ڈیجیٹل عید۔۔۔۔افراز اختر

جیسے جیسے ہم لوگ سوشل میڈیا کی زندگی میں مگن ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے عید بھی ڈیجٹل ہوتی جا رہی ہے ۔
مثلاً پہلے جب جب عید کا موقع آتا تھا تو سب رشتہ دار ، دوست یار عید کارڈ پوسٹ کرتے تھے ، اور گھر بھی جا کر ملتے تھے ، پھر فون آ گیا تو فون بھی کر لیا جاتا تھا اس عید کا اپنا الگ مزا ہوتا تھا اپنائیت اور پیار محسوس ہوتا تھا ۔
فون سے آگے سوشل میڈیا کی زندگی شروع ہوئی اب عید پر ایک گوگل سے پیغام ڈاؤن لوڈ کیا یا تصویر ڈاؤن لوڈ کی اور بغیر کسی احساس(emotion , feeling ) کے دو سو بندوں کو بھیج دی ۔ ہم اتنی بھی زحمت نہیں کرتے کہ چار الفاظ لکھ دیں یا آخر میں اپنا نام ہی لکھ دیں بس پیغام لکھا اور دو سو بندوں کو بھیج دیا نہ جواب کی فکر اور نہ ہی اتنا کریں کہ اپنا نام لکھیں تا کہ اگلے کو پیار اور عزت کا احساس ہو ، نہ ہی یہ زحمت کہ اگر قریبی ہے تو دو منٹ کی کال کر لی جائے ۔

آج کی عید پر آپ تھوڑا ڈیجٹل عید سے باہر نکلیں اور اپنے پیاروں کو احساس دلائیں کہ آپ ان کی قدر کرتے ہیں ان کی دل سے عزت کرتے ہیں-

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

دوستو !آپ  اگر میسج لکھ سکتے ہیں یا میسج کے آخر میں صرف اپنا نام لکھ سکتے ہیں لکھیں ،
اردو ، انگلش یا کسی بھی زبان میں لکھیں یا پھر آڈیو ریکارڈ کریں اور دوستوں کو پیغام بھیجیں
آپ کے پیاروں کو آپ کے نام ، آواز اور آپ کے پیغام کے ساتھ اپنائیت اور دلی خوشی محسوس ہو گی۔۔
اور میں گارنٹی دیتا ہوں کہ ان کی خوشی دگنی ہو جائے گی کہ آپ نے خاص  ان کے لئے میسج ، پیغام لکھا ۔
کوئی ایسا دوست جس سے بہت عرصے سے بات نہ ہوئی ہو اس کو کال کریں مسیج بھیجیں آپ کی اور ان کی عید کا مزا دو بالا ہو جائے گا ۔
میری طرف سے سب دوستوں ، فیملی اور ہر اس شخص کو عید مبارک جس تک میرا پیغام پہنچ رہا ہے ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply