• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • میٹا ماڈرن ازم (مابعد جدیدیت کے بعد) اور ادب کی شعریات /منصور ساحل

میٹا ماڈرن ازم (مابعد جدیدیت کے بعد) اور ادب کی شعریات /منصور ساحل

یہ انسانی نفسیات اور معاشرتی اقدار کے ارتقاء کا ایک فطری نتیجہ ہے کہ ہر فکری تحریک اور علمی ڈسکورس اپنے وجود میں بقا اور فنا کے تصور کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہی ارتقائی فارمولا ادبی و فلسفیانہ رویوں پر بھی مُنطَبِق ہوتا ہےجہاں پرانی قدروں کے مٹتے ہی اور نئے افکار جنم لیتے ہیں۔ جدیدیت جو عقلیت، ترقی اور حتمی سچائیوں پر یقین رکھتی تھی اپنی انتہاؤں کو پہنچی تو مابعد جدیدیت کے رجحان نے جنم لیا جس نے ہر جامع بیانیے پر شک کرنا سکھایا۔جدیدیت کا دور روشن خیالی کا دور تھا جس نے سائنس، منطق اور انفرادیت کو مرکزیت دی۔ اس کے پیروکاروں کا ماننا تھا کہ انسان عقل کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کرسکتا ہے ۔یہ دور حتمی سچائیوں، یونیورسل اقدار اور مہابیانیوں پر یقین رکھتا تھا۔جدیدیت کے بعد مابعد جدیدیت نے بیسویں صدی کے آخر میں اپنی جڑیں مضبوط کیں اور جدیدیت کے تمام جامع بیانیوں کو چیلنج کیا۔ اس نے سچائی کے یک رخی تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت نسبتی (الگ الگ )ہے اور ہر فرد یا ثقافت اپنی الگ سچائی رکھتی ہے۔ مابعد جدیدیت نے شک اور ردِ تشکیل کو اپنا ہتھیار بناکر تمام مہابیانیوں کا رد پیش کیا۔ مگر یہ رجحان بھی اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے تنہائی، بے معنویت اور معاشرے میں بے اعتمادی کا سبب بنا۔اب مابعد جدیدیت کے بعد میٹا ماڈرن ازم کا عہد شروع ہوچکا ہےجو جدیدیت کی عقل پرستی،منطقیت،انفردیت پسندی اور انسان مرکز یت اور مابعد جدیدیت کی تکثیریت،نسبتیت اور مقامیت کے درمیان ایک متوازن رویہ پیش کرتا ہے۔ میٹا ماڈرن ازم نہ تو مطلق سچائی کا قائل ہے اور نہ ہی مکمل تشکیک کا۔ یہ سچائی کو ایک کثیر جہتی عمل مانتا ہے۔ لیکن یہ ان سچائیوں کا تنقیدی عمل بھی ہے۔یہ نہ صرف بیانیوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ ان کی ناقدانہ جانچ کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔میٹا ماڈرن ازم انسانی تجربے کی پیچیدگی کو سمجھتے ہوئے امید اور حقیقت، انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہےجو موجودہ دور کے ادبی و فلسفیانہ تقاضوں کے عین مطابق ہے۔میٹا ماڈرن ازم کی شعریات کو سمجھنے سے پہلے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا مختصر تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
جدیدیت کا فکری منظر نامہ بنیادی طور پر انسانی عقل کی حاکمیت اور روایتی اقدار کے تنقیدی جائزے پر استوار ہوا۔ اس رجحان نے عقلیت پسندی کو حتمی معیار قرار دیتے ہوئے مذہبی عقائد، مابعدالطبیعاتی تصورات اور اجتماعی روایات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جس کے نتیجے میں سیکولرازم، شکوک پرستی اور فرد کی خودمختاری جیسے تصورات پروان چڑھے۔ اس فکری انقلاب نے بیسویں صدی میں ایک طرف سائنسی ترقی، انسانی حقوق اور فکری آزادی کے دروازے کھولے تو دوسری طرف معنی کی تلاشی، وجودی بحران اور اخلاقی خلا جیسے مسائل بھی پیدا کیے۔جدیدیت کے مرکزی مباحث میں انسان مرکزیت کا فروغ سب سے اہم ہے جس میں انسانی وجود اور اس کی صلاحیتوں کو کائنات کے مرکز میں رکھا گیا۔ اس تصور نے عقلیت اور تخلیقی صلاحیتوں پر زور دے کر انسانی عقل کو حتمی اتھارٹی قرار دیا۔ ساتھ ہی فرد کی آزادی اور شخصی ترقی پر زور دے کر انفرادی شناخت کو تقویت ملی جبکہ سائنس کو تمام علوم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے تجربہ اور مشاہدے کو علم کے حصول کا واحد ذریعہ تسلیم کیا گیا۔ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مذہبی عقائد اور کلیسا کے روایتی اثرات کمزور پڑے جس سے مذہبی بیانیہ چیلنج ہوا۔ علم کے پھیلاؤ میں تیز رفتاری آئی اور تعلیم کے عام ہونے سے معاشرتی شعور میں اضافہ ہوا۔ سب سے بڑھ کر انسان کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے عقل کو مطلق حیثیت دی گئی۔ یہ تمام عوامل مل کر جدید معاشرے کی تشکیل کا بنیادی فریم ورک فراہم کرتے ہیں جو اپنے ساتھ فکری آزادی اور مادی ترقی کے مواقع بھی لاتے ہیں اور معنوی بحران اور روحانی بے چینی کے چیلنجز بھی۔

julia rana solicitors london

مابعد جدیدیت کی تعریف و تشریح ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل کام ہے کیونکہ یہ ایک سیال، غیر مرکزی اور کثیر الجہت تصور ہے۔ یہ کسی مخصوص ڈھانچے یا مخصوص نظریے پر قائم نہیں بلکہ یہ مختلف اور بعض اوقات متضاد معانی و مفاہیم کا حامل ہے۔ مختلف مفکرین فلسفی اور نقاد اسے اپنے اپنے تناظر میں سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی کوئی واحد، آفاقی اور جامع تعریف ممکن نہیں۔یہی تکثیری اور لامرکزیت کا پہلو مابعد جدیدیت کی فطرت کو تشکیل دیتا ہے۔ یہ کسی ایک مرکز، حتمی حوالہ نقطے یا غالب بیانیے سے وابستہ نہیں رہتی بلکہ ادب، فنون، عمرانیات، سیاسیات، مذہب اور ثقافت جیسے متنوع شعبوں میں مسلسل تبدیلی، تنقید اور نئی تشریحات کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی مسلسل حرکت اور کھلے پن کے باعث مابعد جدیدیت کو بند تعریف میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ مابعد جدیدیت حقیقت کی نوعیت کے بارے میں ایک بنیادی تبدیلی کا نظریہ پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق حقیقت کا کوئی فطری یا خودکار وجود نہیں بلکہ یہ زبان، ثقافت اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کے ذریعے تعمیر ہوتی ہے۔ فوکو کے مطابق علم کبھی بھی غیر جانبدار نہیں ہوتا بلکہ ہر علمی نظام کے پیچھے طاقت کا ایک نیٹ ورک کام کر رہا ہوتا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کون سی باتیں “سچ” قرار پائیں گی۔ اسی طرح مابعد جدیدیت جدیدیت کے تمام بڑے بیانیوں (جیسے ترقی، آزادی، سائنس اور عقل) کو محض افسانے قرار دیتی ہے جنہیں طاقتور گروہوں نے مسلط کیا ہے۔متن کی تشریح کے حوالے سے مابعد جدید نقطہ نظر انتہائی انقلابی ہے۔ اس کے مطابق ہر متن میں تضادات موجود ہیں اور اس کا کوئی ایک مستحکم یا حتمی معنیٰ نہیں ہوتا۔ یہ نظریہ ردتشکیل، پس ساختیات اور لاتشکیل جیسے تصورات پر مبنی ہے۔ کوئی بھی اخلاقی یا علمی معیار قطعی اور مکمل نہیں ہے بلکہ ہر چیز کا انحصار مقامی تناظر پر ہے۔ مابعد جدیدیت کسی بھی واحد کہانی یا “عظیم بیانیے” پر یقین نہیں رکھتی بلکہ تمام یک رخا دعوؤں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ یہ شک، تنقید اور کھلے ذہن کے ساتھ دنیا کو دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے اور سکھاتی ہے کہ ہمارے تمام یقین، اقدار اور ادارے تاریخی تعمیرات ہیں جنہیں مسلسل چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔
درحقیقت انسانی فکر و ثقافت جمود اور یکسانیت کو قبول نہیں کرتی۔ جدیدیت کی سخت عقلیت اور مابعد جدیدیت کی ہر چیز پر تنقید اور تشکیک نے ایک ایسا فکری خلا پیدا کر دیا تھا جس میں نہ تو مکمل یقین کا جذبہ باقی رہا اور نہ ہی مکمل شک کے بعد کوئی تعمیری راستہ نظر آتا تھا۔ یہ وہ تاریخی و فکری تناظر تھا جہاں پر میٹا ماڈرن ازم کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ رویہ / تحریک اس جمود کو توڑنے اور اس خالی جگہ کو پر کرنے کے لیے ایک تخلیقی ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔میرے اس موقف کی وضاحت گریگ ڈمبرز نے یوں کی ہے:( مفہوم)
“ثقافتی و فکری ارتقا کے سفر میں روایت نے علم اور طریقوں کے تحفظ کے لیے بزرگوں اور مذہبی صحیفوں کو معیار بنایا، جبکہ جدیدیت (۱۸۸۰-۱۹۵۰) نے انسانی عقل اور اختراع کے ذریعے روایت کے بوجھ کو ہٹا کر ایک نئے اور زیادہ سچے علم کی تخلیق کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد پسِ جدیدیت (۱۹۵۰-۱۹۹۰ء) نے جدیدیت کے آفاقی سچائی کے تصور پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے سچائی کو سیاق و سباق سے وابستہ اور نسبتی قرار دیا جس کے فنون میں طنز اور بین المتونیت نے مرکزی حیثیت پائی۔ تاہم اس صدی کے آغاز میں نمودار ہونے والی میٹا جدیدیت نے پسِ جدیدیت کی طنزیہ نسبیت اور جدیدیت کی سادہ کاری کے ساتھ ساتھ روایت کے وجودی جمود سے پیدا ہونے والے بگاڑوں کے خلاف ایک توازن قائم کیا ہے۔ یہ رجحان نہ تو ماضی کی طرف پلٹنے کا حامی ہے اور نہ ہی پسِ جدیدیت کو یکسر مسترد کرتا ہےبلکہ وہ جدیدیت کے یقین و وابستگی اور پسِ جدیدیت کے تنقیدی شعور کے درمیان ایک نئی راہ نکالتے ہوئے انسانی باطنی تجربے کو مرکزی اہمیت دیتا ہے تاکہ فرد کے داخلی جذبات اور مخلص احساسات کو ثقافتی پیداوار میں دوبارہ جگہ مل سکے۔اس طرح میٹا جدیدیت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جو نہ صرف جدیدیت کی پرجوش یقین دہانیوں اور پسِ جدیدیت کی نسبیت کے درمیان تخلیقی ڈائیلاگ کو ممکن بناتی ہے بلکہ روایت کی جامد ساخت سے نکل کر بھی اس کی مثبت قدروں کو برقرار رکھتی ہے جس کا بنیادی ہدف انسانی داخلی تجربے کی حقیقی عکاسی اور اسے تحفظ فراہم کرنا ہے۔”
میٹا ماڈرن ازم نہ تو جدیدیت کےتیقین اور مہا بیانیوں(Grand Narratives) میں واپسی کی دعوت دیتا ہے اور نہ ہی مابعد جدیدیت کی مکمل تشکیک اور حقیقت کے انکار میں گم ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک فعال اور شعوری کشمکش قائم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا فلسفیانہ رجحان ہے جو مابعد جدیدیت کے بعد کے دور میں امید اور عمل کو نئے سرے سے متعارف کرواتا ہے لیکن اس بار ماضی کی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے۔
لہٰذامیٹا ماڈرن ازم کو جدیدیت کے جذبہ عمل اور مابعد جدیدیت کے تنقیدی شعور کے درمیان ایک دانشمندانہ توازن قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی فکری تحریک ہے جو جدیدیت کی روشن خیال امید اور مابعد جدیدیت کے کھردرے طنز کے درمیان ایک نئی راہ تلاش کرتی ہے۔ میٹا ماڈرن ازم میں فنکار یا مفکر ایک طرف تو سچائی کے حصول کی کوشش کرتا ہے لیکن دوسری طرف اس بات سے بھی آگاہ رہتا ہے کہ یہ سچائی جزوی اور عارضی ہے۔اس نئے رویے کا مقصد حقیقت اور افسانہ،مطلق سچائی اور نسبیت، اور اجتماعی امید اور انفرادی یاس کے درمیان ایک مسلسل بہاؤکو قبول کرنا ہے۔ میٹا ماڈرن ازم ان تضادات کے درمیان رہنا سکھاتا ہے۔ یہ تسلیم کرتا ہے کہ آج کی دنیا پیچیدہ ہےلیکن اس پیچیدگی کے باوجود بامقصد عمل اور جذباتی حقیقت کو یکسر رد نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسی جدلیات ہے جو مایوسی کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امید کی تخلیق بھی کرتی ہے۔
میٹا ماڈرن ازم نے اُس ادب کو بھی گہرائی سے متاثر کیا ہے جو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے درمیان ایک مبہم سا دائرہ تشکیل دے رہا تھااور اس کے نتیجے میں ادبی رویوں اور تکنیکوں میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔یہ رجحان محض ایک رد عمل نہیں بلکہ ایک ایسی ترکیب ہے جس نے دونوں ادبی عہدوں کی حدود کو توڑ کر ایک نیا اور منفرد اظہاریہ تشکیل دیا ہے۔ اس نے ادب کو وہ راستہ دکھایا جو نہ مطلق یقین کا دعویدار ہے اور نہ ہی مطلق شک میں گم شدہ بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک متحرک رابطے کا کام کرتا ہے۔میٹا ماڈرن ادب کی سب نمایاں خوبی قاری سے براہ راست اور بے ساختہ رابطہ قائم کرنا ہے۔یہ قاری کو کہانی سے الگ تھلگ ایک مشاہدہ بنانے کے بجائے اسے تخلیقی عمل کا ایک فعال شریک کار بنا دیتا ہے۔ مصنف اکثر براہ راست قاری سے خطاب کرتاکہانی کے ڈھانچے پر تبصرہ کرتا یا مختلف امکانوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جس سے ایک ایسی حسیاتی فضا قائم ہوتی ہے جہاں قاری خود کو کہانی کا ایک حصہ محسوس کرتا ہے۔
یہ ادب نہ تو کلاسیکی و رومانوی طرز کی طرح مکمل فرضی عالم میں کھو جاتا ہے، نہ ہی جدیدیت کی طرح وجودی بحران اور بے معنویت کے گہرے غار میں اترتا ہے اور نہ مابعد جدیدیت کی تشکیک پسندی اور مقامیت کا دلدادہ ہے۔ دراصل میٹا ماڈرن ادب حقیقت اور تخیل کے درمیان کھیلتا ہے، یہ ایک طرف تو حقیقت پسندانہ بیانیہ پیش کرتا ہے تو دوسری طرف جان بوجھ کر اس کی فرضی ساخت کو بے نقاب کر دیتا ہے اس امتزاج کے ذریعے یہ قاری کو احساس دلاتا ہے کہ حقیقت بھی دراصل تخیل کی ایک پیچیدہ پرت ہے۔مابعد جدیدیت کی طرح میٹا ماڈرن ادب بھی طنز و تشکیک سے کام لیتا ہےلیکن اس کا مقصد محض تباہی یا تضحیک نہیں ہوتا۔ یہاں طنز ایک ایسا آلہ بن جاتا ہے جو پرانی یقینیات کو تو توڑتا ہے لیکن اس کے ملبے پر کچھ نیا تعمیر کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ اس طرح یہ ادب شک اور یقین کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرتا ہےجہاں قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ حتمی سچائی سے محرومی کے باوجودجذباتی امید اور تخلیقی عمل جاری رکھنا ممکن ہے۔
یہی توازن جدید قاری کی پیچیدہ ذہنی کیفیات کے عین مطابق ہے۔آج کا انسان ایک طرف سائنسی عقلیت اور حقیقت پسندی سے آراستہ ہے تو دوسری طرف روحانی اور جذباتی تسکین کی جستجو میں بھی سرگرداں ہے۔ میٹا ماڈرن ادب اسی دوہری فطرت کو پہچانتا ہے۔ یہ اس کے عقلی شعور کو مطمئن کرتے ہوئے بھی اس کے جذبات اور تخیل کی پرورش کرتا ہے اسے ایک ایسا جامع اظہار مہیا کرتا ہے جو جدید دور کی پیچیدگیوں کا احاطہ کر سکے۔میٹا ماڈرن ازم محض ایک ادبی تکنیک/رویہ نہیں بلکہ موجودہ دور کے انسانی مزاج کا سب سے مناسب اظہار ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی مطلق حتمی سچائی تک پہنچے بغیر بھی ایک با معنی، جذباتی طور پر پُر امید اور تخلیقی زندگی گزارنا ممکن ہے۔ یہ انتہاؤں کے درمیان ایک پل تعمیر کرتا ہے جہاں ہم شک کو قبول کرتے ہوئے بھی عمل کر سکتے ہیں اور یقین کی کمی کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ میٹا ماڈرن ازم نے ادب کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔اس نے جدیدیت کی مایوسی اور مابعد جدیدیت کی تباہ کن شکستگی کے بعد ایک ایسی امید کی کرن دکھائی ہے جو سادہ لوح نہیں بلکہ واقف کار ہے۔ یہ ادب ہمیں ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا ہنر سکھاتا ہے جو مسلسل بدل رہی ہے جہاں حتمی جوابات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن سوالات خود ایک ایسا سفر ہیں جو ہمارے وجود کو معنی و امید سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
جہاں تک معاصر اردو ادب کا تعلق ہے یہی رجحانات اس میں بھی توانائی اور تازگی کا باعث بن رہے ہیں۔ جدید اردو فکشن اپنے دامن میں ایسے کثیرالجہت کرداروں کو سموئے ہوئے ہے جو نہ صرف اپنی تہذیبی روایات اور ثقافتی ورثے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں بلکہ عالمی شہریت کے تقاضوں اور جدید دور کے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کردار اپنی انہیں دوہری شناختوں کے باعث قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ان کرداروں کی سب سے دلچسپ خصوصیت ان کا وہ نفسیاتی اور فکری دباؤ ہے جس میں وہ جی رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے عہد کے باسی ہیں جہاں ماضی کے سادہ اور یقینی عقائد دم توڑ رہے ہیں اور حال کے شکوک و شبہات نے ان کے وجود کو گھیر رکھا ہے۔ “یہ ماضی کے سادہ یقین اور حال کے مکمل شک کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج میں کھڑے ہیں “ایک ایسے تعطل کا شکار ہیں جہاں سے کوئی واضح راستہ نہیں ملتا۔اسی تعطل اور کشمکش کے بیج سے ہی ایک نئی معنویت کی تشکیل کا عمل جنم لیتا ہے۔ یہ کردار بے یقینی کے اس بحران سے گزر کراپنے لیے نئے مفاہیم اور نئے مقاصد تخلیق کرتے ہیں۔ وہ ماضی کو یکسر مسترد کیے بغیر اور حال کی پیچیدگیوں سے آنکھیں چرائے بغیر ایک ایسا امتزاج پیش کرتے ہیں جو ان کے اپنے وجود کے لیے تو متوازی راستہ ہوتا ہی ہےساتھ ہی قاری کے لیے بھی فکر و تدبر کے نئے دروازے کھولتا ہے۔
یہ عمل میٹا ماڈرن ازم کی اس بنیادی خصوصیت کو زندہ کرتا ہے جو بیان کرتی ہے کہ فرد اپنی کہانی کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا ناقد بھی ہے۔ یہ کردار صرف کہانی نہیں سناتےبلکہ اپنی کہانی خود گھڑتے، اپنے ہی مصنف سے سوال اٹھاتے اور اپنے وجود پر شک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک خود آگہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو انہیں روایتی افسانوی کرداروں سے الگ شناخت دیتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قاری محض کہانی کا ایک منفعل سامع نہیں رہتا بلکہ وہ کردار کے داخلی انتشار، اس کے جذباتی اتار چڑھاؤ اور فکری سفر میں براہ راست شریک ہو جاتا ہے۔ اس طرح جدید اردو فکشن نہ صرف ایک نئے ادبی اسلوب کو جنم دے رہا ہے بلکہ اپنے قاری کے ساتھ ایک نئے قسم کازیادہ گہرا رشتہ بھی قائم کر رہا ہے جو دور حاضر کے ادب کی ایک اہم اور قابل ذکر کامیابی ہے۔

Facebook Comments

منصور ساحل
اردو لیکچرر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ ایم فل اردو (ادب اور سماجیات) مدیر برگ ادب

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply