یہ اسّی کے عشرہ کی بات ہوگی۔ کالج سے موسمِ بہار کی چھٹیاں تھیں۔ اُس روز عزیز دوست خالد علیم صاحب سے بھی ملاقات طے نہ ہوپائی تھی۔ چناں چہ میں اکیلا ہی چل پڑا لاہور کے معروف علاقہ رائل پارک میں واقع ادبی رسالہ ’’محفل‘‘کے دفترکی طرف۔۔ اُس دور میں پیدل سفر میں بہت لطف آتا تھا۔ مولابخش روڈ سے مزنگ اڈہ پہنچا اور وہاں سے صفانوالہ چوک اور ٹمپل روڈ سے گزرتا ہوا چوک ریگل پر مال روڈ کو عبور کرکے بیڈن روڈ پر ہولیا اور پھر دائیں مُڑ کر چند قدم کوپر روڈ پر چلا اور بائیں جانب سے آغاز ہوتے رائل پارک میں داخل ہوگیا۔ اصل پارک بھی شاید کسی زمانے ہو وہاں مگر مجھے تو وہاں ہمیشہ سے (اُس دور کے مطابق) اونچی اونچی عمارتیں ہی دکھائی دے رہی تھیں جن کے نچلے حصوں میں دکانیں تھیں اور اُوپرہر منزل پر فلم سازوں اور فلم تقسیم کاروں کے دفاتر تھے۔ دائیں بائیں زیرِ تکمیل فلموں کے بورڈ آویزاں تھے۔ مجھے رائل پارک کی چار نمبر بلڈنگ تک پہنچنے میں بس چند منٹ ہی لگے۔ غالباً اسی عمارت میں ممتاز آرٹسٹ بشیر موجد صاحب کا پرنٹنگ پریس بھی ہوا کرتا تھا۔ اس عمارت میں بھی سبھی دفاتر فلم ساز اداروں کے تھے۔ زینے عبور کیے تو دائیں جانب عنایت حسین بھٹی کی بھٹی پکچرز کا دفتر دکھائی دیا۔ دروازہ کُھلا تھا۔ اندر فلم ’راجو راکٹ‘ اور ’منزل‘ کے پوسٹر آویزاں تھے اور قہقے بلند ہورہے تھے۔مگر میں بائیں جانب ہلکے سبز رنگ کے دروازے میں داخل ہوگیا۔ یہی ماہ نامہ ’’محفل‘‘ کا دفتر تھا۔ اس عمارت بلکہ اس علاقہ کا اکلوتا غیرفلمی دفتر۔۔۔جس میں ایک میز کے پیچھے رسالہ کے مدیریزدانی جالندھری تشریف فرما تھے جب کہ دوسرے قدرے بڑے میز سے لگی کرسی پر مدیراعلیٰ طفیل ہوشیارپوری تقریباً نیم دراز تھے۔ ہم طفیل صاحب کو ’تایا جی‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ہاں، جب کبھی وہ ہمارے گھر آتے امی جان سے مسلسل نوک جھونک چلتی کہ وہ ان کے ’’جیٹھ‘‘ ہیں یا ’’دیور‘‘۔ امی جان مصر رہتیں کہ وہ ’جیٹھ‘ ہیں جب کہ تایا طفیل ہنستے ہوئے ’دیور‘ ہونے کی تکرار کرتے رہتے۔ ان کی یہ نوک جھونک زندگی بھر ختم نہ ہوئی۔ طفیل صاحب والد گرامی کے چالیس سال پرانے دوست تھے اور دونوں میں گویا بھائیوں جیسی محبت تھی۔ تایا جی کا خاندان بھی ہمیں اپنے گھر کے افراد ہی خیال کرتا تھا۔
خیر، اُس وقت ’’محفل‘‘ کے دفتر میں دیسی ساگ پکنے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ تایا جی نے کمرے کی کھڑکی میں رکھے ایک چولہے پر مٹی کی ہنڈیا میں ساگ ’’چڑھا‘‘ رکھا تھا۔
میں نے دونوں بزرگوں کی خدمت میں ایک ہی سلام پیش کیا۔ جس کے جواب نے والد صاحب نے تو آہستگی سے وعلیکم السلام کے الفاظ کہے جب کہ تایا جی ہڑبڑا کر بیدار ہوگئے اور میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے جلدی سے ہنڈیا کی جانب متوجہ ہوگئے۔ انھیں ڈر تھا کہ کہیں ان کا ساگ ’لگ‘‘ نہ گیا ہو۔ انھوں نے ہنڈیا کا ڈھکن اتار کر لکڑی کی ’ڈوئی‘ سے کچھ ساگ نکالا اور اسے چکھتے ہوئے کہنے لگے:
’’ بیٹا جی۔ بالکل صحیح وقت پر آئے ہو۔ ہمارا ساگ بھی تیار ہی ہے۔ابھی مقبول (سرمد) سے کہہ کر تنور سے گرم گرم روٹیاں منگواتے ہیں اور اس ساگ کا مزہ لیتے ہیں۔‘‘
والد صاحب ان کی بات سُن کر مسکرائے ضرور مگر اپنی نظر کتابت شدہ مسودہ سے ہٹائی نہیں۔ وہ آئندہ شمارہ کی پروف ریڈنگ میں مصروف تھے۔
اتنے میں سلام کرتے ہوئے ایک اور صاحب کمرے میں داخل ہوئے؛ خوش شکل، خوش لباس، لہجہ سے جھلکتی تہذیب۔۔۔انھوں نے پہلے دونوں بزرگوں سے مصافحہ کیا اور پھر اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے تعارفاً بولے:
’’مجھے اعتبار ساجد کہتے ہیں۔‘‘
میں نے اپنی کرسی سے اٹھ کر ان سے ہاتھ ملایا اور جواباً کہا:
’’حامد یزدانی۔‘‘
’’اوہو، ماشااللہ۔ تو آپ یزدانی صاحب کے صاحب زادے ہیں۔ ماشااللہ۔‘‘
انھوں نے پرجوش انداز میں کہا تھا اور میرے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گئے تھے۔
میں اعتبار ساجد صاحب کے نام اور ان کی شاعری سے تو متعارف تھا مگر بالمشافہ ملاقات کا پہلے کبھی موقع نہ ملا تھا۔
اور پھر جب بھائی مقبول سرمد روٹیاں لے آئے تو سب نے تایا جی کے پکائے ساگ سے لطف اٹھایا۔ اس کے بعد کھڑکی سے نیچے چائے کے لیے آواز لگائی گئی۔ چند منٹ ہی میں چائے ہمارے سامنے تھی۔ چائے پی گئی۔
اعتبار ساجد طفیل صاحب اور یزدانی صاحب سے باتیں کرتے رہے۔ میں بس ’جی جی‘ کرکے گفت گو میں شریک رہا۔ انھوں نے شاعری، ادبی گروہ بندیوں، مضافات سے آئے شعرا کے ساتھ بڑے شہر کے لکھاریوں کے سلوک، ریڈیو، ٹی وی پر مخصوص طبقہ کی اجارہ داری، اخبارات کے ادبی ایڈیشنز کے متنازع مواد، ’’بڑے مشاعروں‘‘ میں شمولیت کے لیے اختیار کیے جانے والے ہتھکنڈوں اور جانے کس کس موضوع پر ہلکی پھلکی گفت گو کی۔ پھر اچانک اعتبار ساجد صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اورکہنے لگے:
’’بھائی، شاعری تو آپ کرتے ہوں گے۔ یہ مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بتائیے شاعری کے علاوہ کیا شغل ہے؟‘‘
میں نے انھیں بتایا کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرِ تعلیم ہوں ارو ان دنوں بہار کی چھٹیاں ’منا‘ رہا ہوں۔
میں خاموش ہوا تو وہ بولے:
’’بھئی، واہ۔ ماشاللہ۔۔۔بڑی خوشی ہوئی یہ جان کر۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ بہار کا ایسا خوب صورت دن اور وہ بھی چھٹی کا دن ایک نوجوان ادبی رسالے کے دفتر میں کیوں گزاررہاہے؟‘‘
مجھے فوری طور پر ان کی بات سمجھ نہ آئی۔ میرے چہرے پر پھیلے استفہام کو پھانپتے ہوئے، ہنس کرکہنے لگے:
’’ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے بھائی کہ یہ موسم باہر سیروتفریح کرکے گزارو۔ کچھ مزے کرو۔ اگر کوئی اور مصروفیت نہ ہوتو میرے ساتھ چلو۔ مل کر لاہور کی سیر کرتے ہیں۔‘‘
پھر والد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
’’یزدانی صاحب، اجازت ہے؟ کیا میں ساتھ لے جاسکتا ہوں اسے؟‘‘
والد صاحب نے فرمایا:
’’مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ مگر اس کا فیصلہ حامد خود کرے گا۔‘‘
یہ سُن کر اعتبار ساجد صاحب نے میری طرف دیکھا اور میں نے ان کے ساتھ ’’لاہورگردی‘‘ کے فیصلہ کا اعلان کردیا۔
بزرگوں کو سلام کہہ کر ہم دونوں رائل پارک کی اس بلڈنگ کی سیڑھیاں اترے تو پاکستانی فلمی صنعت اور بھارتی فلموں کے معیار پر بات کرنے لگے۔ لکشمی چوک سے دائیں مُڑے اور پہلے پاکستان ٹیلی ویژن اور پھر کچھ دیر کے لیے ریڈیو سٹیشن رُکے جہاں اعتبار ساجد صاحب کو احباب سے ملنا تھا۔ وہاں سے نکلے تو پیدل ہی واپس لکشمی چوک کی طرف ہولیے۔ راستے بھر دائیں بائیں سنیما گھروں میں دکھائی جانے والی فلموں پر باتیں کرتے رہے۔ اعتبار ساجد صاحب نے ملتان میں گزرے شب و روز اور کوئٹہ میں اپنی مصروفیات کا بتاتے ہوئے وہاں کے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ڈراموں کی مقبولیت کے بارے میں بھی مجھے بتایا اور پھر لاہور سے اپنی محبت اور موقع ملتے ہی اس شہر کا رُخ کرنے کا سبب یہاں اپنے دوستوں کی کشش کو قرار دیا۔
ہم نے لکشمی چوک کے قریب ایک ریستوران سے چائے پی اور نسبت روڈ کی طرف چل نکلے۔ دیال سنگھ لائبریری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گوالمنڈی چوک کے پاس پہنچے تو وہ ایک عمارت کی تنگ سی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ مین ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر ہم رسالہ’’ آداب عرض‘‘ اور ’’چاند‘‘ کے چھوٹے سے دفتر میں پہنچے جہاں ان رسالوں کے مدیر خالد بن حامد نے ہمیں خوش آمدید کہا۔
اعتبار ساجد نے تعارف کرواتے ہوئے انھیں کہا:
’’آپ دونوں کے نام میں ’حامد‘ موجود ہے۔تو ایک لحاظ سے آپ ہم۔ نام ہی ہوئے۔‘‘
اورہنسنے لگے۔
خالد بن حامد اور اعتبار ساجد صاحب کی باہمی گفت و شنید سے مجھے ان کے قریبی تعلق کا اندازہ ہورہا تھا۔ وہ خاصے بے تکلف تھے۔ جتنی دیر وہاں بیٹھے، قہقہے بلند ہوتے رہے۔ اس دوران میں خالد صاحب نے اعتبار ساجد صاحب کے حوالے کچھ خطوط بھی کئے جو اعتبار صاحب کے قارئین یا مداحین نے رسالہ کی وساطت سے انھیں بھیجے تھے۔ اعتبار صاحب انھیں پڑھ کر بہت مسرور ومحظوظ ہوئے۔ پھر مجھے کہنے لگے:
’’دیکھیں، خالص ادبی جرائد کی اہمیت اپنی جگہ مگر’’آداب عرض‘‘ جیسے میگزین بھی اپنے طور پر ادب ہی کی خدمت کررہے ہیں۔ ادبی جرائد کے مقابلے میں ان رسالوں کے قارئین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ اسے پڑھنے والے ملک بھر سے مجھے خطوط لکھتے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو رسالہ کے پتے پر آئے، زیادہ خطوط براہ راست مجھے موصول ہوتے ہیں۔ میں اس میں اپنی شاعری اور افسانے چھپوانا پسند کرتا ہوں۔ انھیں خاص کر نوجوان بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ آپ بھی اس میں اپنی تخلیقات دیا کریں۔‘‘
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور تازہ تخلیق انھیں بھیجنے کا وعدہ بھی کرلیا۔
ہم وہاں سے نکل کر انارکلی میں پاک ٹی ہاوس کی جانب بڑھ رہے تھے تب اعتبار صاحب نے مجھے کچھ سنانے کوکہا تو میں نے ایک غزل کے چند اشعار انھیں سنادئیے۔
گھر سے وہ نکلی ہے یوں پِیلا دوپٹہ اوڑھ کر
چاند نکلے جس طرح چہرے پہ ہالہ اوڑھ کر
اِ ن دنوں دل کا جزیرہ اس طرح ویران ہے
خشک دریا سو رہا ہو جیسے صحرا اوڑھ کر
بِنتِ حّوا بڑھ رہی ہے دورِ ماضی کی طرف
کل پِھرے گی ، دیکھ لینا، ایک پتا اوڑھ کر
انھوں نے حوصلہ افزائی کی اور پھر اپنا کلام بھی مجھے سنایا جو متنوع کیفیات کا حامل شائستہ اور خوب صورت تھا۔
——-
صف بستہ ہیں ہر موڑ پہ کچھ سنگ بکف لوگ
اے زخمِ ہُنر، لطفِ پزیرائی تو اب ہے
۔۔۔۔۔
پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے
۔۔۔۔۔
ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے
ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا
۔۔۔۔۔
کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ
میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں
۔۔۔۔۔
اس تعارفی ملاقات کے بعد پھر جب بھی وہ لاہور تشریف لاتے، ملاقات کا شرف بخشتے۔ ہم ادبی تقاریب میں بھی اکٹھے ہوجاتے۔
جب میرا پہلا شعری مجموعہ ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ شائع ہوا اس وقت میں جرمنی میں مقیم تھا۔ بھائی ساجد یزدانی نے نوائے وقت کے دفتر میں اعتبار صاحب کو اعزازی نسخہ پیش کیا تو انھوں نے ایک زبردست تحسینی مضمون قلمبند کرکے اسی اخبار میں شائع کروایا۔ میں پاکستان گیا تو ان کا شکریہ ادا کیا جس پر انھوں نے خوشی ساتھ ساتھ شاعری کی بگڑتی ہوئی صورت پر تشویش کا اظہار کیا اور بالخصوص نوجوان نسل کی تساہل پسندی اور ’’سستی‘‘ شہرت کے لیے تگ و دو پر دکھ کا اظہار کیا۔ انھوں نے یزدانی جالندھری صاحب جیسے وضع دار بزرگوں اور ان کے شعر میں خلوص اور برکت کا ذکر بھی بڑی محبت سے کیا۔
میں جب کینیڈا آگیا تو پھر فیس بک کی وساطت سے ہم ایک دوسرے سے منسلک رہے۔ میں سوشل میڈیا پر ان کے شعری مجموعوں کی مقبولیت اور تعلیمی اداروں میں کئے جانے والے تحقیقی کام کے بارے میں پڑھتا تو انھیں مبارک باد کا پیغام بھیجتا۔ جواباً وہ اپنی مسرت کا اظہار کرتے اور خوب حوصلہ افزائی کرتے۔
ان کی آنکھوں سے جھلکتی ذہانت، ان کے ہونٹوں پر پھیلی ہلکی سی مسکان ، جملوں کی برجستگی اور کاٹ کون فراموش کرسکتا ہے!
ایک بڑے تخلیق کار، ایک مخلص دوست اور مہذب انسان کا آج ہم سے جدا ہوجانا ایک الم ناک احساس ہے۔ اس دکھ کو بہرصورت ہمیں سہنا ہے، ان کے لیے دعا کرنا ہے اور ان کے فن اور شخصیت کے تاب ناک گوشوں کی کرنوں سے اپنی یادوں کو پرنور رکھنا ہے۔ یہی تو ہے جو اب ہم کرسکتے ہیں۔
اب وہ اپنی زندہ تخلیقات کے ذریعہ ہمارے درمیان رہیں گے اور ہمیشہ رہیں گے۔
نقادان ادب نے ان کے بارے میں لکھا ’’ اعتبار ساجد کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت متنوع اصنافِ نظم و نثر کے لیے اپنے قلم کو استعمال کیا اور شاعری ، کالم نگاری ، ادبی مکالموں اور تحقیق کے علاوہ شعبہ تدریس اور ادبی صحافت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اعتبار ساجد اپنے اندازِ سخن اور اسلوبِ بیان کے لحاظ سے ایسے منفرد شاعر ہیں جن کا مزاج عاشقانہ ہے،کیونکہ انھوں نے اپنی غزل کو تغزل کی پوری رعنائی اور نزاکتوں کے ساتھ سنوارا ہے ان کے ہاں عشق مجازی بھی ہے اور عشق حقیقی بھی۔ اسی لیے ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک نرم وگداز شاعر چھپا بیٹھا ہے جو اپنا اظہار بڑی سادگی سے کرتا ہے۔‘‘
ان کی کتابوں میں ’دستک بند کواڑوں پر‘، ’آمد‘، ’وہی ایک زخم گلاب سا‘، ’مجھے کوئی شام ادھاردو‘ جیسے شعری مجموعے شامل ہیں۔
اعتبار ساجد صاحب کی رحلت کی خبر پاکر یہ چار مصرعے ہوگئے جو ان کے زندہ احساس کے بھی ترجمان ہیں اور میرا دوستانہ خراجِ محبت بھی ہیں:
دوستی کی بہار ساجد ہیں
محفلوں کا وقار ساجد ہیں
آبرو ہیں وہ حرف و معنی کی
شعر کا اعتبار، ساجد ہیں
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں