گل پلازہ سانحہ اور سیاست/ اطہر شریف

سانحہ کل پلازہ بہت بڑا سانحہ اس سلسلے میں کوئی شک و شبہ نہیں ایک دلسوز اور دہلا دینے والا واقعہ ہے لیکن افسوس کچھ سیاست دان اور لوگ اس پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں کسی کو اس کی آڑ میں 18 ویں ترمیم پر تنقید اور وہ لوگ جو 30 سال مسلسل کراچی پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کرتے رہے جن کے دور میں روز کراچی کو لاشوں کا تحفہ ملتا تھا اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکڑی اور 12 مئی جسے واقعات شامل ہے وہ جنہوں نے اس پلازہ کی غیر قانونی منظوری دی وہ اس کی آڑ میں کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی باتیں کر رہے ہیں
اب ہم حقائق سے گل پلازہ کا جائزہ لتے ہیں یہ کب اور جس کے دور میں منظور ہوا اور کیسے بغیر منظوری سے 400 دکانوں سے 1200 دکانوں تک پہنچ گیا
گل پلازہ کی زمین کب، کس نے اور کس کو الاٹ کی
گل پلازہ کی زمین کے ایم سی کی ملکیت تھی۔ گل پلازہ کی زمین 1883 میں ٹرام سروس کیلئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی۔
جینیکا کمپنی نے 1979 سے زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں۔
1983 میں زمین کی 99 سالہ لیز ختم ہوگئی، لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جینیکا نامی گروپ نے خریدلی تھی۔
جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کے دورمیں زمین کا تبادلہ ہوا۔ عبدالستار افغانی 1979 سے 1987 تک میئر رہے۔
عبدالستار افغانی کے دور میں لیز ختم ہونے کے باوجود تعمیرات شروع ہوئیں، لیز ختم ہونے کے باوجود گل پلازہ کی عمارت کی تعمیرشروع کردی گئی۔
بغیر لیز گل پلازہ کی تعمیرات 7 سال تک جاری رہیں۔
گل پلازہ کی زمین ایم کیوایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں لیز پردی گئی۔ کےایم سی کی زمین گل پلازہ کے لیے 3 نومبر1991 کو باضابطہ الاٹ کی گئی۔
گل پلازہ کی لیز پر سابق میئر کراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں۔ کےایم سی کی زمین گل پلازہ کیلئے صرف 3 روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی۔ 2003 میں گل پلازہ کے اضافی فلور ریگولرائز کیے گئے۔
اضافی فلور کی منظوری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان کے دورمیں دی گئی۔

ایسے واقعات تسلسل سے پورے پاکستان میں ہو رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی مخالف میڈیا کئی کئی دن مسلسل اس پر لاہو کوریج اور مسلسل پروگرام کرتے ہیں اور پیپلز پارٹی پر مسلسل تنقید کرتے ہیں جب ایسے واقعات پنجاب میں ہوتے ہیں تو مختصر خبر کے ساتھ دیا جاتا ہے

اس سلسلے میں صرف چند واقعات کی مثال دیتا ہو
21 نومبر 2025 کو
فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے بچوں اور خواتین سمیت 20 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے، جبکہ دھماکے کے باعث متعدد گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔
فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں واقع کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے سے قریب واقع 9 گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے فیکٹری کے ملبے سے مزدوروں اور قریبی گھروں کے ملبے سے بچوں اور خواتین سمیت20 افراد کی لاشیں جبکہ متعدد زخمی حالت میں نکال کر الائیڈ اسپتال منتقل کردیا تھاجہاں 7 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

julia rana solicitors london

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری میں آتشگیر مادہ ذخیرہ کیا گیا تھا، فیکٹری مالک نے وفاقی حکومت سے این او سی حاصل نہیں کیا تھا غفلت اور غیر تربیت یافتہ عملے کی وجہ سے حادثہ ہوا۔
کمیٹی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ فیکٹری مالک نے وفاقی حکومت سے این او سی حاصل نہیں کیا تھا، اور فیکٹری میں آتش گیر مادہ ذخیرہ کیا گیا تھا، فیکٹری میں حادثہ غفلت اور غیر تربیت یافتہ عملے کی وجہ سے ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس سلنڈر میں لیکج اور شارٹ سرکٹ سے کیمیکل نے آگ پکڑی، فیکٹری میں بوائلر نصب نہیں تھا، اور وہاں مختلف قسم کے کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس دھماکے میں 4 خاندان اجڑ گئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 7 افراد بھی شامل ہیں، ان سات میں 62 سالہ شفیق، ان کی اہلیہ، ایک بیٹا، 3 پوتے اور ایک پوتی تھی۔ ایک اور خاندان کے ماں، تین بیٹیاں اور بیٹا بھی جان سے گئے، تیسرے خاندان کے باپ اور تین بیٹے بھی دھماکے کی نذر ہو گئے جب کہ فیکٹری کے 2 مزدور بھائی بھی جاں بحق ہوئے۔
آج مورخہ 24 جنوری 2026 کو
لاہور کے علاقے گلبرگ کے ہوٹل کی بیسمنٹ میں اچانک آگ لگنے کے نتیجے میں3 جاں بحق چھ افراد زخمی ہو گئ-میں دعوے سے کہ سکتا ہو پورے پاکستان کے پلازہ اور بلڈنگ میں 95% فیصد میں کوئی اخراج اور فائر فائٹنگ کے آلات سے خالی ہو گئے جو آکسیجن سلینڈر ایکسپائر ہونگے اور تمام پاکستان بھر میں متعلقہ محکموں نے اس سلسلے میں اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply