کھچڑی، پلاؤ اور کھانا پینا/محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہم سمجھتے ہیں کہ ذیادہ تر گھروں میں کھچڑی باورچی خانے میں پکتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کونسی انہونی بات ہے، کیوں کہ ہر چیز کچن میں ہی پکتی ہے۔ مگر ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ زیادہ تر خواتین کھچڑی باورچی خانے میں ہی پکاتی ہے۔ جب ماں بیٹی، ساس بہو، نند بھاوج، دیورانی جٹھانی یا بہنیں باجماعت باورچی خانے میں موجود ہوتی ہیں تو ان کی توجہ مزے دار کھانوں کی تیاری پہ کم اور باتیں بنانے پہ ذیادہ ہوتی پے۔ ہر ایک اپنی اپنی بات کر رہی ہوتی ہے۔ کوئی کپڑوں کے نئے ڈیزائن پر رائے زنی کرتی ہے، کوئی بی پڑوسن کے یہاں نئی گاڑی آنے پر تبصرہ کرتی ہے۔ کوئی اپنی ساس کو بتا رہی ہوتی ہے کہ اس کی امی اسے گھر کے کاموں کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی تھیں، وہ سارے کام خود کرتی تھیں۔ “تو پھر تو تمہیں کھانا بھی پکانا نہیں آتا ہوگا”؟ کسی نے یہ سوال اٹھایا۔ “جی نہیں، میں سب سے اچھا کھانا بنا لیتی ہوں”۔ وہ کیسے؟ “میں’ کچن پیشن ‘ کی ریسیپیز کو باقاعدگی سے دیکھتی ہوں اور ایک سے ایک ذائقے دار کھانا پکا لیتی ہوں” ۔ کسی کی زبان پہ شکوہ ہوتا ہے کہ میری نند کی زبان بہت چلتی ہے۔ پر میں بھی ٹکا کے جواب دیتی ہوں۔ اچھا سنو! کل میری بھانجی کی سالگرہ ہے، اسے کیا گفٹ دوں؟،” ” مجھ سے پوچھ رہی ہو ؟ “میں تو سالگرہ کے ہی خلاف ہوں, خوامخواہ کی رسم ہے”۔ اتنے میں امی کچن میں آتے ہی ناک پہ دوپٹہ رکھ کر کہتی ہیں۔۔۔ بچیو ! دیکھو ہنڈیا جلنے کی بو آ رہی ہے۔ اخر یہاں پک کیا رھا تھا؟” ‘امی جان منے کے لئے کچھڑی پکنے کے لئے رکھی تھی۔ آنچ تیز تھی، اس لئے جل گئی”۔ ” تم سب لوگ یہاں کیا کر رہی ہو جو جلتی ہنڈیا کو نہیں دیکھ سکیں”. ” نہیں ابھی نہیں جلی”، دوسری بہو نے ہنستے ہوئے کہا۔ کھچڑی تو ابھی تک پک رہی ہے”.

julia rana solicitors

میں نے سنا ہے کہ مرد پلاؤ بہت اچھی بناتے هیں۔ امی نے بچیوں سے پوچھا؟ پتا نہیں، بناتے ہوں گے پلاؤ۔ ہم نے تو کبھی کسی مرد کے ہاتھ کی بنی ہوئی پلاؤ نہیں کھائی۔ کیسے نہیں کھائی؟ پرسوں شادی میں جو پلاؤ کھائی تھی وہ مرد باورچیوں کی بنائی ہوئی نہیں تھی؟ اوہ ہاں، مگر میں تو گھر کے مردوں کی بات کر رہی ہوں۔ اری پگلی وہ دیگیں پکانے والے بھی تو کسی گھرکے مرد ہوتے ہیں۔اتنے میں عرفان بھائی بھی وہاں آگئے۔ وہ کہنے لگے کہ واقعی مرد پلاؤ پکاتے ہیں، مگر وہ پلاؤ کھائی نہیں جا سکتی۔ وہ کیوں؟ کیا اس میں نمک بہت زیادہ ہوتا ہیے؟ ” نہیں تو”. مگر ہم کیسے مان لیں۔ ہمیں دکھائیں تو جانیں کہ وہ پلاؤ کیسے پکاتے ہیں؟ میں دکھا تو نہیں سکتا البتہ آڈیو سنا سکتا ہوں۔ وہ ایک اور آڈیو لیک؟ مذاق نہیں، میرے پاس کچھ دوستوں کی ایک آڈیو ہے۔ ” سنو گی؟”. ” سنائیے”.
حنیف صاحب کہہ رہے تھے۔ میں کل جاب کے لئے انٹرویو دینے جا رہا ہوں۔ اگر میرا سی۔ وی۔ ایکسیپٹ ہو گیا تو مجھے آفس کی طرف سے نئی گاڑی بھی مل جائیگی۔ پھر میں ترقی کرتا کرتا کمپنی کا مینیجر بن جاؤں گا۔ پہلے سیلکٹ تو ہو جاؤ پھر آگے کی ںات کرنا۔ شاہد بیچ میں بول پڑا۔ میں میڈیکل کے پہلے سال میں ہوں۔ ڈاکٹر بن گیا یا تو کینیڈا چلا جائونگا۔ وہاں سے اسپیشلسٹ بن کر لوٹوں گا۔ یہاں اپنا ہاسپیٹل کھولوں گا۔ پھر میرے وارے نیارے ہونگے۔ خوب پیسوں میں کھیلوں گا۔۔ واہ کیا منصوبہ بندی ہے۔ ابھی میڈیکل کے پہلے سال میں ہو اور باتیں کتنی بڑی بڑی کر رہے ہو۔ لگتا ہے ہوا میں باتیں کر رہے ہو۔ جنید یہ سن کر خاموش نہ رہ سکا۔ وہ کہنے لگا کہ ہمیں اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی تو کرنی چاہئے۔ پم اپنا راستہ متعین نہیں کریں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے۔ یہ بات سن کر سب ہنس پڑے۔ حبیب صاحب کہنے لگے کہ کسی کی سوچ پہ کوئی پہرا نہیں لیکن محض اونچے خواب دیکھنے سےکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ خیالی پلاؤ پکانے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ایسا کام صرف شیخ چلی ہی کر سکتے ہیں۔ بس بس کیسٹ روک دیں۔ اب سمجھ میں آ گیا خیالی پلاؤ کیسے پکتی ہے۔
آپس میں کھچڑی پک چکی ہے اور خیالی پلاؤ بھی دم پہ آچکی ہے۔ لیکن کھائی نہیں جاسکتی۔ مبادا اس کے کھانے سے لوگوں کے دم پہ نہ بن جاۓ۔ چنانچہ اب کچھ کھانے پینے کی بات ہو جائے، کیونکہ کھاتے پیتے لوگوں کا پیٹ، خالی خولی باتوں سے پکنے والی کھچڑی سے بھرتا ہے اور نہ خیالی پلاؤ سے۔ ان سے بہتر ہے کہ بندہ بھوکا پیاسا ہی رہ لے۔ ہاں ! کھانے پینے کو اور بھی بہت کچھ ہے جن پہ گزارا کیا جا سکتا پے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کو کھانے میں ایسا مزا اتا ہے کہ کھاتے چلے جاؤ لیکن پیٹ نہ بھرے۔ بوجھو تو جانیں؟ جی ہاں صحیح کہا آپ نے۔ رشوت کھانے والے، کمیشن کھانے والے، سود کھانے والے اورملکی وسائل کھانے والے کھا کھا کر موٹے ہوۓ جا رہے ہیں، مگر ڈکار نہیں لیتے۔ جن کو ان کھانوں پہ ہاتھ صاف کرنے کا موقع نہیں ملتا، وہ بے چارے غم کھاۓ چلے جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہمارے بھی مفت ہاتھ آجاے تو برا کیا ہے۔ ناکام پونے والے پیچ و تاب کھاتے ہیں پر کہتے ہیں کہ شکر ہے ہم بچ گئے ہیں۔ مگر اندر ہی اندر اس ناکامی پر غصہ کھا رہے ہوتے ہیں کہ انہیں کچھ بھی تو کھانے کو نہیں ملا۔ البتہ غصہ پی پی کر ان کی تھوڑی بہت پیاس ضرور بجھ جاتی ہو گی۔
دکان داروں کو ان خریداروں سے شکائت رہتی ہے جو ان کا ادھار کھاۓ ںیٹھے ہیں۔ ان کو ادھار لینا یاد دلایا جاۓ تو ایسا لگتا ہے وہ خار کھاۓ بیٹھے ہیں۔ ہمارے سیاسی کارکن بھی دوسری سیاسی جماعتوں سے لڑنے مرنے کو ادھار کھاۓ بیٹھے رہتے ہیں۔ مگر ان کے قائدین تو غریبوں کا غم کھاتے رہتے ہیں۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں اصلی کھانے کے سوا۔ لہٰذا وہ دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر ہر دم غم کھاتے رہتے ہیں۔ کوئی امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس کیا ہوگیا، اسی کا غم کھاۓ جارہا ہے۔ کسی کی، سی۔ ایس۔ ایس پاس کرکے، ایم عہدے پر تعیناتی کیسے ہو گئی ؟ بس یہی غم کھائے جا رہا ہے۔
اللہ جس طرح شکر خورے کو شکر دیتا ہے، ہوا خوروں کو ہوا وافر مقدار میں کھانے کو دیتا ہے۔ کوئی صبح سویرے نہار منہ ہوا خوری کرتا ہے اور کوئی سر شام، بعد از آرام، بر انداز سبک خرام ہمع اپنی مادام ، فضاؤں کے ہوائی نوالوں کو پھانکتا ہے اور تازہ دم ہوکر گھر لوٹتا ہے۔ کسی کا فون آجاۓ تو اپنی بھوک مٹانے کو، دوسرے کو قسم کھا کھا کر یقین دلاتا ہے کہ اس کا اس جھگڑے سے قطعی کوئی تعلق نہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply