وارث ۔۔روبینہ فیصل/افسانہ۔۔پہلا حصہ

“میری ترقی ہو گئی ہے “۔سجاد کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔
“یہ تو میرے رب کا کرم ہو گیا “۔ہاجرہ ایک ہاتھ سے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے سجاد کا بریف کیس تھامتے ہو ئے خوشی کے مارے بے ساختہ بولی۔
سجاد پر اس کی خوشی کا جیسے الٹا اثر ہوگیااور اس کی کشادہ پیشانی پر ایکدم تین لکیریں ابھر آئیں، جو عام حالات میں کہیں چھپی بیٹھی رہتی تھیں مگر ہمیشہ غصے،غم اور مایوسی میں ابھرآتی تھیں۔حاجرہ، اس کی بیوی، جو کم پڑھی لکھی خاتون ہونے کے باوجودشادی کے پندرہ سالوں میں ان لکیروں کو پڑھنے میں مکمل مہارت حاصل کر چکی تھی بلکہ اگر خاوند کی مزاج شناسی کی کوئی ڈگری ہوتی تو وہ بلا شبہ اس میں پی ایچ ڈی سے کم کی حق دار نہ ہو تی۔ لکیریں ابھرتے دیکھ کر ہی بھانپ گئی کہ اگلا جملہ کیا آنے والا ہے۔۔۔اوراس کا خوشی سے تمتما ہوا چہرہ یکسر مرجھا ساگیا اور سر کسی عادی مجرم کی طرح خود بخود جھک گیا،جیسے اُس نے سب کردہ ناکردہ گناہ قبول کر لئے ہوں۔اس نے سجاد کے بولنے سے پہلے ہی سن لیا:”کیا فائدہ ان سب ترقیوں کا، محنتوں کا۔۔۔ جب میرا نام ہی مٹ جائے گا “۔۔
“للہ نہ کرے آپ کا نام مٹے۔۔۔۔احساسِ ندامت سے اسے پسینہ آگیاجب سجاد نے اسے اس بات پر کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔

ہاجرہ شادی کے پندرہ سالوں میں صرف دو بیٹیاں ہی پیدا کر سکی تھی جس کی وجہ سے اس کے میکے والے اُسے رحم بھری اور سسرال والے طنز بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔وہ ان سب باتوں اور رویوں کی عادی ہو چکی تھی مگر پھر بھی شوہر کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر وہ ابھی بھی بے چین سی ہو جاتی تھی۔ وہ اپنے شوہر سے محبت نہیں بلکہ اس کی پو جا کر تی تھی،کیوں نہ کرتی وہ تھا ہی اتنا حسین و جمیل،یونانی شہزادوں جیسا،اعلی عہدے پر فائز اور گھر میں بھی بیٹھ کر موٹی موٹی انگریزی میں کتابیں پڑھنے والا۔ وہ تو اپنی شادی کے وقت پورے خاندان کی لڑکیوں کے رشک اور حسد کا مر کز بن گئی تھی،اسے آج بھی نہیں سمجھ آئی تھی کہ یہ قرعہ اس کے نام کیسے اور کیوں نکل آیا تھا۔ وہ خود معمولی سی شکل و صورت کی ایک کم تعلیم یافتہ لڑکی تھی، جس کے پاس شوہر کو دینے کے لئے وفا شعاری،عقیدت اورخدمت کے سوا کچھ نہ تھا۔یہی اس کا جہیز تھا اور یہی اس کی ڈگریاں،بس کچھ لوگوں سے یہ سنا تھا کہ اُس کے ابا نے گاؤں کی کافی زمین سجاد کے نام کر دی تھی اور خود کنگال ہو کے بیٹھ گیا تھا۔اس نے نہ یہ بات کبھی ابا سے پو چھی نہ سجاد سے بس اپنے گھر کے در و دیوا ر چمکانے اور سجاد کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگی رہتی۔ اُس نے اپنی ذات مکمل طور پر مٹا دی تھی۔

سجاد ایک خود پرست انسان تھا اس لئے شروع شروع میں اسے یہ شوہر پرستی بہت بھلی لگی اوروہ خود میں مزیدخدا بن کے بیٹھ گیا۔ اس کے انا کے غبارے میں ہوا اور بھر گئی۔ اس پجارن کو وہ ڈانٹنتا ڈپٹتا تونہیں تھا مگر اس  سے اکتایا اکتایا رہتا تھا ۔ بیٹا نہ ہو نے کی خلش اس کے دل میں پھانس بن کر مسلسل چبھنے لگی۔ وہ خود سے اس قدر محبت کر تا تھا اور خود کو ایسا مکمل انسان سمجھتا تھا کہ یہ محرومی اسے ہضم نہیں ہو رہی تھی،وہ کیسے دنیا میں اپناوارث،اپنا نام لیوا چھوڑے بغیر مر جائے گا۔ دن بدن اس کے اندر اپنی ذات کے نامکمل ہو نے کا احساس شدت پکڑتا گیا۔اس کی ماں مرنے سے پہلے ہر وقت، اٹھتے بیٹھتے اسے یہی کہتی رہتی تھی کہ تیرے باپ کا نام تیرے چھوٹے بھائی سے ہی چلے گا۔
تو لگتا بے نام اور نامراد ہی دنیا سے جائے گا۔ تیرا نام نہیں بچے گا۔۔۔ آخری وقت جو آدھا لفظ اس کی ماں کے منہ سے نکلا تھا۔۔وہ بی۔۔ٹا۔۔ ہی تھا۔آج ترقی کی خوشی میں بھی ماں کے منہ سے نکلا آدھا لفظ اس کے آگے ناچتا گاتا پھر رہا تھا۔۔۔بی۔۔ٹا۔۔۔بی۔۔ٹا۔

اب اسے دن رات اٹھتے بیٹھے یہ کمی زیادہ شدت سے محسوس ہو نے لگی تھی۔اسے لگتا یہ گھر عورتوں سے بھرا ہو ا ہے اور وہ خود بھی جیسے نامرد ہو گیا ہو۔ ویسے اُسے اچھی طرح پتہ تھا کہ بیٹا ہو نے نہ ہو نے میں عورت کا نہیں بلکہ مرد کے کرمووسوم کا کردار ہو تا ہے،اس وجہ سے اسے لگتا وہ ہی بیٹا پیدا کر نے کا اہل نہیں ہے۔ایک کمزور مرد ہے۔بیٹی پیدا کر نا کہاں کی مردانگی ہے؟

اس ڈگریوں والے کے دماغ میں چٹی ان پڑھ ماں کے فقرے گھسے بیٹھے تھے۔اور اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے وہ ہر وقت بیوی ہی کو شاکی نظروں سے گھور گھور کر اسے مجرم بنائے رکھتا تھا۔ اور وہ بھی کسی عادی مجرم کی طرح سر جھکائے چپ چاپ سب برداشت کر تی رہتی اور اسی بات پر شکر کر تی کہ وہ اسے مارتا پیٹتا یا گالیاں نہیں دیتا تھا۔اسے طلاق نہیں دیتا تھا اور گھر سے نہیں نکالتا تھا۔ بس اس کی طرف دیکھتا ہی تو نہیں، نہ بات کرتا اور کبھی کبھار  اکتاہٹ اور خشکی بھرے چند فقرے ہی تو کہتا تھا۔۔ اتنے بڑے گناہ کی اتنی چھوٹی سی  سزا، تو اسے قبول کر نے میں کیا برا تھا۔اور وہ سوچتا یہ میری ہم پلہ یا ہم مزاج ہی ہو تی تو شاید  بیٹا نہ ہو نے کی محرومی مجھ پر اس قدر طاری نہ ہو تی اور میں ایک نارمل زندگی گزار پاتا مگر اب اسے ہاجرہ نام کی اس عورت سے باقاعدہ نفرت شروع ہو چکی تھی اور لفظ بیٹا اس کے حواسوں پر چھانے لگا تھا۔جذبات کے ایسے اندھے سمندر نے اس کے پورے بدن کو بے حسی کی دھند میں لپیٹ دیا تھا۔اورشاید  ایسی حالت ہی میں انسان خود غرضی اور بے حسی کی انتہا کو پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ اور خود پرست انسان کو خود غرض ہو تے زیادہ دیر نہیں لگتی۔۔۔زندگی میں کو ئی بھی کسر رہ جائے، وہ پل بھر کو انسانیت کے پُل سے نیچے چھلانگ لگا جاتے ہیں۔ اور اپنے کسی بھی غلط عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس دلیلوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔۔

پورے گھر میں “بیٹی کی رحمت” سب کی نظروں سے اوجھل تھی اور “بیٹا” نہ ہو نے کا دکھ در و دیوار پر کائی کی طرح ہر طرف پھیلتا جا رہا تھا۔ المیہ یہ تھا کہ دھیرے دھیرے بیٹا ہو نے کے آثار جیسے ختم ہی ہو چکے تھے، کیونکہ اس کا دل اب بیوی سے بات تک کر نے کو نہیں چاہتا تھا اب تووہ اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا،کبھی نظر پڑ بھی جاتی توسجاد کو لگتا جیسے کوئی انتہائی بوسیدہ قابل ِ رحم عورت ادھر اُدھر ماری ماری پھر رہی ہے جس پر رحم کھا کر گھر میں رہنے کو جگہ اور خدمت کا موقع  تو دیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ پیار نہیں کیا جا سکتا اور وہ بھی عمر کے اس حصے میں جب اس کی اپنی جسمانی ضرورتیں بھی کچھ ایسی بے مہار نہ رہ گئی تھیں کہ کہیں بھی، کسی کے ساتھ بھی پو ری کی جا سکیں۔ اب تو کوئی تازگی،کوئی انوکھا پن ہی اسے مائل کر سکتا تھا۔

عورت عادتا جس دائرے میں گھس جاتی ہے اسی کے اندر عمر بھر قید رہ کر گول گول گھوم سکتی ہے، مگر مرد کسی ایک دائرے میں نہیں بلکہ بہت سے دائروں میں قید ہونے کی فطرت رکھتا ہے۔ نیک صفت مرد اس فطرت کو محدود کر نے کی طاقت رکھتے ہیں اس لئے باکمال اور طاقتور مرد کہلاتے ہیں۔کمزور اور بد فطرت مرد اپنی” زندگی “کی خاطراپنی کمزوریوں کو بہت سے دائروں میں جکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سجاد بدفطرت یا بد نیت نہیں تھا، مگر بیٹا نہ ہو نے کے دکھ نے اسے کمزور اور بے حس بنا دیا تھا۔ کمزور بے حس ہو جائے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ وہ خوشی کے اس دن پر خوش ہو نے کی بجائے دکھ میں غرق ہو گیا۔
گھر سے باہر نکل کر دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے سگریٹ سلگا لی، ارد گرد کے گھروں کے چھوٹے لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ وہاں تقریباً  سبھی گھروں کے بچے تھے ، ایک اس کا نامراد گھر ایسا تھا جس میں سے کرکٹ کھیلنے کے لئے کو ئی نہیں نکلتا تھا۔ اس کی لڑکیاں گھر کے اندر کیا کھیلتی رہتی تھیں اس نے کبھی  جاننے  کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔وہ یا آسمان پر اڑتی پتنگیں دیکھا کرتا اور یا باہر گلی میں کر کٹ کھیلتے بچوں کو۔۔اس کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا جسے اس نے سگریٹ کے دھویں میں اڑانے کی کوشش کی، اسی وقت اس کی بیٹیاں اندر سے چہکتی ہو ئی آئیں۔۔”ابو ابو  مبارک ہو، ابو مٹھا ئی۔۔ہماری مٹھائی۔۔۔”

“اندر جاؤ میں لے کے آتا ہوں۔۔”اس نے بیزاری سے ان کی طرف دیکھے بغیراپنے آنسو اپنے اندر انڈیلتے ہو ئے کہا۔
ان بچیوں کے لئے بھی یہ بیزاری بھرا انداز کسی ڈانٹ سے کم نہیں ہوتا تھا، وہ سہم کراندر چلی گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ باپ خوش ہو گا تو وہ اسی کے صدقے چند لمحے باپ کی محبت یا مسکراہٹ کے کما لیں گی مگر اس کے برعکس وہی باپ کی دل توڑنے والی اکتاہٹ۔

سجاد سگریٹ کے مرغولے بنا بنا کر ہوا میں چھوڑ رہا تھا کہ عین اسی وقت سگریٹ کے دھویں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک میٹھی سی خوشبو اس کے نتھنوں میں آگھسی تو اس نے چونک کر خوشبو کی سمت دیکھا، ایک جوان لڑکی سائیکل چلاتی تیزی سے اس کے پاس سے گزر  گئی تھی،گزر جاتی تو شاید  وہ سب نہ ہو تا جو بعد میں ہوا تھا مگروہ تھوڑی ہی دُور جا کر رک گئی اور اپنی لمبی گردن گھما کرسجاد کو بڑی گہری نظروں سے دیکھنے لگی،لڑکی کی ایسی بے باکی اور شوخی سے سجاد کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے میں دھڑکنا بھول گیا ہو۔وہ کوئی لفنگا نہیں تھا مگر اس لڑکی کی نظریں اسے بے قرار کر گئیں۔اس زمانے میں لڑکیاں بھی ایسی بے باک اور بے پردہ کہاں گھومتی تھیں، اور اس پر طر ہ یہ کہ اس کی اپنی زندگی میں بد رنگی چار سمت پھیلی ہو ئی تھی اسی لئے رنگوں کی یہ پچکاری اس کے پورے وجود کو تر کر گئی۔اور اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ لڑکی اس کی بد حواسی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔یہ منظر چند لمحے تک سکرین پر چلا، اور بعد میں اسے دونوں اپنی پہلی ملاقات کہہ کر یاد کرتے تھے۔

کچھ دنوں میں ہی سجاد کو پتہ چل گیا کہ یہ لڑکی اوراس کا خاندان ساتھ والے گھر میں نئے کرائے دار کے طور پر حال ہی میں اس محلے میں آئے تھے۔ وقت ضائع کیے  بغیر سجاد نے لڑکی کے باپ سے دوستی کر گانٹھ لی اور ان کے گھر بھی آنا جانا شروع کر دیا تھا، باتوں باتوں میں اسے پتہ چل چکا تھا کہ اس لڑکی کے بہت سے رشتے اس کی زیادہ تعلیم اور شوخ طبیعت کی وجہ سے واپس ہو چکے تھے، اور اب پاکستانی معیار کے مطابق، اس کی اچھے رشتے کی عمر گزر چکی تھی۔

لڑکی جس کا نام ثریا تھا،وہ ایسی سیدھی سادی عام سی سوچ کی لڑکی نہ تھی، وہ اس الھڑ عمر میں بھی بہت پریکٹکل تھی، اپنے مالی حالات کو مدِنظر رکھتے ہو ئے،ثریا کو اندازہ تھا کہ کوئی جوان امیر لڑکا تو اب اسے گھاس نہیں ڈالے گا،اور کسی غریب جوان سے وہ شادی کر کے اپنی باقی کی زندگی بھی غربت میں نہیں گزارنا چاہتی تھی۔اسی لئے اسے کسی جوان غریب لڑکے سے زیادہ کسی امیر پکی عمر کے رشتے کا انتظار تھا۔سجاد کی شخصیت اسے دیکھنے میں بھی متاثر کن لگی تھی اور وہ امیر بھی تھا۔بس ایک ہی خامی تھی کہ پکی عمر کے ساتھ ساتھ شادی شدہ اور دو بچیوں کا باپ تھا۔ مگر ثریا کے پاس نہ سوچنے کا وقت تھا اور نہ انتخاب کا موقع ۔دوسری طرف سجاد کو ایسی لڑکی مل رہی تھی جو اس کی موجودہ بیوی سے تعلیم میں زیادہ اور عمر میں کم ہو نے کے ساتھ ساتھ رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔

‘مجھے بیٹا چاہیے۔۔”۔ سجاد کا یہ مطالبہ گھر میں بڑھنے لگا۔۔ اٹھتے بیٹھتے بس یہی بات ہو نے لگی۔۔
ہاجرہ سہم کرکمزور آواز میں احتجاج کرتی” میں کیا کر سکتی ہوں “۔وہ تو اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ سجاد کو یہ بھی جواب میں نہیں کہہ سکتی تھی کہ تم میرے پاس دو پل کو رکتے تو ہو نہیں، بیٹا کہاں سے لاکے دوں۔ مگر وہ ہر قصور کا الزام اپنے سر لینے کی اس قدر عادی ہو چکی تھی کہ اسے سجاد کی اِس بیزاری اور اپنے سے دوری میں بھی اپنا ہی قصور نظر آتا تھا۔ اور مرد جب بے وفائی پر اتر آتا ہے تو عورت کی ذات میں کیڑے ڈالنا اس کے لئے کون سا مشکل کام ہو تا ہے اور سجاد تو یہ کام عرصہ ٗ دراز سے سر انجام دے رہا تھا۔ ثریا کی  زندگی میں آنے کے بعد تو اب اس نے مزید  سفاکی کے ساتھ ہاجرہ کو احساس گنا ہ میں مبتلا کر نا شروع کر دیا تھا۔ہاجرہ کی ذہنی اذیت اور احساسِ جرم ناقابل ِ بر داشت ہو نے لگا۔ اب اس کا دل کرتا وہ خود کشی کر لے اور اس” زندگی “سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کر لے جس زندگی سے سجاد کو بیٹا نہیں مل رہا۔ صرف اس کی وجہ سے سجاد بے نشان رہ جائے گا۔ صرف اس کی وجہ سے۔۔وہ اٹھتے بیٹھتے اپنے اپنا کو کوسنے دینے لگی تھی۔۔

سجاد ایک طرف ہاجرہ کو مہارت سے مجرم بنانے کے ساتھ ساتھ دوسری طرف بڑی مستقل مزاجی سے ثریا کے گھر والوں کو شادی کے لئے منانے پر لگا ہوا تھا۔ آخر کار اس کی محنتیں رنگ لائیں اورایک دن وہ دونوں محاذوں پر کامیاب ہو گیا۔۔ایک طرف ہاجرہ مکمل مجرم بن گئی اور دوسری طرف ثریا، دلہن کا سرخ جوڑا پہنے سجاد کی ذات کی تکمیل کے لئے،ایک رات اس کے آنگن میں کسی روشن ستارے کی طرح اتر آئی۔

وہ رات ماں بیٹیوں پر بڑی بھاری تھی،وہ بند کمرے میں ایک دوسرے سے منہ چھپائے، منہ دبائے روتی رہیں، تاکہ نہ ان کے آنسو کسی کو دکھائی دیں نہ سنائی دیں۔۔بند کمرے کے اندر ان کی سسکیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر نہ جانے خدا سے کیا کہتی رہیں مگر آواز بند دروازے اور کھڑکیوں سے باہر نہ نکلی، ورنہ ان پر خوشیوں پر منحوست کا سایہ ڈالنے کا الزام لگنے کو تیار کھڑا تھا۔
ثریا کے ساتھ شادی سے صرف ایک دن پہلے سجاد نے ماں بیٹیوں کو بتا یا تھا کہ;
” مجھے اپنا وارث چاہیے، اپنا نام چاہیے، ورنہ میں بے نام و نشان مر جا ؤں گا،اس لئے،صرف ا س لئے میں دوسری شادی کر رہا ہوں۔ اور اگر تم لوگوں کو مجھ سے محبت ہے تو میری خوشی، اور میری ذات کی تکمیل پر خوش ہو نا، رونا دھونا نہیں ڈالنا۔یہ بھی تمھارے دوسرے فرائض کی طرح ایک فرض ہے، تم لوگوں پہلے کی طرح اس گھر میں رہو گی۔” اور وہ تینوں پتھر کی طرح ایک ہی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھیں۔۔

ثریا، غریب گھر کی تیز و طرار لڑکی تھی،ایسی لڑکیاں اپنے تحفظ اور مستقبل کو محفوظ کر نے کے لئے کسی بھی حد سے گذر جاتی ہیں۔اور جو بھی انہیں لگے کہ راستے کا کانٹا ہے اسے اپنے ہاتھوں سے نوچ پھینکتی ہیں۔چھوٹے گھروں میں بیٹھ کر اونچے خواب دیکھنے والیوں کی نظر اور دل دونوں تنگ ہو جاتے ہیں اور وہ زندگی کے سمندر میں اپنے بچاؤ کے لئے جب زور زور سے ہاتھ پاؤں مارتی ہیں تو راستے میں کون کون آرہا ہے، وہ ذرا بر ابر بھی پروا نہیں کر تیں۔اس پر افتاد یہ کہ ثریا کو اپنی جوانی اور تعلیم پر بڑا مان تھا۔ اس پر شوہر کی اُس پر جان نثاریاں۔۔سب نے مل جل کر اسے بہت مغرور اور بد دماغ کر دیا تھا۔ اور اسے ان تین کمتروں کواپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا۔ اور جب وہ پہلے بچے کے ساتھ امید سے ہو ئی تو پھر تو سمجھو کسی ملک کی رانی ہی بن بیٹھی۔۔۔ہاجرہ اور اس کی بیٹیاں ہر دم اس کی خدمت میں لگی رہتیں۔ابھی ثریا جانتی نہیں تھی کہ وہ بیٹے کی ماں بننے جا رہی ہے یا بیٹی کی۔

کبھی کبھی  اسے سجاد کی بیٹیوں سے خطرہ محسوس ہوتا کہ کہیں کسی دن ان کے باپ کے دل میں ان کے لئے محبت نہ جاگ جائے، اب اُسے سجاد کی محبت کی لاشریک عادت پڑچکی تھی،اس لئے وہ سوچتی جیسے ہی اس کا بیٹا ہو گا وہ اس عورت کو اس کی بچیوں سمیت یہاں سے نکال باہر کر ے گی۔ مگر فی الحال وہ ان سب پر راج کر نے کے مزے اٹھا رہی تھی۔

سجاد اس پکی عمر میں، ایسی تازگی اور رنگ پا کر بڑا مدہوش تھا،اور یہ مدہوشی اس وقت عروج پر جا پہنچی جب خدا نے اسے چاند سے بیٹے سے نوازا۔۔ثریا کے بیٹے کے پیدا ہوتے ہی ہاجرہ اور سکڑ گئی، اس کی بیٹیاں اور سہم گئیں،ثریا اور تنگ دل ہو گئی، سجاد ان ماں بیٹیوں سے اور بیزار اور ثریا پر اور جان نثار ہو گیا۔ثریا کے بچے کو زکام بھی لگتا توانگلی ہاجرہ اور اس کی بیٹیوں کی بد نظر کی طرف اٹھ جاتی۔۔ اس سب کے نتیجے میں، اُس گھر کی زمین جہاں، ہاجرہ دلہن بن کر آئی تھی، جہاں اس نے دو بیٹیوں کو جنم دیا تھا، جہاں اس نے سجاد کی دن رات خدمت اور وفا شعاری کی تھی،وہ اس کے لئے اتنی تنگ پڑ گئی کہ اُسے اپنی دونوں بیٹیوں سمیت وہاں سے نکلنا پڑا۔ وہ گاؤں میں اپنے ابا کے گھر چلی گئی اور مرتے دم تک وہیں اس شخص کا انتظار کر تی رہی جس نے نہ کبھی اسے نہ  اس کی بیٹیوں کو کبھی پلٹ کر دیکھا۔
لڑکیاں ماں سے پو چھتی تھیں ہم اپنے گولو مولو بھائی کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟
وہ خاموش رہتی۔۔

لڑکیاں پوچھتیں “اماں ابو صرف لڑکوں کے کیوں ہو تے ہیں، لڑکیوں کا کوئی ابو کیوں نہیں ہو تا؟ ‘
وہ پھر خاموش رہتی۔اب اس کے پاس بہانے کو آنسو بھی نہیں تھے۔ بس پھر وہ مرتے دم تک خاموش ہی رہی،ایک آہ بن کر ایک سسکی بن کر۔نہ کوئی احتجاج نہ کسی سے شکوہ، نہ چیخ و پکار۔وہ اسی بات پر شکر کرتی کہ سجاد کا نام ابھی بھی اس کے نام کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تینوں ماں بیٹیاں اسی گاؤں میں گھٹ کے رہ گئی تھیں۔۔۔۔ بعد میں باپ کے بغیردونوں بیٹیوں کی بھی وہیں شادیاں ہو ئیں اور وہیں ان کے بچے پیدا ہو ئے۔۔

سجاد اپنی زندگی میں ایسا مگن ہوا کہ اس نے کبھی مڑ کر نہ دیکھا۔ کیوں دیکھتا؟ ثریا نے اسے چار بیٹوں سے نواز ا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ثریا کے پیروں کی خاک سمجھتا تھا اور اس کے پاؤں دھو دھو کے پیتا تھا،جو عورت ایسے خود پرست مرد کی ضرورت پوری کر دے اس کے ہاتھ اپنی لگامیں دے دیتے ہیں۔گو کہ اس کا ایک بیٹا بچپن میں ہی تیز لو لگنے سے مر گیا تھا مگر ابھی بھی ثریا کی بدولت وہ تین بیٹوں کا باپ کہلاتا تھا، نئے ملنے جلنے والوں کی اکثریت کو گاؤں میں گُم ہو جانے والی ان تین مادہ لاشوں کے بارے میں علم ہی نہیں ہو تا تھا۔ سب سجاد کو بیٹوں کا باپ ہی سمجھتے تھے۔
اب سجاد اپنی اماں کی قبر پر سینہ پھلا کر جاتا، پھول ڈالتا اور کہتا:
“دیکھ اماں تین تین بیٹے، میرے نام کے رکھوالے، میرے وارث، ہمارے اباؤ اجداد کا نام اب میرے بیٹوں سے چلے گا، چھوٹے بھائی کے بیٹے سے نہیں۔۔ میں نے دیے ہیں اس خاندان کو وارث۔۔۔میں نے”،انگلی سے سینہ زور سے ٹھونکتااوراسے یوں لگتا جیسے اماں کی قبر کی مٹی بھی مسکرا اٹھی ہو۔۔اور وہ ثریا کے اور ناز نخرے اٹھاتا۔ وہ پانچ مردوں کے گھر میں ایک حکم چلانے والی ملکہ عالیہ تھی۔ اور اسی ملکہ کے حکم سے نہ کبھی سجاد اور نہ ان کے بیٹے کبھی ان گم شدہ روحوں کو ملنے بھی گئے ہوں۔تھوڑے بہت پیسے بجھوا دیے جاتے اور باپ ہو نے کا فرض پو را ہو جاتا۔
چاروں بیٹوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں داخل کر وایا گیا۔ خاندان کے وارثوں کے درمیان کس کا گھوڑا کتنا اعلی ہے اب اس محاذ پر لڑائی شروع ہو چکی تھی۔سجاد بیٹوں کی تعلیم پر پیسہ پانی کی طرح بہانے لگا۔ جیسے جیسے وہ تینوں بیٹے جوان ہو تے گئے، سجاد بوڑھا ہو نے لگامگر ثریا ویسی کی ویسی زور آور   ہی رہی ، ثریانوازنے پر آتی تو اپنے ہی خاندان کو نوازتی، دوسروں کے لئے اس کی نظر اور دل ہمیشہ تنگ ہی رہتا، بڑا بیٹا قابل نکلا تو اس نے سوچا اپنے ہی خاندان کی لڑکی کا بھلا   کروں۔ اس لئے دھوم دھام سے اپنی بہن کی بیٹی کو بیاہ لائی۔ دنیا بھر کو مدعو کیا گیا مگرنظر لگنے کے خوف سے ہاجرہ اور اس کی بیٹیوں کو نہ بلا یا گیا۔ ایک بیٹے کی موت کے بعد ثریا کو اس بات پر کامل یقین ہو چکا تھا کہ ہاجرہ اور اس کی بیٹیاں سارا دن جھولی پھیلائے انہیں بد دعائیں دیتی ہیں۔ اور ہر وقت اس کے گھر کی خوشیوں پر کالی نظریں بیٹھی رہتی ہیں اور شاید ہی کوئی اور کام کرتی ہوں۔

دوسری طرف ہا جرہ کو جب سجاد کے بڑے بیٹے کی شادی کی خبر ملی تو اس کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھر گئیں اور وہ اپنی بیٹیوں کو بتانے لگی دیکھو تم لوگوں کے باپ کی نسل کبھی ختم نہیں ہو گی۔اس کے وارث اس کی نسل بڑھائیں گے۔بیٹیاں اپنے لڑکوں کو غصے سے گود سے ایسے جھٹک دیتیں جیسے سجاد کی نسل اور نام کے وارث نہیں تو بس دنیا میں بے کار ہی ہیں۔۔

جاری ہے!

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *