فرقہ واریت اور عورتیں (ڈاکٹر مبارک علی)۔۔۔حمزہ ابراہیم

آ ئے دن اخباروں میں ہم جب بھی فرقہ وارانہ  فسادات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کے نتیجہ میں سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہونے والوں میں عورتیں نظر آتی ہیں۔یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عورتیں تشدد کا شکار ہوتی ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے معاشرے میں عورت کی سماجی حیثیت کا جائزہ لینا ہو گا ۔ اور یہ تعین کرنا ہو گا کہ کیا معاشرے میں عورت کا مقام مرد کے مقابلے میں سماجی طور پر برابر ہے؟ یا اس کا سماجی رتبہ کم تر ہے؟ اگر اس کا سماجی رتبہ کم تر ہے تو اس صورت میں اس کی حیثیت کمزور جنس کی ہے۔ اور اس حیثیت میں نہ صرف فرقہ وارانہ فسادات، بلکہ خود معاشرے میں ہونے والے واقعات و حادثات میں بھی، اس کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت ہر معاشرے میں پدرانہ نظریات کا غلبہ ہے۔ جس کی وجہ سے اب تک عورت کو مرد کے مساوی درجہ نہیں دیا گیا۔ خصوصیت سے مشرقی ممالک میں یہ نظریات زیادہ حاوی و مستحکم ہیں۔ جنہیں مذہب، سماجی رویے، معاشی سرگرمیاں اور نفسیاتی اثرات تقویت بخشتے ہیں۔ لیکن عورت کو تسلط میں رکھنے کیلئے سب سے زیادہ موثر ہتھیار ”تشدد“  کا ہوتا ہے۔ جب بھی عورت اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اپنی اس قید سے باہر نکلے جو اس کیلئے متعین کی گئی ہے، تو اسے تشدد کے ساتھ واپس اسی دائرے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے  ہیں کہ جب بھی عورتیں گھروں سے نکل کر باہر آتی ہیں، ان پر آوازیں کسی جاتی ہیں۔ ان کیلئے گندے اور غلیظ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کو ہراساں کیا جاتا ہے تاکہ وہ باہر کی دنیا کو اپنے لیے غیر محفوظ سمجھ کر گھر کی چاردیواری میں پناہ لے لیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے چڑیا گھر سے کوئی جانور بھاگ جائے تو اسے ہنکا کر دوبارہ سے پنجرے میں لا کر بند کر دیا جاتا ہے۔اس ذہنیت کا اظہار کئی مرتبہ ہماری یونیورسٹیوں میں ہو چکا ہے،  جب لڑکیوں پر تیزاب پھینکا گیا تاکہ وہ بے پردہ تعلیمی اداروں میں نہ آئیں۔ دیکھا جائے تو اس کے پس منظر میں لڑکیوں کی تعلیمی صلاحیت و قابلیت ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ پڑھتی ہیں، امتحان میں زیادہ نمبر لیتی ہیں۔ لہذا اس کے نتیجہ میں وہ ہر مقابلہ میں لڑکوں سے بڑھ جاتی ہیں۔ اس مقابلے کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں ہراساں کیا جائے تاکہ یونیورسٹی اور کالج ان کیلئے غیر محفوظ ہو جائے۔

اس لیے عورتوں کو دبانے اور انہیں اپنے تسلط میں رکھنے کیلئے معاشرے میں تشدد کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ اس تشدد میں گھریلو تشدد بھی ہے کہ جس میں شوہر اپنی بیویوں کو مار پیٹ کر اور ڈرا دھمکا کر اپنے تابع رکھتے ہیں۔ اور معاشرہ اس تشدد پر کوئی زیادہ احتجاج نہیں کرتا۔ اس تشدد کا اظہار کاروکاری کی شکل میں بھی ہوتا ہے کہ جب مرد عورت کو اپنی عزت سمجھ کر ذرا سے شبہ پر قتل کر دیتا ہے۔ تاکہ دوسری عورتوں کو اس سے سبق بھی ملے اور عبرت بھی ہو۔ اکثر معاشروں میں اس قسم کے قتل کو انصاف سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ پدرانہ معاشرے میں عورت کو ہر قسم کے ذریعوں سے دبا کر اطاعت گزار اور حقیر بنا کر رکھا جاتا ہے۔ عورت مرد کی ملکیت ہوتی ہے اور وہ اس کی ذاتی شے بن جاتی ہے۔ جس طرح ملکیت کسی فرد کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس طرح عورت، مرد کی ذات میں ضم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی اس ملکیت پر ہاتھ ڈالتا ہے، اسے چھیڑتا ہے یا اس میں خرابی پیدا کرتا ہے تو مالک اس کی حفاظت کیلئے سینہ سپر ہوجاتا ہے۔ وہ اس کیلئے عزت، وقار اور غیرت ہو جاتی ہے۔

اس صورت حال میں جب کسی معاشرے میں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں تو مخالفین اس بات کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے تاکہ وہ کمزور ہو کر مزاحمت سے باز آئیں۔ اس لیے ان فسادات میں ”ملکیت“ کو تباہ و برباد کرنے کی سب سے زیادہ کوشش ہوتی ہے۔ اس کی مثال 1998ء میں انڈونیشیا میں ہونے والے فسادات ہیں کہ جن میں چینی باشندوں کی املاک کو آگ لگائی گئی اور اسے تباہ و برباد کیا گیا تاکہ وہ معاشی طور پر کمزور ہوں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ انہیں اخلاقی و روحانی طور پر ختم کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے ان کی عورتوں کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ تا کہ ان کی عزت، حرمت، غیرت و حمیت کو زک پہنچائی جائے۔ جب کسی فرقے کو معاشی اور اخلاقی طور پر نشانہ بنایا جائے تو وہ شکست خوردہ، عبرت کی تصویر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انڈونیشیا کے فسادات میں ہزاروں چینی عورتوں کی عصمت دری کی گئی تاکہ چینی نسل کے لوگوں کو اپنی کمزوری کا احساس ہو۔اس کی ایک مثال بوسنیا میں ہونے والی فرقہ وارانہ جنگ تھی کہ جس میں سربوں نے بوسنیا کی مسلمان عورتوں کو ریپ کیا، اور پھر انہیں اس وقت تک قید میں رکھا کہ جب تک وہ حاملہ نہیں ہو گئیں۔ اس لیے اگر ریپ کی نفسیات کو دیکھا جائے، تو جیسا کہ ہربنس مکھیا نے اپنے ایک مضمون (Communal Violence and Transmutation of Identities)میں لکھا ہےکہ، اس کے ذریعے ریپ کرنے والے لوگ اپنے مخالف فرقے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ کس قدر مجبور، لاچار اور بے کس ہیں کہ اپنی عزت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ اس لیے بوسنیا، انڈونیشیا اور ہندوستان و پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں یہ ہوا کہ عورتوں کو ان کے مردوں کے سامنے برہنہ کیا گیا۔ اور پھر ان کے سامنے ہی ان کا ریپ کیا گیا۔ اس سے انہوں نے اپنی طاقت، تسلط اور مردانگی کو ظاہر کر کے مخالف فریق کا مذاق اڑایا۔ ایسے موقعوں پر اکثر یہ بھی ہوا کہ عورت کو ریپ کر کے اسے برہنہ حالت میں گھمایا گیا۔ اور بعد میں مخالف فرقہ کے گھروں کے سامنے لا ڈالا گیا۔ تاکہ انہیں اپنی ذلت کا احساس ہو۔ المیہ یہ ہے کہ جب مخالف فرقے کو موقع ملتا ہے تو وہ بھی اس عمل کو دہراتا ہے۔ اور جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے، اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔

برصغیر کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہولناک فسادات 1947ء میں ہوئے کہ جب دونوں فرقوں کے لوگوں نے ایک دوسرے کا قتل عام کیا۔ ملکیتیں لوٹیں اور خصوصیت سے عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ بعض صورتوں میں انہیں قتل بھی کر دیا۔ اور بعض حالات میں بطور داشتہ اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ المیہ یہ ہے کہ ان فسادات میں ان عورتوں پر جو کچھ بیتی اس کی تاریخ بہت کم محفوظ ہے۔ اس تاریخ کو محفوظ کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس سے ہمارے معاشرے میں  عورت کے کردار اور مرد کی خصوصیات کا اظہار ہو گا۔اور تقسیم  نے عورتوں سے جو قربانی لی ہے،  اس کا احساس ہو گا۔اور اس سے ان کا مقام نیچے گرنے کے بجائے اور  اونچا ہو گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے اور اگر ہوئی بھی ہے تو وہ بھی عورتوں نے کی ہے۔پاکستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں ان کی نوعیت مذہبی بھی ہے اور لسانی بھی۔ لیکن دونوں صورتوں میں فسادات کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے: یعنی مخالف فرقہ کو معاشی، سماجی اور اخلاقی طور پر کمزور کیا جائے۔

فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ اگرچہ مکمل نہیں، مگر وہ جو بھی ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں نہ صرف جسمانی اور اخلاقی طور پر متاثر ہوئی ہیں، بلکہ اور بھی کئی لحاظ سے ان کی ذات اس سے متاثر ہوتی ہے۔ مثلاً فسادات میں جب مردوں کا قتل ہوتا ہے یا انہیں معذور کر دیا جاتا ہے تو گھر بار چلانے کی ذمہ داری عورت پر آ جاتی ہے۔ ایک طرف اسے گھر کا خرچہ چلانا ہے تو دوسری طرف مرد نہ ہونے سے وہ غیر محفوظ بھی ہے۔ اور دوسرے مرد اس غیر محفوظ ملکیت کو ہتھیانے کے درپے ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں اسے مشکل حالات کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فسادات کے بعد ریپ ہوئی عورتیں جس نفسیاتی اذیت سے گزرتی ہیں، اس کا اندازہ لگانا ہی تکلیف دہ ہے۔ ایک طرف وہ خود اپنی نظروں میں ذلیل ہو جاتی ہیں، دوسری طرف معاشرے میں ان کیلئے کوئی احترام باقی نہیں رہتا۔ اور وہ انہیں کسی ہمدردی کے قابل نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ اس کیلئے ایک زندہ عبرت ہوتی ہے جو باعث شرم و ذلت ہوتی ہے۔ ان حالات میں عورتوں کیلئے خودکشی کرنا، ذہنی توازن کھو بیٹھنا اور ایک بے معنی زندگی بسر کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے کہ جو عورتیں مرد کی بالا دستی کو برقرار رکھنے کیلئے ادا کرتی ہیں۔

فرقہ وارانہ فسادات میں جہاں عورتوں کو تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے، وہاں انہیں مخالفت کو بھڑکانے اور نفرت کو ابھارنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہر فسادات کے موقع پر اپنے فرقہ کے لوگوں کو متحد کرنے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور لڑنے کیلئے تیار ہو جائیں کیوں کہ ان کی عورتوں کی عزت و عصمت خطرے میں ہے۔ ایسے موقعوں پر عورتیں بھی میدان میں آ جاتی ہیں اور مردوں کو غیرت دلا کر ان کی مردانگی کو للکارتی  ہیں۔کسی بھی پدرانہ معاشرے میں مرد کی مردانگی کوللکارنا اس کی عزت کو للکارنا ہوتا ہے۔ اس لئے عورتوں کو بلا واسطہ یا بالواسطہ  فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھانے اور پرتشدد بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماٴخذ: ڈاکٹر مبارک علی، ”تاریخ اور معاشرہ“، باب 2، صفحات:  29-33، فکشن ہاؤس لاہور، (2017ء).

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *