اکثر والدین دل ہی دل میں یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنی تربیت کے انداز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی، پھر ہمارا بچہ اچانک اتنا مختلف کیوں ہو گیا ہے۔ یہ سوچ دراصل کسی الزام یا ناکامی کا اظہار نہیں بلکہ ایک فطری الجھن ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عمر کے ہر مرحلے کے ساتھ بچوں کی ذہنی ساخت اور جذباتی شعور میں اضافہ ہوتا رہتا ہےمگر ہم اکثر اس خاموش تبدیلی کو بروقت سمجھ نہیں پاتے۔
بچپن کے ابتدائی برسوں میںخاص طور پر نو سال کی عمر سے پہلےبچے بے جھجھک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی خوشیاں، غلطیاں، شرارتیں اور خوف سب کچھ والدین کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں۔ انہیں یہ اعتماد ہوتا ہے کہ بات پہلے سنی جائے گی اور بعد میں سمجھائی جائے گی۔ اس مرحلے پر بچے کے لیے والدین ہی سب سے محفوظ ٹھکانہ ہوتے ہیں جہاں گلہ بھی اپنائیت کے احساس سے خالی نہیں ہوتا۔
مگر جیسے ہی بچہ نو یا دس برس کی حد عبور کرتا ہے اس کے اندر آہستہ آہستہ ایک نئی آگہی جنم لینے لگتی ہے۔ وہ اپنی ذات، اپنی عزت اور اپنی حدود کو پہچاننے لگتا ہے۔ اب ہر بات فوراً بتانا اسے ضروری نہیں لگتا۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ کسی بات کے سامنے آنے سے والدین پریشان ہوں گے، ناراض ہوں گے یا بات دوسروں تک پہنچ جائے گی یوں خاموشی اس کے لیے پناہ بن جاتی ہے۔
یہ خاموشی والدین سے دوری کی علامت نہیں ہوتی بلکہ ردِعمل کے خوف کا نتیجہ ہوتی ہے جب بچے کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اس کے مسئلے سے زیادہ بھاری اس پر آنے والا ردِعمل ہے تو وہ بات روک لینا ہی بہتر سمجھتا ہے۔ ہمارے گھروں میں اکثر بات مکمل سنے بغیر فیصلے صادر کر دیے جاتے ہیں، نصیحتوں کے انبار لگا دیے جاتے ہیں اور بعض اوقات تربیت کے نام پر بچے کی غلطیاں سب کے سامنے بیان کر دی جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں بچہ آہستہ آہستہ خود کو سمیٹنا سیکھ لیتا ہے۔
پھر ٹینیج کا دور آتا ہے جسے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بدتمیزی اور نافرمانی کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عمر میں بچہ بدتمیز نہیں ہو رہا ہوتا بلکہ وہ اپنی شناخت اور خودمختاری کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر انا کا شعور پیدا ہوتا ہے جو اسے ایک الگ شخصیت بننے میں مدد دیتا ہے مگر یہی شعور ہمیں ضد اور گستاخی محسوس ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر بچے کے جسم اور دماغ میں تیز رفتار تبدیلیاں آ رہی ہوتی ہیں۔ ہارمونز کے اثر سے جذبات شدت اختیار کر لیتے ہیں جبکہ دماغ ابھی ان جذبات کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً باتیں کڑوی، بے ربط اور اونچی لگتی ہیں۔ ہمیں یہ بدتمیزی دکھائی دیتی ہے حالانکہ اکثر یہ اندرونی بے چینی اور ذہنی دباؤ کا اظہار ہوتی ہے۔
اگر ایسے وقت میں والدین سختی، چیخ و پکار یا طویل لیکچر کا سہارا لیں تو خوف جنم لیتا ہے۔۔۔ اور خوف سیکھنے کے عمل کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ماحول میں سکون، برداشت اور سنجیدگی ہو تو بچہ آہستہ آہستہ اپنے جذبات کو بہتر انداز میں بیان کرنا سیکھ لیتا ہے۔ طاقت کا استعمال وقتی خاموشی تو پیدا کر دیتا ہے مگر اعتماد کے رشتے کو کمزور کر دیتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی بات مکمل سننے کی عادت ڈالیں اور بیچ میں مداخلت سے گریز کریں۔ حساس معاملات کو مجمع میں اچھالنے کے بجائے تنہائی میں سمجھایا جائے اور سمجھانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ بچے کی عزت کا خیال رکھا جائے کیونکہ گھر اگر محفوظ پناہ گاہ نہ بنے تو بچہ باہر سہارے تلاش کرنے لگتا ہے۔
تحمل بچوں کے دل کو دوبارہ نرم کر دیتا ہے۔ عزت اور برداشت احکامات سے نہیں بلکہ رویّوں سے سکھائی جاتی ہے۔ جس بچے کو سنا جاتا ہے وہ وقت کے ساتھ یہ سیکھ لیتا ہے کہ بغیر دل دکھائے اپنی بات کیسے کہی جاتی ہے۔یہ تمام مراحل کسی ناکامی کی علامت نہیں بلکہ بچوں کی فطری نشوونما کا حصہ ہیں۔والدین کا اطمینان بچے کی راہ آسان کرتا ہے کیونکہ مشکل وقت میں سب سے متوازن رویّہ ہی اصل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں