دو کہانیاں جنہیں کہانیاں نہیں کہہ سکتے

1. آپ جانتے ہیں خواب کہاں دفن ہیں
کیٹس کی قبر پر اس کا نام نہیں لکھا. کافکا کی قبر پر اس کے نام کے سوا کچھ پڑھا نہیں جا سکتا. اوشو کے بارے کہتے ہیں وہ نہ کبھی پیدا ہوا نہ کبھی مرا. کتنی ہی قبریں ایسی ہیں جن پر لکھی جانیوالی عبارتیں ابھی سوچی بھی نہیں گئیں. کتنے لوگ جانتے ہیں انہیں کہاں دفن ہونا ہے. لیکن میں نے خوابوں کو کچھ مختلف طرح سے پایا ہے. وہ مرنے کے بعد جنیوا کے روئس قبرستان میں موجود ایسی قبر کے اندر دفن ہو جاتے ہیں جس کے اوپر بورخیس لکھا ہے.
2. اچھا بھکاری کیسے بنا جاتا ہے
او نیل سے ننھی نیل کا مرنا برداشت نہیں ہوا. اس نے چیختے ہوئے اولڈ کیوریسٹی شاپ چلتی ٹرین سے باہر پھینک دی. یہ اتفاق سے اس وقت کی بات ہے جب برطانیہ میں کاغذ ناپید ہو گئے تھے. اسٹیشن ماسٹر نے کتاب اٹھائی اور پڑھنے لگ گیا. نیل کی موت پر پہنچتے اسے غشی کے دورے پڑنے لگے. کیونکہ وہ مظبوط اعصاب کا مالک تھا, اس نے پوری کتاب پڑھ ڈالی. اس کے بیٹے, جس کا نام حیان فرض کرتے ہیں, جو کیمیا گر تھا، نے صورتحال سمجھی تو ایسا کاغذ ایجاد کرنے کا سوچا جن پر موجود الفاظ پڑھنے والے کی حس کیمطابق بدلنے لگیں. اس نے رومانوی ناولوں کو تاریخی اور سیاسی کو گوتھک میں بدل دیا. لیکن اس کی معاشی حالت تباہ ہو چکی تھی. اس نے ہندوستان کا سوچا. اس نے ایک جگہ کا خیال کیا جہاں وہ رہ سکتا. اس نے ایک ایک گھر کے متعلق معلومات خیال کیں. اس نے لوگوں کے جذبات سمجھے اور بھیک مانگنے کا نیا انداز ایجاد کیا. اس نے مذہبیوں کو عبادت میں سکون اور دنیاداروں کو مال میں برکت کی دعائیں دی. اس کا پوتا جس نے اسی کتاب سے جانا کہ میں کہانیاں لکھتا ہوں، میرے ہمسائے ایک دادی سے اس کے پوتوں کو صحت کی دعائیں دے رہا ہے. اس نے رات معلوم کیا کہ دادی اچھے پیسے دے گی.

جنید عاصم
جنید میٹرو رائٹر ہے جس کی کہانیاں میٹرو کے انتظار میں سوچی اور میٹرو کے اندر لکھی جاتی ہیں۔ لاہور میں رہتا ہے اور کسی بھی راوین کی طرح گورنمنٹ کالج لاہور کی محبت (تعصب ) میں مبتلا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *