علماء امت کی فکری گہرائی، مسائل پر گہری نظر اور اجتہادی بصیرت ہمیشہ اسلامی تہذیب کا روشن باب رہی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ہر دور کے فکری انتشار میں دین کو جمود نہیں بلکہ رہنمائی کا سرچشمہ بنائے رکھا۔ آج جب جدید دنیا سوالات کی نئی زبان میں ہم سے مکالمہ کر رہی ہے تو بعض مسائل ایسے ہیں جو محض فقہی نہیں رہے بلکہ سماجی، طبی اور فکری سطح پر پوری امت کو سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کم عمری کی شادی کا مسئلہ بھی انہی چیلنجنگ موضوعات میں شامل ہے، جسے نہ انکار کی دیوار سے روکا جا سکتا ہے اور نہ جذباتی جوش سے حل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اسے ایک سنجیدہ سوال، ایک ممکن تجویز اور ایک ذمہ دارانہ مکالمے کے طور پر علما کے سامنے رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
کم عمری کی شادی اب ہمارے معاشرے میں محض روایت یا رسم نہیں رہی بلکہ ایک فکری کشمکش کی علامت بن چکی ہے۔ ایک طرف دینی حمیت ہے جو کسی نئی حد یا قید کو شریعت سے تصادم سمجھتی ہے، دوسری طرف طبی سائنس کے وہ حقائق ہیں جو انسانی جان کے تحفظ کا تقاضا کرتے ہیں، اور تیسری جانب عالمی تجربہ ہے جسے دیکھ کر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کہیں مغرب کی تقلید میں ہم اپنے خاندانی نظام کی بنیادیں ہی نہ ہلا بیٹھیں۔ یہی باہمی خوف اس مسئلے کو الجھا دیتا ہے، حالانکہ یہ شور نہیں بلکہ شعور کا مسئلہ ہے۔
سب سے پہلی حقیقت جسے سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بحث نکاح کے تصور پر نہیں بلکہ انسانی جسم اور ذہن کی ناپختگی پر ہے۔ اسلام نے نکاح کو عبادت قرار دیا، مگر کسی ایسے عمل کو کبھی مطلوب نہیں ٹھہرایا جو واضح ضرر کا سبب بن جائے۔ جدید طب اس امر پر متفق ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کا جسم بالخصوص زچگی کی ذمہ داری کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا، اور یہی ناپختگی متعدد طبی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کم عمر ماؤں میں دورانِ زچگی شدید خون بہنے، بلند فشارِ خون، انفیکشن اور ماں کی اموات کا خطرہ بالغ عورتوں کے مقابلے میں دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسے بچوں میں کم وزن، قبل از وقت پیدائش اور نوزائیدہ اموات کی شرح نمایاں حد تک بلند پائی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی تہذیبی نظریے یا فکری مہم کا نتیجہ نہیں بلکہ سائنسی مشاہدے اور ہزاروں کیس اسٹڈیز کا خلاصہ ہیں، جن سے آنکھ چرا لینا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔
جسمانی نقصانات کے ساتھ ذہنی اور نفسیاتی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ کم عمر لڑکی اپنی شناخت کے ابتدائی مرحلے میں ہوتی ہے، مگر اس سے ایک ہی وقت میں بیوی، ماں اور گھر کی ذمہ دار بننے کی توقع وابستہ کر دی جاتی ہے۔ یہ بوجھ اکثر ذہنی دباؤ، خوف، احساسِ محرومی اور خاموش ڈپریشن کو جنم دیتا ہے، جس کے اثرات ازدواجی رشتوں کی ناپائیداری اور گھریلو تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ مسائل صرف فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کا نقصان بن جاتے ہیں۔
اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کم عمری کی شادی نقصان دہ ہے تو ماضی میں ہمارا معاشرہ اس کے ساتھ کیسے چلتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کا سماج آج سے بالکل مختلف تھا۔ مشترکہ خاندانی نظام، جسمانی مشقت، سادہ غذائی طرزِ زندگی اور ذمہ داریوں کی تدریجی منتقلی اس وقت کے معاشرے کی بنیاد تھی۔ اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس دور میں زچگی کے دوران اموات اور طبی مسائل کہیں زیادہ تھے، مگر نہ ان کا باقاعدہ اندراج ہوتا تھا اور نہ انہیں سماجی مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اس دور میں کم سنی کی شادیوں کی شرح تقریباً پچاس فیصد تک بتائی جاتی ہے، جبکہ آج بغیر کسی سخت قانون سازی کے یہ شرح کم ہو کر محض اٹھارہ سے بیس فیصد کے درمیان رہ گئی ہے۔ یہ کمی کسی تعزیری قانون کا نتیجہ نہیں بلکہ تعلیم، میڈیا، طبی شعور اور عمومی آگاہی کا ثمر ہے۔ یہ حقیقت خود اس بات کی شہادت ہے کہ معاشرتی رویے جبر سے نہیں بلکہ شعور سے بدلتے ہیں۔
اسی تناظر میں یہ سوال سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر نصف صدی میں صرف آگاہی کے ذریعے کم عمری کی شادیوں میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی ممکن ہو چکی ہے تو کیا آج سخت قانون سازی، جو سماجی بے چینی اور ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، واقعی واحد راستہ ہے؟ یا زیادہ بہتر یہ نہیں کہ ریاست، علما اور سماجی ادارے مل کر آگاہی، تعلیم اور صحت کے پیغام کو مضبوط بنائیں تاکہ تبدیلی فطری، پائیدار اور قابلِ قبول ہو۔
عالمی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ جہاں شعور کو قانون پر فوقیت دی گئی وہاں نتائج زیادہ دیرپا نکلے۔ کئی مسلم ممالک نے عمر کی حد مقرر کی، مگر ساتھ ساتھ تعلیم، خاندانی مشاورت اور مذہبی رہنمائی کو مرکزی حیثیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں خاندان کا ادارہ منہدم نہیں ہوا اور نہ اخلاقی انتشار نے جنم لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل خطرہ شادی کی عمر نہیں بلکہ اخلاقی خلا ہے۔
اسلام نے کبھی کم عمری کو فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ نکاح کو اہلیت، رضامندی اور ذمہ داری سے وابستہ کیا ہے۔ فقہ اسلامی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جہاں ضرر غالب آ جائے وہاں مصلحتِ عامہ کو ترجیح دی جائے۔ جدید علما کی آرا بھی اسی دائرے میں گردش کرتی ہیں اور اس اختلاف میں دین کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی وسعت اور زندگی سے ہم آہنگی کا ثبوت پوشیدہ ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو فتووں کے تصادم یا تہذیبی خوف کے بجائے ہمدردانہ فہم کے ساتھ دیکھا جائے۔ اگر علما اپنی اجتہادی بصیرت، ریاست اپنی ذمہ داری اور معاشرہ اپنا شعور یکجا کر لے تو کم عمری کی شادی جیسے حساس مسئلے کا ایسا حل ممکن ہے جو شریعت کی روح سے ہم آہنگ ہو، انسانی جان کی حفاظت کرے اور ہماری آئندہ نسلوں کو ایک مضبوط، باوقار اور متوازن خاندانی نظام عطا کر سکے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں