے خوش ہو کے دعا دی ۔ کہا یہ آپ دونوں بھائیوں کی محنت اور تربیت ہے

اکبر شاہ نے دعا مانگی کہ اللہ کریم اصغر کو نظر بد سے بچائے آج تو بالکل بابا فضل شاہ لگ رہا ہے ۔

بات ہلکی کرنے کو کہا۔ باوا جی اس طرح تو یہ ملتان سے کوئی  مزار بھی یہاں شفٹ کرا دے گا۔۔

اچھا ہے مجھے ملتان سے ہوتیال گاؤں سے دو بھینسیں خرید دے۔ سنا ہے وہ تو کٹا بھی نہیں  بیچتے۔۔

باوا جی ہنس پڑے، کہنے لگے تم خود کہہ دو ، چھوٹا بھائی  ہے تمہارا بھی، ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے ہی تو اب آگے یہ سارے انتظام چلانے ہوں گے،

اکبر بھائی سہی لیکن اس کے چہرے پے ایک رنگ آ کے گزر گیا۔۔

شام کو کرنل صاحب اور میجر جعفر فیملی واپس پنڈی روانہ ہو گئے ۔ اور اصغر شاہ ملتانی حلوے کا بڑا ڈبہ لے کر ساجد کو ساتھ لئے آنٹی زہرا کے گھر زیارات کی مبارک دینے پہنچ گیا ۔۔

انہوں نے خود دروازہ کھولا۔ ساجد کی گلی میں چھوڑ کے ڈبہ اسے سے لے کے اکیلا اندر گیا، آنٹی حیران پریشان ،کھڑے کھڑے صحن میں زیارات کی مبارک دی،

ڈبہ پکڑاتے سر جھکا کے کہا ۔ یہ بہت حقیر سا نذرانہ ایک بیٹے کی طرف سے ۔۔

آنٹی زہرا نے بے اختیار اس کے سر پے ہاتھ پھیرتے کہا ، یہ کیا کہہ رہے ؟ خود کو سنبھالتے ہوئے  کہا ، آؤ ۔ بیٹھو ،

اصغر نے اور جھک کے سرگوشی کے انداز کہا،۔ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ عملی طور سچ ہو سکتا ہے ۔۔۔

اگر آپ اب بھی چاہیں ۔۔۔ سوچیئے۔۔ پاؤں چھوئے ، مزید بولا ۔۔ میری امی جان ۔۔۔

آنٹی تو لگا ، سکتے میں چلی گئی، اصغر سر جھکائے واپس گھر سے باہر نکل آیا۔

اگلے تین دن تو حویلی میں بھونچال کی سی کیفیت رہی ۔۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *