میرے ہم عمر سب کے بچپن میں جادو کی دور بین کا گزر ضرور ہوا ہوگا۔ تین چار انچ لمبی اس دور بین کے ایک سرے پے آنکھ لگا کے جب اسے ہلاتے یا گھماتے تھے تو اندر رنگوں اور ان سے بننے والی اشکال کا ایک طوفان سا مچ جاتا تھا۔ کبھی لال پیلے سبز رنگوں کا پھول بنتا تو کبھی چوکور یا مستطیل شکل،جادوئ دوربین کے دوسرے سرے پر نظر آنے والا یہ رومان بھرا منظر اس دور میں بہت کشش رکھتا تھا دل چاہتاگھنٹوں دیکھتے رہو لیکن ایسا ہو تا نہ تھا کہ دوسرے بہن بھائیوں بھی اس دل کش نظارے کے منتظر ہوتے تھے۔ جنوری کی اس نام پوچھتی سرد شام میں جادوئ دوربین کی یاد اس لئے آئ کہ ابھی ابھی میں نے اپنے دوست ڈاکٹر شیرشاہ کی تازہ تحریروں پر مشتمل کتاب” خون دل سے لکھا ہوا” ختم کی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر شیر شاہ ماہر امراض نسواں ہیں اور ایک ایسے زنانہ مرض کے ماہرمرد آہن ہیں جسے طبی زبان میں “ فیسٹولا” کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک بہت اچھے لکھاری، مترجم،صداکار،ادکار،گلوکار اور درد دل سے بھر پور انسان ہیں۔ ان کا مٹھی برابر کا دل بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے دکھ ،ان کی بے ثباتی ، بے قدری کے دکھوں سے بھرا پڑا ہے۔ انھوں نے اس ملک بے سروسامان کے بہت سارے لکھنے والوں سے زیادہ کتابیں بنا کسی ستائش اور صلے کے تحریر کی ہیں۔ ان کی شخصیت مجھے بالکل اس جادوئ دوربین جیسی لگتی ہے۔ اس ملک میں وہ عورتوں کے امراض کا ایک ہسپتال بالکل مفت چلا رہے ہیں۔ جہاں علاج معالجہ کے علاوہ ملک کے کونے کونے سے آنے والی بچیوں،لڑکیوں اور عورتوں کو بلا معاوضہ مڈ وائفری اور نرسنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شیر شاہ ملک کے گاؤں ،گاؤں اور قریہ، قریہ جاتے ہیں۔ ان کا دل اچھی بری،سیاسی غیر سیاسی رازوں کا خزانہ ہے،ان کے دل میں بڑی کہانیاں ہیں۔ ان ہی کہانیوں کو وہ نام بدل بدل کے “ کبھی دل کی وہی تنہائ”،” دل ہی تو ہے”، “ چاک ہوا دل” ،” پھر دل نے کہا” جیسے ناموں کے ساۓ تلے لفظوں کی زندگی دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین تصنیف “ خون دل سے لکھا ہوا” کے ایک سو اکیاون صفحات پر گیارہ کہانیاں ہیں۔ یہ گیارہ کہانیاں مصنف کے ذہن کی پیداوار نہیں یہ سب ان کرداروں کی کہانیاں ہیں جو زندگی کے سفر میں مصنف کو ادھر ادھرُ ملتے رہے اور اپنا حال دل بحالت مجبوری یا شوق میں سناتے رہے۔ ڈاکٹر شیرشاہ کے دل میں چار خانوں کے علاوہ ایک تہہ خانہ بھی ہے جس میں جیتے جاگتے کردار بستے ہیں اور موقع ملنے پر انھیں تہہ خانے کی زندگی سے آزادی مل جاتی ہے۔ زیر تزکرہ کتاب کی پہلی کہانی “ تیری یاد شاخ گل” ہے۔ یہ شاخ گل دو دوستوں کی دوستی کی وہ لازوال کہانی ہے جو ڈاؤ میڈیکل کالج کے کمروں سے شروع ہوئ اور سمندروں، سمندروں چلتی ،پھرتی رہی۔ اس شاخ گل کی ایک ٹہنی چند ماہ قبل سوکھ گئ۔ اس رشتے کے وہ چھوٹے ، چھوٹے لمحے اور ان سے لپٹی یادوں کی بیل کہانی کی جان ہیں۔ ان کی گہرائ اور گیرائ کو صرف وہ دوست ہی سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگیوں میں دہائیوں پر پھیلی دوستی کا رشتہ ہو۔ اس کتاب کی کہانیوں میں مصنف نے محبت کے بہت سارے روپ اور انھیں زندگی دیتے ہوۓیہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ محبت صرف عورت مرد کے ایک بندھن میں بندھ جانے کا نام نہیں۔ محبت کے بہت روپ بہروپ اور رنگوں کا وہ کھیل ہے جو ایک جادوئ دوربین میں بند ہوتا ہے۔ اپنی کہانی “ ایسا بھی ہوا” میں انھوں نے محبت کا ایک بالکل انوکھا روپ دکھایا ہے۔ معاشرے کی طبقاتی تفریق کے سبب دوافراد زندگی کے سفر میں شانہ بشانہ نہ چل سکے۔ لڑکی ایک کھاتے پیتے گھر کے آنگن کی موتیا چینبلی بن گئ اور لڑکا بہتر مستقبل کی تلاش میں دور دیس چلا گیا۔ اس نے محنت اور لگن سے طب کی دنیا میں خوب نام کمایا پر گھر نہ بسایا۔ چلتی زندگی میں وہ چند بار ایک دوسرے سے ملے بھی، ملن کے ان ہی لمحوں میں مرد کے دل میں ایک عجیب وغریب خواہش نے جنم لیا۔ جس کا اظہار ڈرتے، ڈرتے اس نے لڑکی سے کیا کہ وہ اپنی اوُریز سے انڈے ادھار دیدے جو اس کے جرثوموں کے ساتھ فرٹیلائز کرنے کے بعد ایک بھارتی عورت کی کوکھ میں بطور امانت پلے بڑ ھیں گے۔ نو ماہ بعد لڑکا/ لڑکی جوبھی دنیا میں آۓ گا وہ اسے اپنے ساتھ امریکہ لے جاۓ گا۔ وہ بچہ/ بچی زندگی کے اختتام تک اس کے ساتھ رہے گا/ گی۔ یوں وہ بھی اس کے ساتھ رہے گی۔ محبت کی تکمیل کی اس سے اچھی کہانی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں “ کھوئ ہوئ لڑکی” ،” وہ ٹوٹی نہیں” ،” تم میرے پاس ہوتے ہو” ان ساری کہانیوں میں ہماری بھاگتی دوڑتی زندگی کے جیتے جاگتے کردار سانس لے رہے ہیں ، مسکرا رہے ہیں،بول رہے ہیں،آنکھیں کھول بند کررہے ہیں۔ مصنف نے زندگی کی ان سچائیوں کو لفظوں میں زندہ کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کہانیوں کے یہ کردار نہ تو آسمان پے رہتے ہیں، نہ ہی یہ واقعات کسی اور کرہ ارض کے ہیں یہ سب ہمارے اطراف سانس لے رہے ہیں۔ ان کو محسوس کرنے کے لئے بس دیدہ بینا اور دل کا در کھلا ہونا چاہئیے۔ اس کتاب کی سب سے جیتی جاگتی کہانی” میری ماں میرا بھائ” اور اس کا کردار مراد ہے۔ ہماری آج کی زندگی میں کہانی کا مراد ہمارے چاروں اورُ ہے۔ یہ کہانی ایک مراد کی نہیں۔ یہ مراد ! ماہ رنگ بلوچ،سمی بلوچ ، حمید بلوچ، رازق بلوچ،ماما قدیر،سکندر بلوچ، سرفراز بلوچ، یہ بلوچ ،وہ بلوچ ہر تیسرے بلوچ گھر کی کہانی ہے۔ جیتی جاگتی حقیقت یہ ہے کہ کہانیاں نہ تو آسمان سے اترتی ہیں،نہ کھیت میں اُگتی ہیں،نہ فیکٹری میں بنتی ہیں،وہ تو ہمارے اردگرد ہی چل پھر اور سانس لے رہی ہوتی ہیں۔ بس ان کو محسوس کرنے والا دل، دیکھنے والی آنکھ اور زندگی دینے والا قلم چاہئیے۔ ڈاکٹر شیرشاہ اکتیس (۳۱) کتابو کے مصنف ہیں یہ ان کی بتیسویں(۳۲) کتا ب ہے۔ ان کی مطبوعات سے حاصل کی گئ تمام آمدنی کوہی گو ٹھ ہسپتال میں ضرورت مند مریضوں کے علاج اور بہتری کے سفر پے خرچ کی جاتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں