رات کا تیسرا پہر تھا۔ ایک زیرِ زمین گیلری، جسے کبھی سٹور روم کہا جاتا تھا، میں اُلٹا قمر نامی ایک پینٹر جو کینوس پر ہمیشہ نہیں لکھتا تھا۔ اپنے آخری کام کے سامنے بیٹھا تھا۔ کام کا نام تھا۔
لامتناہی کی ایک بے مقصد شرح۔ یہ ایک ایسی تنصیب تھی جہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قینچی، ایک سنہرے دھاگے سے ایک لٹکے ہوئے لیموں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔
اُلٹا قمر کے دائیں جانب اس کا دوست اور فلسفی، مرزا بے پروا (جس کا واحد کام لوگوں کے سوالات کے جواب میں صرف ہاتھ ہلا دینا تھا)، ایک زنگ آلود فریم میں لپٹا بیٹھا تھا۔فضا میں بے مقصدیت کی لہریں ہلکورے لے رہیں تھیں ۔مرزا نے اچانک اپنا لپٹا ہوا فریم کھولا اور دیوار میں لگی ایک بے معنی کیل کو گھورنے لگا۔ گھورتے گھورتے مرزا بے پروا نے قمر کو ایسی آواز میں مخاطب کیا جس میں ایک گہرا وجودی کھوکھلا پن نمایاں تھا۔
قمر! کیا تو سمجھتا ہے کہ اس لیموں کا رنگ اتنا ہی پیلا ہے جتنا یہ دراصل بے معنی ہے؟ یا شاید اس کی بے معنویّت اس کے پیلے پن کو ایک تلخ حقیقت عطا کرتی ہے؟
اُلٹا قمر نے اپنی ٹوٹی ہوئی قینچی کو سہلایا، جیسے وہ کوئی پالتو بلی ہو۔اور بولا
رنگ یا معنی، مرزا! یہ دونوں ہی رنگین دھوکے ہیں۔جو سچ ہے، وہ بے تُکا ہے۔ وجودیت چیختی ہے۔تو آزاد ہے، لیکن تیری آزادی کا کوئی مقصد نہیں۔ تو کیا یہ دونوں ملا کر ایک نیا فارمولا نہیں بناتے؟ A = Z ! یعنی آزادی ہی بے معنویّت ہے۔ میں نے یہ قینچی کیوں توڑی ؟ صرف اس لیے کہ کاٹنے کا عمل ایک مقصد رکھتا ہے۔ میں نے مقصد کو ہی کاٹ دیا۔
مرزا بے پروا کو تعجب ہوا ۔مقصد کو کاٹ دیا ؟۔ لیکن اس قینچی کا اس لیموں سے بندھا ہونا بھی تو ایک فیصلہ ہے، ایک انتخاب ہے۔ شور ہو یا خاموشی، انسان کو ہر حال میں انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے یہ جگہ کیوں چنی؟ ہم یہ بحث کیوں کر رہے ہیں؟ ہمیں کہیں اور ہونا چاہیے تھا، مگر ہم ہیں۔ اور یہ ہونا ہی ہمارے وجود کی آفاقی سزا ہے۔ ہم پیدا ہوئے، اور اس سے پہلے ہی ہم پر آزادی کا فیصلہ نافذ کر دیا گیا۔ اب بتا، اس دھاگے کو توڑے گا، یا لیموں کو گرنے دے گا ؟۔
اُلٹا قمر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا سایہ تنصیب پر پڑا اور قینچی اور لیموں ایک لمحے کو ایک نظر آئے۔اُلٹا قمر یہ سن کر غصے سے بولا۔میں اس دھاگے کو نہیں توڑوں گا۔ میں اس لیموں کو نہیں گراؤں گا۔ میں کیا کروں گا ؟۔ میں ذمہ داری لوں گا۔ اپنے اصولوں پر۔ یعنی، میں اس سارے فضول عمل کی ذمہ داری لوں گا! یہ میری آزادانہ، غیر منطقی، اور بے تکا انتخاب ہے کہ میں اس تخلیق کو یہیں چھوڑ کر جاؤں گا۔ یہ تخلیق چیخ کر کہے گی۔میں کسی کام کی نہیں ہوں، لیکن میں ہوں اور میری یہ بے کار موجودگی ہی میرا آفاقی وجود ہے۔
مرزا بے پروا نے اب گویا نتیجے پر پہنچ جانے والے شخص کی طرح بولا۔ بہت عمدہ۔ تو تُو کہتا ہے کہ ‘ہونے’ کا جواز، ‘جواز’ کے نہ ہونے میں ہے۔ لیکن قمر، تیرے چلے جانے کے بعد، کیا یہ تخلیق، یہ قینچی اور یہ لیموں، اپنی بے مقصدیت کو برقرار رکھ پائیں گے؟ یا کوئی نیا خریدار، کوئی گیلری مالک، آئے گا اور اسے جدید فن کا ایک شاندار ٹکڑا قرار دے کر ایک مقصد دے دے گا؟ دنیا بہت چالاک ہے، وہ کسی بھی طرح کے لاجک کو اپنا لاجک بنا دیتی ہے۔
اُلٹا قمرنے جواب د یا۔یہی تو اصل ہے۔ ہم اپنی آزادی سے بھاگ کر ایک نئے ڈھانچے میں پناہ لیتے ہیں۔ لیکن میرا جواب میرا کردار ہے۔ میں ایک لفظ بھی اس تخلیق کے بارے میں نہیں بولوں گا۔ میں دستخط نہیں کروں گا۔ میں وضاحت نہیں کروں گا۔ میں خاموشی کو اپنی آفاقی قدر بناؤں گا۔ اور یاد رکھ، اصل لاجک اس وقت شروع ہوتا ہے جب سارا لاجک ختم ہو جائے۔
اتنا بول کر اُ لٹا قمر نے مرزا کی طرف دیکھا، جو اب پھر سے اپنے فریم میں لپٹ کر ایک زندہ، بے مقصد تصویر بن چکا تھا۔ قمر نے آہستہ سے کمرے کی پرانی، بے کار لائٹ بند کی۔وہ دروازے کی طرف بڑھا، ہاتھ بڑھایا، اور باہر نکل گیا۔جیسے ہی وہ دروازے کے باہر نکلا، اس نے اچانک ایک عجیب و غریب کام کیا۔
اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی، بالکل نئی قینچی نکالی۔
اور پھر، اس نے اس نئی قینچی سے اپنے ہی دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو معمولی سا کاٹ لیا۔
خون کا ایک قطرہ اس کے دائیں پاؤں پر گرا۔
اُلٹا قمر نے دروازہ بند کیا، اور باہر گلی میں نکلتے ہوئے، وہ ہنس رہا تھا۔
یہ ہنسی بے چینی کی نہیں تھی، یہ ہنسی اس بات کی تھی کہ اس نے لیموں یا دھاگے کو نہیں کاٹا، بلکہ خود کو کاٹا۔ اس نے اپنے وجود کو تکلیف دے کر ثابت کیا کہ وہ آزاد ہے کہ وہ بے مقصد عمل کر سکتا ہے، اور یہ تکلیف، یہ غیر منطقی فیصلہ ہی اس کا حتمی مقصد بن گیا تھا۔
رات کی تاریکی میں، سٹور روم کے اندر، لٹکا ہوا لیموں اور ٹوٹی ہوئی قینچی اس گہرے، غیر متوقع عمل کی واحد غیر معقول گواہ رہ گئیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں