• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا جنگیں صرف جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں؟۔۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی

کیا جنگیں صرف جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں؟۔۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی

SHOPPING
SHOPPING

روم اپنے زمانے کی طاقت ور ترین ریاست تھی ـ اسے اس دور کے امریکہ سے بھی تشبیہہ دی جا سکتی ہے ـ ایک معمولی غلام؛ اسپارٹکس، جس کی زندگی اور موت پر باٹیاٹس نامی امیر کا اختیار تھا ـ اس نے غلامانہ نظام کے علمِ بغاوت بلند کر دیا ـ وہ اچھی طرح جانتا تھا روم کو شکست دینا ممکن نہیں، پھر بھی اس نے اور اس کے دیگر غلام ساتھیوں نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دی ـ نتیجہ یہ آج بھی غلامی کی لعنت کے خلاف اسپارٹکس مزاحمت کا استعارہ ہے ـ

اسرائیل دورِ حاضر کی وحشی ترین ریاست ہے ـ ڈاکٹر جارج حباش نے جب فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز کیا تو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ صرف اسرائیل ہی نہیں پورے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں جس میں کامیابی کے امکانات نہایت ہی کم ہیں ـ پھر بھی وہ لڑتے رہے، اردن کے ہسپتال میں آخری سانس لیتے ہوئے بھی وہ ٹی وی پر غزہ کو دیکھتے رہے ـ جارج حباش بظاہر ناکام رہے مگر وہ آج بھی دنیا بھر کے محکوم اقوام و زیردست طبقات کے لیے مشعلِ راہ ہیں ـ

بولیویا کے جنگلوں میں لڑتے لڑتے جان دینے والے ڈاکٹر چے گویرا نے اپنے قاتلوں کو للکار کر کہا تھا تم لوگ ایک جسم کو ختم کر سکتے ہو، فکر کو نہیں ـ کیا چے گویرا آج بھی افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ تک حریت پسندوں کے فکری رہبر نہیں ہیں؟ ـ

“مرسوں مرسوں ــــ سندھ نہ ڈیسوں” کے نعرے کے ساتھ شہید ہونے والے ہوش محمد شیدی کو بھی معلوم تھا وہ ایک ایسی قوت سے لڑ رہے ہیں جس نے ہندوستان کی طاقتور ریاستوں کو شکست کی دھول چٹائی ہے ـ ہوش محمد شیدی نے پھر بھی شکست تسلیم کرنے کی بجائے ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ـ کیا وہ مہم جو تھے؟ ـ

خان آف قلات میر محراب خان جانتے تھے ڈیرہ غازی خان سے لے کر خاران تک تمام بلوچ سردار برطانیہ کو سجدہ کر چکے ہیں ـ یقینی شکست کے باوجود انھوں نے بلوچستان برطانیہ کو پیش نہ کیا بلکہ اپنی لاش کو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنا دیا ـ

رانی لکشمی بائی بھی جانتی تھی انگریز کو للکارنا نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا ـ مگر پھر بھی انھوں نے اپنی پوری جان لڑا دی ـ

کیا عبداللہ اوجلان نہیں جانتے تھے ترکی نیٹو کا رکن اور ایک ظالم ریاست ہے؟ ـ یہ جانتے ہوئے بھی انھوں نے ترک ریاست کو چیلنج کر دیا ـ

پیٹرس لوممبا اور کوامی نکرومہ جیسے افریقی رہنما اچھی طرح جانتے تھے ان کی جنگ دیوہیکل امریکہ اور اس کے سرمایہ دار اتحادیوں سے ہے ـ اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود انھوں نے نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور بالآخر موت کی آغوش میں چلے گئے ـ

میلکم ایکس جانتے تھے اگر انھوں نے جدوجہد جاری رکھی تو سزا موت ہے ـ اس کے باوجود وہ آگے بڑھے اور درجنوں گولیاں سینے پر کھا کر قبر میں چلے گئے ـ کیا وہ مہم جو تھے؟ ـ

کیا چارو مجمدار نہیں جانتے تھے وہ صرف بھارت نہیں بلکہ دنیا بھر کی وحشی ریاستوں کو دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں؟ ـ وہ اچھی طرح واقف تھے کہ کم از کم ان کی زندگی میں یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں، اس کے باوجود وہ لڑتے رہے، بنا تھکے، جھکے لڑتے رہے ـ

SHOPPING

جنگ صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتی ـ
کچھ جنگیں فکر و فلسفے کو زندہ رکھنے کے لیے بھی لڑی جاتی ہیں اور ایسی جنگیں آخری فتح تک نسل در نسل چلتی رہتی ہیں ـ

SHOPPING

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *