خوشی کی تلاش یا سائنس ؟۔۔محسن علی

خوشی کی تلاش کسی اور سمت جا نکلتی ہے۔ کیا کرنا ٹھیک ہے؟ زندگی کو گزارا کیسے جائے؟ اچھی زندگی کیا ہے؟ خوشی کو زندگی کی ترجیحات میں کہاں پر ہونا چاہیے؟ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ سوال غیرسائنسی ہیں۔
اوپر دئیے گئے سوالات وہارا امباکر کی تحریر سے لئے گئے ہیں کیونکہ میں آجکل خود ایک سائیکیٹرسٹ  سے رابطے میں ہوں  اور ہمیشہ نفسیاتی مسائل یا بچوں کے نفسیاتی مسائل کو جاننے کی کوشش  میں رہتا ہوں ۔ لہذا ان سوالوں کی ترتیب بنا کر کچھ اپنے جواب لکھنے کی ایک سعی  کی ہے

خوشی کو زندگی کی ترجیحات میں کہاں ہونا چاہیے ؟
خوشی کا تعلق سماجی نفسیات کا آئینہ دار ہوتا ہے اسکو اسی  پیرائے میں دیکھنا چاہیے، جیسا کہ افریقی ممالک میں جنگل کا شکار کرکے لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن جب سے سیکولر سماج یا انسانی سماج کی تشکیل کا عمل شروع ہوا ہے یہی کام کرنا اُس جگہ پر ایک کی خوشی اور کئی لوگوں کے لئے دکھ کا احساس پیدا کررہا ہے ، خوشی ہمیشہ انفرادی طور پر ہوتی ہے لیکن اس میں ضروری نہیں وہ انفرادی شخص دوسروں کی خوشی کو مدنظر رکھے ایک پسماندہ سماج میں انفرادی خوشی کے لئے دوسروں کی خوشی کو نہیں دیکھا جاتا  ۔
مگر اب اقوام عالم میں خوشی وہی کہلائی جارہی ہے جس میں دوسروں کو تکلیف یا اذیت نہ ہو اور یہی اب ممکنہ درست سمت ہے ۔

زندگی کو کیسے گزارا جائے ؟
اس پر ابھی تک   سائنس کوئی مکمل ضابطہ نہیں بنا سکی ہے ،ویسے اگر ایک کلیہ بنادیا جائے زندگی گزارنے کا تو زندگی سے تنوع اور دنیا کے رنگ پھیکے پڑجائینگے اور انسانی جذبات میں ٹھہراؤ  آجائے گا شاید یہ ٹھہراؤ ایک جگہ جمع ہوکر انسان کو شدت پسند کردے کیونکہ انسانی جذبات کو اظہار کی ضرورت ہے اگرچہ غصہ بری ہی چیز  سہی ، مگر آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ہونے چاہئیں  جن کے ساتھ کھل کر غصہ کرسکیں ،کھل کر اظہار کرسکیں ،ورنہ تخلیقی عمل شاید رُک جائے ،اگر ایک ہی طرز پر دنیا چل پڑی تو مسئلہ ہوجائے گا۔  زندگی کا مزہ  مختلف ڈگر پرچلنے میں ہے مگر اپنے اپنے پیرائے میں لہذا انسانی آزادی اور دوسروں کی دل آ زاری سے بچ کر زندگی گزاریں ،جس سے دوسرے کو نقصان نہ ہو ۔

اچھی زندگی کیا ہے ؟
اچھی زندگی کسی زمانے میں انسان جب پہاڑوں میں تھا تو اسکو محفوظ پہاڑ کا  مل جانا، جس میں وہ غار بنا کر رہ سکے، وہ اچھی زندگی کی علامت تھی ،پھر وہ وہاں سے جنگل کی طرف چل نکلا، تو درختوں کی ایسی جگہ پر جہاں جنگلی جانور کا گزر مشکل سے  ہو ، جب انسان نے  جھونپڑی کی صورت پہلا گھر بنایا تو اسکے آگے کانٹوں کی باڑ لگا کر خود کو محفوظ تصور کرکے اچھی زندگی سمجھتا تھا ۔ غلاموں کے لئے انکی آزادی تھی اچھی زندگی کا مطلب حاکم کے لئے زیادہ سے زیادہ ریاستیں  اسکے زیرنگرانی ہونا، یہاں تک اسوکا و سکندر جنہوں نے ایک طویل  عرصہ حکمرانی   کی، اور پھر مسلمانوں کی حکمرانی جو عرب سے موجودہ اسپین  تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ اشرافیہ اپنے لئے اچھی زندگی یہی سمجھتے تھے۔ اس دور میں لوگ دو وقت کی روٹی کھایا کرتے تھے ۔ پھر جب انسان محنت مشقت کے ساتھ   کچھ آرام طلب ہونا شروع ہوا ،تب سے انسان کی خوراک تین وقت ہوگئی ،جیسے جیسے جسمانی محنت کی جگہ ذہنی محنت کی ضرورت بڑھتی گئی انسان کی زندگی کی آسائشوں میں بے شمار اشیاء شامل ہوگئی ہیں ۔ اچھی زندگی  کا پیمانہ ہر کسی کے لئے الگ   ہے ۔ ہر کلاس ہر مکتب فکر کے انسان کے لئے آپ اپنا پیمانہ خود بہتر طور پر  طے کرسکتے ہیں، آپ کے لئے زیادہ سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے ؟

خوشی کو زندگی کی ترجیحات میں کہاں پر ہونا چاہیے؟
یہ آپ کی زندگی پر منحصر ہے کہ  آپ زندگی کی  کس جانب کھڑے ہیں ،کبھی رشتے ضروری ہوجاتے ہیں تو کبھی پیسہ، کبھی خوشی ۔۔ہم لوگ فیصلہ لینے سے ڈرتے ہیں، لہذا ہم میں  اکثریت غلط فیصلہ کرتی ہے اس حوالے سے لیکن زندگی ایک سمندر ہے اس میں کبھی لہریں آپ کے    چلتی ہیں، کبھی آپ کے مخالف۔ دانا وہ ہے جو یہ جلد سمجھ جائے ،پھر خوشی کی ترجیحات آپ کی منشاء کے  عین مطابق ہوسکتی ہیں۔

ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ سوال غیرسائنسی ہے۔
بقول وہاراامباک صاحب،ہم کیا کرنا چاہتے ہیں یہ سوال غیر سائنسی  ہے۔۔میرے خیال میں یہ بات اتنی غلط بھی نہیں، مگر اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، میری نظر میں ہر انسان میں ایک خاصیت ہوتی ہے ، اس کو اپنا جوہر معلوم ہونا چاہیے، جسے ہمارا سماج تہس نہس کردیتا ہے۔ عموماً  ہمارے یہاں دوسرے لوگ ہمیں ہمارا ہنر بتا رہے ہوتے ہیں ،جیسے میری ایک دوست نے مجھے لکھنے کی ترغیب دی۔۔اور آج میں سوچتا ہوں کہ یہی تو میرا اصل تھا۔۔

Advertisements
julia rana solicitors london

لہذا یہ سب چیزیں ایک دوسرسے منسلک ہیں یہ آپ پر منحصر ہے، آپ کیا کرتے ہیں،   زندگی اور سماج  کو کیسا پاتے ہیں ، اور اپنے ارد گرد کس طرح کے لوگوں کا ہجوم جمع کرتے ہیں ۔

Facebook Comments

محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ