پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں المیہ کسی ایک خطے، ادارے یا واقعے تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہر سمت پھیل چکا ہے۔ ریاستی عمل داری سوالیہ نشان بن چکی ہے اور فیصلوں کی جگہ طاقت نے لے لی ہے۔
کرک میں دو سرنڈر کرنے والے طالبان کو ہتھکڑیوں سمیت مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دینا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں قانون کو بوجھ اور انصاف کو رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ جب ریاست خود قانون توڑنے لگے تو پھر دہشت گردی کے خاتمے کی امید محض خوش فہمی رہ جاتی ہے۔
بلوچستان آج عملاً بی ایل اے کے نشانے پر ہے۔ جناح روڈ کوئٹہ جیسے حساس علاقے تک طاقت کا مظاہرہ اس بات کا اعلان ہے کہ ریاستی رٹ کمزور ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں طالبان کا اثر و رسوخ ایک تلخ حقیقت ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مکمل بندش نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
وادیٔ تیراہ میں شدید سردی کے دوران مقامی آبادی کو آپریشن کے نام پر بے دخل کر دینا اور بعد میں اسلام آباد کا خاموش تماشائی بنے رہنا اس بے حسی کی انتہا ہے جو آج حکمرانی کا مستقل مزاج بن چکی ہے۔
سندھ میں صورتحال مزید خوفناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی طویل اور مجرمانہ طرزِ حکمرانی نے عام سندھی کو ایسی قوم پرستی میں دھکیل دیا ہے جو نفرت پر پلتی ہے۔ ایک پنجابی ڈاکٹر کا سرِعام قتل محض ایک جرم نہیں بلکہ سماجی زوال کی علامت ہے۔ کراچی میں ایک مہاجر اینکر کے طنزیہ جملے کو بنیاد بنا کر پورے سندھ میں نفرت کی آگ بھڑکانا ریاستی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
کراچی ٹریفک کے ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کو صرف اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ وہ حکومت سے سوال پوچھنے کی جرأت کرتا ہے۔ یہ پیغام واضح ہے سوال جرم ہے، خاموشی وفاداری۔
مرکز میں محسن نقوی کا کردار اب محض ایک ثالث تک محدود دکھائی دیتا ہے، جس کا کام یہ ہے کہ جب زرداری ناراض ہوں تو انہیں منایا جائے۔ دوسری جانب عمران خان کو دانستہ طور پر گالی بنانے کی مہم جاری ہے، جبکہ پنجاب کی حکومت پنجابی قوم پرستی کو فروغ دے کر ریاستی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے منتخب وزیرِاعلیٰ کو ایک عام ایس ایچ او روک لیتا ہے، اور پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے تمام دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ شاید مسئلہ دہشت گردوں کا نہیں، بلکہ جگہ کی غلط نشاندہی کا ہے۔
ایمان مزاری کو سترہ سال قید کی سزا سنا کر یہ گمان کر لیا گیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جبر کبھی مسئلے کا حل نہیں رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ جب سیاست کو کچل کر، قانون کو یرغمال بنا کر جنگ لڑی جاتی ہے، تو مخالف بھی مزاحمت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت یہی ہو رہا ہے۔
ایسی ریاستی سوچ کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ہم خود اپنے لیے کافی ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں