• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انسانی شعور کی باطنی ساخت : داخلیت، پلاسٹیسٹی اور روحانیت / وحید مراد

انسانی شعور کی باطنی ساخت : داخلیت، پلاسٹیسٹی اور روحانیت / وحید مراد

بعض مقامی اہل فکر کا دعویٰ ہے کہ “اخلاق، اقدار اور روحانیت سے تشکیل پانے والا انسانی باطن ریاستی پالیسی اور منصوبہ بندی میں قابلِ ادراک اور قابلِ اظہار نہیں ہوتا۔ البتہ نفسیاتی سطح پر جدید ریاست انسان میں ایک غبار نما داخلیت (subjectivity) شناخت کرتی ہے جو plasticity کی حامل ہوتی ہے اور تعلیمی و تنظیمی وسائل کے ذریعے اسے اپنی مادی ترجیحات کے مطابق ڈھالتی ہے۔ تعلیمی نفسیات کی وضع کردہ ٹیکسانومیز بھی اسی داخلیت کو موضوع بناکر تدریس و آموزش کے نئے طریقوں سے اس کے ساتھ efficient اور workable نسبتیں قائم کرتی ہیں جبکہ “تصدیق بالقلب” کا باطنی محل اس دائرے سے باہر رہتا ہے ۔ نفس سب سے زیادہ plasticity رکھنے والا منطقہ ہے جو اخلاقی خودی کی تشکیل اور تزکیے کا محل بھی ہے۔ تنظیمی اتھارٹی کانافذ کر دہ ڈسپلن دراصل انسان کی ایک نئی نفسی تشکیل ہے جو سراسر disciplinary اور مادی نوعیت رکھتی ہے۔”
اس دعوے کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے سب سے پہلے ان بنیادی اصطلاحات کے مفہوم کو واضح کرنا ضروری ہے جنہیں یہاں ایک دوسرے میں مدغم کر دیا گیا ہے۔داخلیت (Subjectivity) سے مراد انسان کا وہ باطنی مرکز ہے جہاں سے وہ خود کو “میں” کے طور پر محسوس کرتا ہے، معنی اخذ کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور اخلاقی فیصلے کرتا ہے۔ یہ محض نفسیاتی ردِعمل نہیں بلکہ شعور، ارادہ، ذمہ داری اور self-awareness کا مجموعہ ہے۔ داخلیت انسان کو ایک ذاتی اور جواب دہ ہستی بناتی ہے، نہ کہ محض ایک سماجی کردار یا حیاتیاتی اکائی ۔ فلسفۂ ذہن اور cognitive science بھی انسانی شعور کو ایک خودمختار حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، جسے بیرونی عوامل سے مکمل طور پر reduce نہیں کیا جا سکتا۔
لچک یا تشکیل پذیری (Plasticity) انسان کی ذہنی و نفسیاتی ساخت کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ تعلیم، تجربے اور ماحول کے زیرِ اثر بدل سکتا ہے۔ یہ ایک صلاحیت (capacity) ہے، کوئی مکمل وجودی تعریف نہیں۔ انسان قابلِ تشکیل ہے، لیکن وہ محض “تشکیل دی جانے والی شے”نہیں۔ نیورو سائنس میں plasticity یادداشت اور آموزش کے ساتھ اخلاقی اور شعوری ارتقا کی بنیاد بھی ہے اس لیےاگر اسے صرف جبر کی علامت سمجھ لیا جائے تو پھر اخلاقی تربیت، توبہ، اصلاحِ نفس، فکری ارتقا اور روحانی نشوونما سب ناممکن ہو جاتے ہیں۔
روحانی احوال ان باطنی کیفیات کا نام ہیں جو محض نفسی یا سماجی تشکیل کا نتیجہ نہیں ہوتیں، جیسے خشیت، سکونِ قلب، معنوی اضطراب، قربِ الٰہی، انکسار یا وجد۔ یہ نہ مکمل طور پر اختیاری ہیں، نہ ادارہ جاتی نظم کے تابع، بلکہ انسانی وجود کی اس سطح سے تعلق رکھتے ہیں جو محض نفسیات یا نظم و ضبط میں تحلیل نہیں ہو سکتی۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب انسانی داخلیت، لچک (plasticity) اور روحانیت کو ایک ہی سطح پر رکھ کر یہ تاثر دیا جائے کہ چونکہ انسان کی داخلیت قابلِ تشکیل ہے، اس لیے وہ لازماً ریاستی جبر یا مادی نظم کی پیداوار بن جاتی ہے۔ یہ نتیجہ نہ فلسفیانہ طور پر لازم ہے اور نہ تجرباتی طور پر ثابت۔ انسانی داخلیت کا لچکدار ہونا جبر کی علامت نہیں بلکہ انسانی امکان، اخلاقی تربیت اور فکری ارتقا کی بنیادی شرط ہے۔ اگر انسان اندر سے جامد ہوتا تو نہ تربیت ممکن ہوتی، نہ توبہ، نہ خود احتسابی اور نہ ہی اخلاقی نمو۔
فلسفۂ ذہن اور phenomenology اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی شعور اور باطنی تجربہ حقیقی اور بامعنی ہیں۔ ہر داخلی تجربہ اپنی منفرد معنویت رکھتا ہے جو محض بیرونی مشاہدے یا سائنسی پیمائش سے پوری طرح گرفت میں نہیں آ سکتا۔ انسان اپنے احساسات، ادراک اور تجربات ہی کے ذریعے اپنے وجود، اعمال اور معنی کو سمجھتا اور تشکیل دیتا ہے۔ مارلو پونٹے(Merleau-Ponty) کی جسمانی شعور کی تفہیم بھی اسی نکتہ کو تقویت دیتی ہے، جہاں جسم اور شعور کے باہمی تعلق سے معنی کی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔
کسی شے کا ادارہ جاتی یا سائنسی زبان میں مکمل طور پر بیان نہ ہو سکنا اس کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں بلکہ علم کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔ نیورو سائنس میں پلاسٹیسٹی اندرونی نمو اورذاتی تشکیل نو کی بنیاد ہے، جبکہ سماجی سطح پر یہی لچک انسان کو حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے، نئے معنی پیدا کرنے اور اپنی داخلی خودمختاری برقرار رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اس لچک کو محض جبر یا غلامی کہنا دراصل انسانی اختیار، اخلاقی مزاحمت اور باطنی آزادی کے امکان سے انکار ہے۔
یہ دعویٰ کہ جدید تعلیم انسان کو صرف نفسی اور وقوفی سطح تک محدود کر دیتی ہے، اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ جدید تعلیم سے ہی تخلیقی اختلاف، اخلاقی تنقید اور ذاتی معنویت کی تلاش جنم لیتی ہے۔ اگر انسان واقعی محض disciplinary نظم کا پرزہ بن چکا ہوتا تو جدید ریاست، جدید تعلیم اور سرمایہ داری پر یہ گہری تنقید ممکن ہی نہ ہوتی۔
یہاں ایک بنیادی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ داخلیت ہر انسان میں پائی جاتی ہے، خواہ وہ کم مذہبی ہو یا زیادہ مذہبی، جبکہ روحانی احوال داخلیت ہی کی ایک خاص اور غیر عمومی صورت ہیں۔ اسلامی روایت میں روحانی احوال عطا ہوتے ہیں، اکتسابی نہیں ہوتے؛ نہ وہ دائمی ہوتے ہیں اور نہ ہر فرد کے لیے معیارِ قدر بن سکتے ہیں۔ اس فرق کو نظرانداز کر کے جب مخصوص روحانی کیفیات کو انسانی فضیلت کا پیمانہ بنا دیا جاتا ہے تو دین ایک اشرافی تجربہ بن کر رہ جاتا ہے، جو شریعت کا لازمی تقاضا نہیں بلکہ عوام پر ایک ناقابلِ حصول اور ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔ روحانیت جدید نفسیات یا نیورو سائنس کا بھی براہِ راست موضوع نہیں بن سکتی۔ نفسیات احساسات کا تجزیہ کرتی ہے، ایمان کی تصدیق نہیں؛ نیورو سائنس دماغ کا مطالعہ کرتی ہے، معنی کی تشکیل نہیں کرتی؛ اور فلسفہ سوال اٹھاتا ہے، وحی کی تفہیم کا متبادل نہیں بنتا۔ یہ کوئی سازش نہیں بلکہ علم کی اپنی epistemic حد کا اعتراف ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آج مسلمانوں میں وہ روحانی احوال باقی نہیں رہے جو ماضی میں تھے۔ یہ دعویٰ تاریخی، سماجی اور اخلاقی تینوں سطحوں پر کمزور ہے۔ ماضی میں بھی روحانی احوال ہمیشہ مخصوص افراد یا اقلیت کا تجربہ رہے؛ اکثریت کی زندگی بازار، سیاست، طاقت اور مفاد کے گرد ہی گھومتی تھی۔ آج معاشی دباؤ، شہری زندگی، وقت کی قلت اور نفسی تناؤ نے زندگی کی ساخت بدل دی ہے۔ ایسی دنیا میں خانقاہی یا فراغتی روحانیت کا عمومی ہونا ممکن نہیں، لیکن اس کا مطلب روحانیت کا خاتمہ بھی نہیں۔ البتہ موجودہ حالات میں روحانی حساسیت اور اخلاقی بیداری زیادہ تر انسانی داخلیت کے دائرے میں ظاہر ہوتی ہے، جہاں اخلاقی اضطراب، خود احتسابی اور معنوی سوالات جنم لیتے ہیں۔
انسانی باطن کو مکمل طور پر ناقابلِ ادراک قرار دینا، یا محض ایک قابلِ کنٹرول ریسورس سمجھ لینا، دونوں انتہائیں ہیں۔ جدید علوم ان دونوں کو رد کرتے ہیں۔ انسانی داخلیت نہ مکمل طور پر ادارہ جاتی نظم میں سماتی ہے، نہ محض خام مادہ ہے جسے جیسے چاہے ڈھالا جا سکے۔ لچکدار داخلی شعور کو جبر کی علامت کہنا دراصل انسانی اخلاقی امکان کا انکار ہے۔ اگر انسان واقعی محض نظم و ضبط کی پیداوار بن چکا ہوتا تو ضمیر کی خلش، معنی کی جستجو اور خود اسی نظام پر سوال اٹھانے کی صلاحیت کب کی مفقود ہو چکی ہوتی۔ فلسفۂ اخلاق اور cognitive science اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تربیت یا معاشرتی اثرات انسانی اختیار اور self-reflective agency کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
آج کا انسان کم خاموش، زیادہ مضطرب، خود آگاہ اور سوال کرنے والا ہے۔ اس تبدیلی کو روحانیت کے زوال کے بجائے اس کے اظہار کی صورتوں میں آنے والی تبدیلی کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ آج اگر انسان اپنے عمل پر ندامت محسوس کرتا ہے، معنی کے سوال سے گریز نہیں کرتا، ناانصافی پر خاموش نہیں رہتا اور اپنے آپ کو اخلاقی طور پر بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی داخلی بیداری کی علامت ہے۔ روحانیت ہمیشہ مخصوص ظاہری سانچوں کی پابند نہیں رہی؛ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اسے اب بھی ماضی کی چند پہچانی ہوئی صورتوں میں محدود کر کے دیکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ داخلی بیداری عبادت کا بدل ہے بلکہ یہ کہ جدید حالات میں روحانی سوالات کا پہلا ظہور اکثر اسی سطح پر ہوتا ہے۔
انسانی داخلیت ایک کثیر جہتی حقیقت ہے جس میں نفسی، فلسفیانہ اور روحانی پہلو سب شامل ہیں۔ جدید تعلیم اسے ختم نہیں کرتی بلکہ نئی صورتوں میں ظاہر ہونے کا موقع دیتی ہے۔ داخلیت روحانیت کی ضد نہیں بلکہ وہ زمین ہے جس پر روحانیت پھلتی پھولتی ہے۔ زمین بدل جائے تو فصل کی صورت بدل سکتی ہے، لیکن نشوونما کا امکان ختم نہیں ہوتا۔ یہی فرق سمجھ میں آ جائے تو جدید انسان، جدید تعلیم اور جدید ریاست پر کی جانے والی تنقید خود بخود متوازن ہو جاتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply