زبان انسان کے لیے محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اس کی سوچ، احساس اور شعور کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو وہ کسی نصاب یا امتحان کے دباؤ میں نہیں ہوتا، وہ ماں کی لوری، گھر کے ماحول اور گلی محلّے کی بولی سے سیکھتا ہے۔ یہی زبان اس کی فکری بنیاد رکھتی ہے۔ مگر جیسے ہی وہ اسکول میں قدم رکھتا ہے، یہ فطری سفر اچانک بدل جاتا ہے اور سوال یہ نہیں رہتا کہ بچہ کیا سیکھے گا بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ وہ کس زبان میں سیکھے گا۔ یہی سوال آگے چل کر ایک گہری ذہنی الجھن اور فکری رکاوٹ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں زبان اور میڈیم آف انسٹرکشن کا مسئلہ محض تعلیمی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہے۔ گھروں میں مادری زبانیں بولی جاتی ہیں، قومی سطح پر اردو کو علامتی اہمیت حاصل ہے، جبکہ عملی طاقت اور برتری انگریزی کے پاس ہے۔ اس صورت حال میں بچہ ایک ہی وقت میں کئی زبانوں کے دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ گھر میں ایک زبان میں سوچتا ہے، اسکول میں دوسری زبان بولنے کی کوشش کرتا ہے اور امتحان کسی تیسری زبان میں دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کسی ایک زبان میں بھی مکمل اعتماد حاصل نہیں کر پاتا۔
بچے کی فطرت یہ ہے کہ وہ جس زبان میں سوچتا ہے، اسی زبان میں بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ مگر ہمارے تعلیمی نظام میں اس اصول کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ بچہ مضمون کو سمجھنے کے بجائے الفاظ یاد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سوال پوچھنے سے جھجھک محسوس کرتا ہے، غلطی کے خوف سے خاموش رہتا ہےنتیجتاً تعلیم شوق اور جستجو کے بجائے اس پر ایک مسلسل دباؤ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ ذہنی کیفیت آہستہ آہستہ اس کے اعتماد کو کمزور کر دیتی ہے اور وہ خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
میڈیم آف انسٹرکشن کا مقصد علم کو آسان بنانا ہونا چاہیے، مگر جب میڈیم خود مسئلہ بن جائے تو تعلیم سہولت کے بجائے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ عالمی زبان ہے اور ترقی کی کنجی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر عمر میں اور ہر سطح پر یہی طریقہ درست ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچہ زیادہ بہتر سیکھتا ہے اور بعد میں دوسری زبانیں بھی آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ابتدا ہی سے اجنبی زبان مسلط کر دی جائے تو سیکھنے کا عمل غیر فطری ہو جاتا ہے۔
ہمارے ہاں انگریزی میڈیم اسکول کو معیار اور کامیابی کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر فیسیں ادا کرتے ہیں تاکہ بچہ انگریزی بول سکے، چاہے وہ مضمون کو گہرائی سے سمجھ پائے یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے اسکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی اندرونی طور پر اردو یا مادری زبان میں ہی سوچتے ہیں۔ وہ خیال پہلے اپنی زبان میں بناتے ہیں اور پھر اسے انگریزی میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں خیال کی روانی ٹوٹ جاتی ہے اور اظہار میں مصنوعی پن آ جاتا ہے۔
یہاں زبان علم کا ذریعہ کم اور سماجی حیثیت کی علامت زیادہ بن چکی ہے۔ درست تلفظ اور بھاری انگریزی الفاظ ذہانت کا معیار سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اصل فہم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی رویہ بچے کو سوچنے کے بجائے نقل کرنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ وہ زبان سیکھ تو لیتا ہے مگر سوال کرنے اور دلیل دینے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی زبان کا مسئلہ ہے یا ہمارے اجتماعی احساسِ کمتری کی پیداوار۔ نوآبادیاتی دور نے ہمیں یہ سکھایا کہ انگریزی بولنے والا برتر ہے اور اپنی زبان میں بات کرنے والا کمتر۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی ہم اس ذہنیت سے باہر نہ نکل سکے۔ ہم نے زبان کو علم کے بجائے اسٹیٹس سے جوڑ دیا اور یہی سوچ ہمارے تعلیمی نظام میں سرایت کر چکی ہے۔ نتیجتاً طالب علم سیکھنے کے بجائے خود کو ثابت کرنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بات کی مثال ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم کسی بھی طرح ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ جاپان، چین، جرمنی اور فرانس میں بچے ابتدا میں اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اسی مضبوط بنیاد پر بعد میں دوسری زبانیں بھی سیکھ لیتے ہیں۔ وہاں مادری زبان کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں مادری زبان میں تعلیم کی بات کو پسماندگی سے جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ یہی زبان بچے کے لیے سب سے فطری ذریعہ اظہار ہوتی ہے۔
مادری زبان میں تعلیم بچے کو سوچنے، سوال کرنے اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ ثقافتی خود اعتمادی بھی پیدا کرتی ہے۔ مسئلہ انگریزی سیکھنے کا نہیں بلکہ اسے کس مرحلے پر اور کس انداز میں سکھانے کا ہے۔ انگریزی کو بطور مضمون اور بطور مہارت سکھایا جائے، نہ کہ ابتدائی عمر میں سوچ پر مسلط کر دیا جائے۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان یا اردو میں ہو تاکہ بچہ مضبوط فکری بنیاد حاصل کر سکے۔
زبان اور میڈیم آف انسٹرکشن کا مسئلہ دراصل ہماری ترجیحات اور تعلیمی فلسفے کا مسئلہ ہے۔ زبان کو ہم نے مکالمے کے پل کے بجائے تعصب کی دیوار میں بدل دیا۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور، خود اعتماد اور تخلیقی نسل چاہتے ہیں تو ہمیں اس دیوار کو گرانا ہوگا۔ مادری زبان میں تعلیم کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک نظر انداز شدہ حقیقت ہے۔ اردو اور مادری زبانیں بچے کی سوچ کو جڑیں فراہم کرتی ہیں اور مضبوط جڑوں کے بغیر کوئی درخت بلند نہیں ہو سکتا۔ انگریزی اس درخت کی ایک شاخ ضرور ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر جڑ نہیں۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے، زبان کا مسئلہ ہماری تعلیم اور ہماری نسلوں کو الجھاتا رہے گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں