• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے ممکنہ اثرات، سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی زاویے/نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے ممکنہ اثرات، سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی زاویے/نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

اگر پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز، ایم پی ایز، اور سینیٹرز اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتے ہیں تو یہ محض احتجاج نہیں بلکہ ایک طاقتور سیاسی علامت بن جائے گا۔ قیادت کی موجودگی صرف کارکنان میں جوش و خروش نہیں بڑھائے گی بلکہ یہ واضح پیغام دے گی کہ پارٹی اپنے قائد کے ساتھ کھڑی ہے، بیان بازی سے نکل کر عملی مزاحمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ماضی کی مثالیں بتاتی ہیں کہ جب بھی رہنما خود سڑکوں پر آئے، تحریک نے نیا رخ لیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں نومبر 2025 میں اڈیالہ کے باہر رات بھر کا دھرنا اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جس نے دیگر شہروں میں بھی عوام کو متحرک کیا۔

مزید یہ کہ اگر یہ دھرنا پرامن اور مسلسل ہوتا ہے تو حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ دباؤ اتنا بڑھ سکتا ہے کہ وہ خان صاحب کے حالاتِ قید میں نرمی پر مجبور ہو جائیں یا عالمی ردعمل سے بچنے کے لیے انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کریں۔ ایسے احتجاج کی کوریج، چاہے مقامی میڈیا محدود کرے، عالمی میڈیا ضرور اٹھاتا ہے اور یہ حکومت کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

البتہ، اس اقدام کے سیاسی خطرات بھی ہیں۔ حکومتی ادارے اسے اپنی رِٹ کے خلاف چیلنج سمجھ سکتے ہیں اور سخت ردعمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ کارکنان کی گرفتاری، طاقت کا استعمال، اور جھوٹے مقدمات کے امکانات موجود ہیں۔ بعض پارٹی حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ دھرنے کا استعمال جواز بنا کر خان صاحب کو کسی خفیہ مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے ان تک رسائی مزید محدود ہو جائے۔
اس لیے ضرورت ہے کہ دھرنا نہ صرف پُرامن ہو بلکہ قیادت اور کارکنان کے درمیان مکمل نظم و ضبط اور مواصلاتی ہم آہنگی بھی ہو۔ بصورت دیگر، حکومت کو کارروائی کا موقع مل سکتا ہے۔

پاکستان میں دھرنوں پر اکثر دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے، جو چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کرتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی دھرنے کو قانونی طور پر غیر قانونی قرار دے کر شرکاء کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا کہ جب پی ٹی آئی کی خواتین، بزرگ کارکنان اور حتیٰ کہ خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ کے باہر پرامن احتجاج کر رہی تھیں، تب بھی پولیس نے نہ صرف ان پر پانی کی توپیں چلائیں بلکہ دہشت گردی کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔
سب سے اہم قانونی پہلو یہ ہے کہ یہ دھرنے اصل میں عدالتی احکامات کے نفاذ کے لیے ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ عمران خان کو ہفتے میں دو بار اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جب حکام اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو دھرنے کا مقصد آئین اور قانون کے تحفظ کی جدوجہد بن جاتا ہے نہ کہ بغاوت۔
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہر ایسی سرگرمی کو “امن و امان کے لیے خطرہ” قرار دیتی ہے اور پولیس کو کھلی چھوٹ دے دیتی ہے۔ لہٰذا، اگر قیادت اڈیالہ کے باہر بیٹھتی ہے، تو انہیں قانونی اور جسمانی دونوں خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، گرفتاریاں، ریمانڈ، ایف آئی آرز، اور عدالتوں کے طویل چکر۔
اسی لیے ضروری ہے کہ دھرنے کو آئینی دائرے میں رکھا جائے، قانون دانوں کی مکمل مشاورت سے منظم کیا جائے، اور جہاں ممکن ہو، عدالتوں میں پیشگی ریلیف یا تحفظ حاصل کیا جائے۔

عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عمران خان کے خلاف مقدمات، ان کی قید تنہائی، اور ان تک ملاقات سے انکار جیسے معاملات کو پہلے ہی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتی ہے، تو یہ صرف مقامی احتجاج نہیں رہے گا بلکہ یہ عالمی خبر بن جائے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پہلے بھی اڈیالہ کے باہر مظاہرین پر پانی کی توپوں کے استعمال کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دی گارڈین،  الجزیرہ، بی بی سی اور دیگر عالمی ادارے اس معاملے کو مسلسل رپورٹ کر رہے ہیں۔ اگر دھرنا وسیع پیمانے پر ہوا اور پرامن رہا، تو عالمی دباؤ حکومت پاکستان کے لیے بڑھتا جائے گا۔

عالمی ردعمل سے حکومت پر دو طرفہ دباؤ بڑھے گا: ایک طرف اندرونی مزاحمت، اور دوسری طرف عالمی ساکھ کی فکر۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو اقتصادی امداد، تجارتی مراعات اور خارجہ پالیسی میں نرمی کی ضرورت ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس کی عالمی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

عالمی میڈیا کی کوریج میں عمران خان کی سابق عالمی حیثیت (کرکٹر اور وزیراعظم) بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر ان کے نام پر منتخب نمائندے، سینیٹرز اور خواتین اڈیالہ کے باہر بیٹھے ہوں اور ریاست ان پر طاقت کا استعمال کرے، تو یہ منظر نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا بھر میں حکومت پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا صرف ایک احتجاجی اقدام نہیں بلکہ پارٹی قیادت کی سنجیدگی، تنظیمی اتحاد، اور عالمی بیانیہ سازی کا امتحان ہے۔ اگر یہ دھرنا قیادت کے فرنٹ لائن کردار، پرامن مزاحمت، قانونی دانش اور عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت منظم ہوتا ہے، تو یہ عمران خان کی رہائی کی جدوجہد میں سنگ میل بن سکتا ہے۔

لیکن اگر قیادت میدان سے غائب رہی، صرف کارکنان کو آگے کر کے خود محفوظ رہی، تو یہ تحریک کمزور پڑ جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز، اور تنظیمی عہدیداران اپنی ذمہ داری نبھائیں، لہذا قیادت کا خاموش رہنا خود پیغامِ شکست ہے۔
یہ دھرنا Phase I ہے اور جب تک قیادت خود سامنے نہیں آئے گی، Phase II تا VI کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔

julia rana solicitors

یاد رکھیں: عوام وہی سنتی ہے جو اسے دکھائی دیتا ہے۔ اگر رہنما میدان میں نظر آئیں گے تو عالمی میڈیا بھی نظر ڈالے گا، اور یہی عمران خان کی رہائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Facebook Comments

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply