ایران کی سڑکوں پر سنائی دینے والے نعروں میں حالیہ برسوں کے دوران جو تبدیلی آئی ہے وہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں آنے والی ایک گہری دراڑ کی نشاندہی کرتی ھے ۔ ماضی میں احتجاجی آوازیں زیادہ تر مہنگائی ، بے روزگاری ، سماجی و مذھبی پابندیوں اور بدانتظامی تک محدود رہتی تھیں مگر اب نعرے براہِ راست اقتدار کے نظریاتی مرکز کو مخاطب کر رہے ہیں ۔ “مرگ بر خامنہ ای” اور “مرگ بر ولایتِ فقیہ” جیسے نعرے اس بات کا اظہار ہیں کہ عوامی غصہ اب صرف پالیسیوں یا افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نظامِ حکمرانی کے بنیادی فلسفے پر سوال اٹھا رہا ھے ۔
ولایتِ فقیہ ایران کے سیاسی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ھے ۔ اس نظریے کے تحت ریاستی اقتدار کی حتمی کنجی ایک ایسے منصب کے ہاتھ میں ہے جو عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ مذہبی و ادارہ جاتی انتخاب کے ذریعے طے ھوتا ھے ۔ اس نظام نے چار دہائیوں تک داخلی استحکام ، خارجی مزاحمت اور نظریاتی وحدت کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ساخت بدلتی چلی گئی ۔ آبادی کا بڑا حصہ اب شہری ، نوجوان ، تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ھوا ھے ۔ ان کی ترجیحات ، سوالات اور توقعات وہ نہیں رہیں جو انقلاب کے فوراً بعد کی نسلوں کی تھیں ۔
حالیہ نعروں کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایران جیسے نظام میں رہبرِ اعلیٰ کے خلاف عوامی سطح پر براہِ راست نعرہ لگانا غیر معمولی تصور کیا جاتا ھے ۔ یہ محض خوف کی دیوار میں شگاف نہیں بلکہ اس تقدس کے گرد کھنچی لکیر کا مٹنا ھے جس پر ریاستی بیانیہ کھڑا تھا ۔ جب کوئی معاشرہ اپنے طاقتور ترین ادارے اور نظریے کو کھلم کھلا میدان میں آ کر چیلنج کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ھوتا کہ تبدیلی فوراً آ جائے گی ، یہ ضرور ھوتا ھے کہ ذہنی نقشہ بدل چکا ھے ۔
یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران شدید معاشی دباؤ میں ھے ۔ بین الاقوامی پابندیاں ، کرنسی کی گراوٹ ، بے روزگاری اور طبقاتی تفاوت نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل ترین بنا دیا ھے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی تکالیف تبھی نظامی بغاوت میں ڈھلتی ہیں جب انہیں اخلاقی یا نظریاتی ناانصافی کا رنگ مل جائے ۔ خواتین کے حقوق ، طرزِ زندگی پر قدغنیں ، اظہارِ رائے کی پابندیاں اور ریاستی سختی ، یہ سب عوامل مل کر اس غصے کو ایک بڑے سوال میں بدل دیتے ہیں کہ کیا موجودہ نظام عوام کی بدلتی ہوئی خواہشات و رجحانات کا جواب دے سکتا ھے ؟
ریاستی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس نوعیت کے نعروں کو محض بیرونی سازش یا محدود گروہوں کی شرارت قرار دینا ایک مانوس حکمتِ عملی ھے ۔ اس بیانیے میں وزن بھی ھے کیونکہ ایران واقعی ایک پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں گھرا ھوا ھے مگر ہر احتجاج کو صرف خارجی ہاتھ سے جوڑ دینا داخلی مکالمے کے دروازے بند کر دیتا ھے ۔ نظام اگر خود کو دیرپا سمجھتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلیاں نعروں کے ذریعے خود کو ظاہر کرتی ھیں اور نعروں کو محض طاقت سے خاموش کر دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی معاشرہ یکساں نہیں ۔ دیہی علاقوں ، مختلف مذہبی طبقات ، اور ریاستی اداروں سے وابستہ حلقوں میں اب بھی نظام کے لیے حمایت موجود ھے ، اسی لیے کسی فوری انقلابی نتیجے کی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی ۔ تاہم جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ اصلاحات کی گنجائش پر عوامی اعتماد کمزور پڑ چکا ھے ۔ جب احتجاج اصلاح سے انکار اور نظام کی تبدیلی کے سوال میں بدل جائے تو پھر ریاست اور معاشرہ دونوں ایک نازک موڑ پر آ کھڑے ھوتے ھیں ۔
آنے والے دنوں میں ریاستی ردِعمل یقیناً سخت رھے گا اور وقتی طور پر احتجاج دب بھی سکتا ھے مگر تاریخ کا سبق یہی ھے کہ دبایا گیا سوال ختم نہیں ہوتا وہ شکل بدل لیتا ھے ۔ آج کے نعرے اگر سڑکوں پر کم بھی ہو جائیں یا دبا دئیے جائیں تو وہ مکالمے ، تحریروں ، فن ، ذھنوں اور نجی گفتگوؤں میں زندہ رھتے ھیں ۔ یہی وہ خاموش بہاؤ ہوتا ھے جو طویل مدت میں معاشروں کی سمت متعین کرتا ھے ۔
ایران کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ احتجاج کیسے روکا جائے بلکہ یہ ھے کہ ریاست اور معاشرہ ایک نئے سماجی معاہدے پر کیسے پہنچیں ؟ کیا اقتدار عوامی شرکت کے دائرے کو وسیع کرنے پر آمادہ ہوگا ؟ کیا مذہبی و ریاستی بیانیہ بدلتی ہوئی نسل کے سوالات کا جواب دے پائے گا ؟ یا پھر فاصلے مزید بڑھیں گے ؟ ان سوالات کے جوابات فوری نہیں ، مگر اتنا طے ہے کہ “مرگ بر ولایتِ فقیہ” جیسے نعرے اس بحث کو تاریخ کے حاشیے سے نکال کر صفحے پر لے آئے ھیں ۔
ایران اس وقت اپنے تاریخی ترین اندرونی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ھے جہاں گزشتہ چند روز میں ملک بھر میں ایک وسیع پیمانے پر احتجاجی لہر نے جنم لیا جو نہ صرف اقتصادی مسائل بلکہ سیاسی ، سماجی ، معاشی ، معاشرتی عدم اطمینان کا اظہار بھی ھے ۔
احتجاجات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اب یہ 31 صوبوں میں سے کم از کم 26 صوبوں کے 270 سے زائد مقامات تک پہنچ چکے ھیں اور درجنوں بڑے شہروں میں مظاہرے جاری ھیں ۔ تہران، قُم ، ہرسن ، لورستان ، لاردیگان ، کوہدشت ، مرودشت ، ازنا اور دیگر بےشمار شہروں میں سڑکیں ، بازار ، کالج ، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بند ھیں ، جبکہ کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ھو رھی ھیں ۔
ایران کی صورت حال اس لحاظ سے منفرد اور پیچیدہ ہے کہ اس مرتبہ احتجاجات صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے نوجوان ، طلبہ ، تاجروں ، دکان داروں ، سرکاری اور نجی ملازمین اور عام شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے سیاسی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھانا شروع کر دیا ۔ اور تمام جگہوں پر “مرگ بر آمر” اور “زن ، زندگی ، آزادی” جیسے نعرے گونج رھے ھیں جو 2022 کی مہسا امینی کے سرکاری قتل سے شروع ھونے والی تحریک کو یاد دلاتے ھیں ۔
یہ سب مسائل طویل عرصہ سے موجود تھے، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی شدت نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ھے ۔
تشدد، گولی اور ہلاکتوں کی اطلاعات نے صورت حال کو مزید سنگین کر دیا ھے ۔ حکومتی اور غیر سرکاری ذرائع کے مطابق، احتجاجوں کے دوران کم از کم 40 سے زائد افراد ہلاک ھو چکے ھیں ، جن میں مظاہرین اور بعض رپورٹوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اھلکار بھی شامل ھیں ۔ جبکہ چار ھزار سے زائد لوگ گرفتار ھو چکے ھیں ۔ ان واقعات میں پیلٹ اور سٹن گن ، واٹر کینن ، آنسو گیس ، گولی چلنے ، اور مسلح جھڑپیں ، جلاؤ گھیراؤ شامل رھے ھیں ۔
ایران کے بازاروں میں پہلی بار بڑے پیمانے پر بندشیں اور ہڑتالیں دیکھنے میں آئیں کیونکہ تاجروں نے قیمتوں اور کاروباری ماحول میں عدم استحکام کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا ھوا ھے ۔
ایرانی حکومت نے احتجاج کے آغاز میں گفتگو اور بات چیت کی پیشکش کی مگر ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی سخت کیا ۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کے جائز احتجاج اور “شرپسند” عناصر میں فرق کرتے ہوئے سخت بیانات دئیے اور فورسز کو مظاہرین کو “ان کی جگہ” دکھانے کی ہدایت بھی کر دی ۔
اس صورت حال نے ایران کے اندر ایک اندرونی کشمکش کو جنم دیا ھے ۔ حکومت نے احتجاج کی وجوھات کو جزوی طور پر قبول کیا مثلاً معاشی مشکلات اور تاجروں کی شکایات ، لیکن ساتھ ھی احتجاج کو بیرونی دشمنوں اور میڈیا پر چلنے والی سازشوں کا نتیجہ قرار دیا ۔ یہی حکومتی موقف ھے جس کے تحت مظاہرین کو “دشمن کے ایجنٹ” قرار دیا جا رہا ھے ۔
امریکہ کے بیانات عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھا رھے ھیں کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے ھی مغربی طاقتوں ، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مختلف محاذوں پر تنازعات میں ملوث ھے ۔ ان بین الاقوامی سیاسی حوالوں نے احتجاجات کے اندرونی تناظر کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ھے ، خاص طور پر جب حکومتی بیانیہ احتجاجات کو نرم جنگ ، بیرونی سازش ، یا “ملکی سرحدوں کے اندرونی غدارانہ عمل کے طور پر پیش کرتا ھے ۔
حالیہ کشیدگی میں سماجی میڈیا اور ڈیجیٹل مواصلات کا کردار بھی نمایاں رھا ھے ۔ ویڈیوز اور تصاویر جو ایران کے مختلف شہروں سے شیئر ھو رھی ھیں ، ان میں مظاہرین پر گولی بازی ، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست جھڑپیں ، جلاؤ گھیراؤ ، نعرے بازی اور عوامی نعرے شامل ھیں جس سے عالمی سطح پر ایک زندہ احتجاجی موومنٹ کا احساس پیدا ھوا ھے ۔ البتہ معلومات کی مکمل تصدیق کرنا مشکلات کا باعث ھے کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ کنٹرول ، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں بڑھ رھے ھیں جس سے آزاد رپورٹنگ پر اثر پڑ رھا ھے ۔ بندہ بمشکل ایران میں موجود اپنے دوست احباب سے رابطہ کر پا رھا ھے جو خود اپنے گھروں اور کمروں میں بند اور مکمل طور پر ایران کے حالات سے بے خبر بیٹھے ھیں ۔ ان سے فقط یہی معلومات مل رھی ھیں کہ شدید ھنگامی صورتحال ھے ۔ انہیں بھی اگر کہیں سے معلومات ملتی ھیں تو ان کے محلوں میں موجود دکانداروں سے کہ جن سے وہ روزمرہ کی اشیائے خوردونوش وغیرہ خریدنے جاتے ھیں ۔ مذید یہ کہ وہ معلومات دینے اور اب تو بندہ کا فون اٹھانے سے بھی کتراتے ھیں کہ کہیں جاسوسی کے الزام میں دھر نہ لئے جائیں ۔
اس احتجاجی لہر کی ایک اہم خصوصیت یہ ھے کہ اس نے مختلف طبقاتی ، نسلی، اور عمرانی گروھوں کو جوڑ دیا ھے ۔ نہ صرف شہروں کے نوجوان بلکہ دیہی اور مضافاتی علاقوں کے لوگ بھی اپنے مسائل لے کر سڑکوں پر نکل آئے ھیں ۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ احتجاج ایران کے حالیہ شدہد ترین معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کے عکاس ھیں ۔ 2022 کے بعد یہ سب سے بڑی احتجاجی لہر ھے جس نے ملک کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لے لیا ھے ۔
جہاں تک رجیم چینج یا نظام کی تبدیلی کا سوال ہے، حقیقتاً یہ بہت پیچیدہ ھے ۔ موجود احتجاج میں ایک بڑی تعداد نے حکمران ڈھانچے پر سوال اٹھائے ھیں لیکن ایران ایک مضبوط سیکیورٹی ریاست ھے جس کے پاس انقلابی گارڈ کور (IRGC)، بسیج ملیشیا اور دیگر فورسز شامل ھیں جو مظاہروں کو سختی سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ھیں ۔ اس لحاظ سے فوری طور پر ایک مکمل رجیم چینج آج یا کل ہونے کا امکان بہت کم ھے کیونکہ حکومتی ڈھانچہ اپنی حکمرانی اور طاقت کے بہت مضبوط نیٹ ورکس کے ساتھ منظم ھے ۔ خاص طور پر جب سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای خود اپنے اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر ظاہر کرتے ھیں ۔
البتہ یہ بھی درست ھے کہ عوامی بے چینی اور سیاسی مطالبات میں بتدریج اور مسلسل اضافہ ھو رھا ھے اور اگر موجودہ اقتصادی بحران ، بین الاقوامی پابندیوں اور بیروزگاری کے مسائل برقرار رھے تو یہ احتجاج مزید سخت ، مزید منظم ، یا نئے سیاسی اتحادوں کی شکل میں سامنے آ سکتے ھیں ۔میری ناقص فہم کے مطابق اگر احتجاجوں میں ایک مرکزی ، متفقہ قیادت سامنے آ جائے تو یہ تحریک ایک مزید منظم سیاسی تحریک میں بدل سکتی ھے ، جس کے پاس واضح منشور اور حکمت عملی ھو ۔
دوسری طرف، حکومت اپنی طاقت کے استعمال ، سختی اور سکیورٹی فورسز کی مدد سے احتجاجوں کو منتشر یا کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رھی ھے جیسا کہ ماضی میں بھی کئی بار دیکھا گیا ھے ۔ اگر حکومتی طاقت مظاہروں پر زیادہ جارحانہ انداز میں عمل کرتی ھے تو یہ ایک خطرناک چکر میں تبدیل ہو سکتا ھے جس سے نہ صرف ایران کے داخلی استحکام کو خطرہ ھوگا بلکہ علاقائی اور عالمی کشیدگی بھی بڑھے گی ۔ خاص طور پر جب خارجی طاقتیں بھی بیانات اور ممکنہ مداخلتوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کر رھی ھیں ۔
ایران کی موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس ملک کی طویل سیاسی تاریخ ، انقلاب کے بعد کے تجربات ، سکیورٹی ریاست کے ڈھانچے ، معاشی پالیسیوں اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی مدنظر رکھیں ۔ ایران نے پچھلے چند دہائیوں میں کئی سنگین بحرانوں کا سامنا کیا ھے ، بشمول بیرونی پابندیاں ، علاقائی تنازعات اور اندرونی سیاسی اختلافات ۔ موجود احتجاجات ان ہی مسائل کے بڑھتے ہوئے اثرات کا نتیجہ ھیں جو اب عوام اور ریاست کے روزمرہ معاملات پر براہِ راست اثر انداز ھو رھے ھیں ۔
خلاصہ یہ کہ ایران ایک ایسے دورِ بحران سے گزر رہا ھے جس میں عوامی مطالبات ، معاشی مشکلات ، سیکیورٹی فورسز کے ردعمل اور بین الاقوامی سیاسی دباؤ سب ایک ساتھ مرکب ہو گئے ھیں ۔ عوام کی بے چینی اور حکومتی سختی ایک گھمبیر تضاد کے طور پر سامنے آئی ھے جو مستقبل میں ملک کے سیاسی اور اقتصادی منظرنامے کو دوبارہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ھے ۔ اس بحران کا صحیح حل فوری گفتگو ، فوری اصلاحات ، فوری اقتصادی پالیسیوں کی بہتری اور شہری حقوق کا احترام ھے لیکن فی الوقت صورتحال بدستور کشیدہ ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر طویل المدتی اثرات کی حامل ھے ۔
ایران میں موجودہ بحران اور احتجاجی لہر کو صرف سڑکوں پر نظر آنے والے مظاہروں تک محدود سمجھنا ایک سادہ تجزیہ ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کئی اندرونی و بیرونی قوتیں ، ریاستی ادارے ، سماجی محرکات ، تاریخی اسباب اور ممکنہ اصلاحی مطالبات کار فرما ھیں ۔ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کون سی فورسز ، قوتیں ، عوامل اور اصلاحات اس بحران کو کم یا ختم کر سکتی ھیں تو اس کا جواب یک رُخا نہیں بلکہ کثیرالجہتی ھے ، کیونکہ ایران ایک نظریاتی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ سیکیورٹی اسٹرکچر ، مضبوط مذہبی اداروں اور گہرے سماجی تضادات کا حامل ملک ھے ۔
سب سے پہلے ریاستی قوتوں کا ذکر ضروری ھے ۔ IRGC اور بسیج کے علاوہ ایران کی روایتی فوج (Artesh) بھی ایک اہم عنصر ھے ۔ اگرچہ یہ فوج براہِ راست سیاست میں مداخلت نہیں کرتی مگر تاریخ بتاتی ھے کہ جب ریاستی بحران حد سے بڑھ جائے تو روایتی فوج کا رویہ فیصلہ کن ہو سکتا ھے ۔ اگر Artesh خود کو غیر جانبدار رکھے یا سخت کریک ڈاؤن میں براہِ راست حصہ لینے سے گریز کرے تو احتجاجی تحریک کو ایک اخلاقی اور نفسیاتی تقویت مل سکتی ھے ۔ تاہم اگر یہی فوج مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی رھے تو بحران دب بھی سکتا ھے اگرچہ اس دباؤ کے نتائج دیرپا نہیں ھونگے ۔
ایک اور اہم قوت عدلیہ ھے ۔ ایرانی عدالتی نظام اگر محض گرفتاریوں ، سخت سزاؤں اور ریاستی بیانیے کا آلہ کار بننے کے بجائے کچھ حد تک شفافیت ، قانونی تحفظ اور عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لینے کی طرف بڑھے تو عوام کے غصے میں کمی آ سکتی ھے ۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی ، احتجاج کے دوران گرفتار افراد کے ساتھ نرمی اور اظہارِ رائے کے محدود مگر حقیقی مواقع عوامی اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کر سکتے ھیں ۔
سیاسی سطح پر حکومت اور پارلیمنٹ کا کردار بھی فیصلہ کن ھے ۔ اگرچہ ایران میں اصل طاقت منتخب اداروں کے پاس نہیں ، پھر بھی اقتصادی پالیسیوں ، سبسڈیز ، ٹیکس اصلاحات اور روزمرہ زندگی سے جڑے فیصلے یہی ادارے کرتے ھیں ۔ اگر حکومت محض سیکیورٹی بیانیے پر انحصار کرنے کے بجائے مہنگائی ، بے روزگاری اور کرنسی بحران کے حوالے سے ٹھوس اور فوری اقدامات کرے ، جیسے بنیادی اشیائے خورونوش پر سبسڈی ، تنخواہوں میں جزوی اضافہ ، یا چھوٹے کاروباروں کے لیے سہولتیں تو احتجاجی شدت میں وقتی کمی ممکن ھے ۔ مگر بین الاقوامی معاشی پابندیوں میں جکڑی ھوئی حکومت بھی کیا کر سکتی ھے جس کی آمدن کے ذرائع ھی نہ ھونے کے برابر رھنے دئیے جائیں ۔ ایران نہ اپنی آٹھ کروڑ عوام کو فی کس 7 ڈالر ماھانہ اضافی دینے کا اعلان کیا ھے یعنی فی خاندان آٹھ دس ھزار ماھانہ ، جسے عوام نے مسترد کر دیا ھے ۔ واقعتاً یہ رقم تو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی کم ھے ۔
ایک نہایت اہم عنصر مذہبی ادارے اور علما بھی ھیں ۔ ایران میں جمعہ کے خطبات ، مذہبی مراکز اور حوزاتِ علمیہ عوامی رائے سازی میں گہرا اثر رکھتے ھیں ۔ اگر مذہبی قیادت کا ایک حصہ عوامی مشکلات کو کھلے دل سے تسلیم کرے ، ریاستی سختی پر سوال اٹھائے اور اصلاحات کی حمایت کرے تو یہ بحران کو نرم کر سکتا ھے ۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ھے کہ مذہبی اشرافیہ کے اندر اختلاف نے ریاستی بیانیے کو کمزور کیا اور عوام کو حوصلہ دیا ۔
سماجی سطح پر تاجر طبقہ ، بازار (بازارِ تہران) اور صنعتی مزدور ایک خاموش مگر طاقتور قوت ھیں ۔ ایران میں جب بھی بازار بند ھوتا ھے یا مزدور ہڑتال کرتے ھیں تو ریاست پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ھے ۔ اگر یہ طبقات منظم اور مسلسل احتجاج کی طرف جائیں مگر تشدد سے گریز کریں تو حکومت کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ھے ۔ اسی طرح اساتذہ ، نرسز ، سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تحریکیں بھی احتجاج کو ایک معاشی اور سماجی جواز فراہم کر رھی ھیں ۔
ایک اور اہم معاملہ نسلی و علاقائی سوال ھے ۔ کرد ، بلوچ ، عرب اور دیگر اقلیتی علاقوں میں معاشی محرومی اور سیاسی نظر اندازی نے ہمیشہ احتجاج کو زیادہ شدت دی ھے ۔ اگر مرکز ان علاقوں کے لیے ترقیاتی پیکجز ، مقامی خود مختاری یا ثقافتی حقوق میں نرمی دکھائے تو احتجاج کی جغرافیائی شدت کم ہو سکتی ھے ۔ بصورت دیگر یہی علاقے کسی بھی تحریک کا سب سے زیادہ غیر متوقع اور خطرناک رخ بن سکتے ھیں ۔
اصلاحات کی بات کی جائے تو سب سے بنیادی اصلاح معاشی شفافیت ھے ۔ IRGC اور دیگر طاقتور اداروں کے معاشی کردار کو محدود کرنا یا کم از کم اس پر پارلیمانی نگرانی قائم کرنا ، عوامی غصے کو کم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ہو سکتا ھے ۔ کرپشن ، اقربا پروری اور بند معیشت وہ عوامل ھیں جو عوام کو یہ احساس دلاتے ھیں کہ قربانیاں صرف ان سے لی جا رھی ھیں جبکہ طاقتور طبقہ محفوظ ھے۔
سیاسی اصلاحات میں اظہارِ رائے کی محدود مگر حقیقی آزادی نہایت اھم ھے ۔ اگر میڈیا ، سوشل میڈیا اور صحافت کو مکمل دشمن سمجھنے کے بجائے ایک حفاظتی والو کے طور پر دیکھا جائے تو ریاست پر دباؤ کم ھو سکتا ھے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکمل جبر وقتی سکون تو دیتا ھے مگر طویل المدتی عدم استحکام کو بھی جنم دیتا ھے ۔
بین الاقوامی سطح پر ھی کچھ عوامل بحران کو کم کر سکتے ھیں اگر ایران اور مغرب کے درمیان کسی حد تک پابندیوں میں نرمی ، جوہری مذاکرات کی بحالی یا معاشی راھداریوں پر پیش رفت ھوتی ھے تو معیشت کو سانس مل سکتی ھے جس کا براہِ راست اثر عوامی غصے پر پڑے گا ۔ تاہم بیرونی دباؤ ، دھمکیاں یا کھلی مداخلت اکثر الٹا اثر ڈالتی ھیں اور ریاستی سختی کو مزید جواز فراھم کرتی ھیں ۔
جو کہ بدستور کیا جا رھا ھے ۔ جاوید رضا پہلوی کے ایرانی عوام سے خطابات سوشل میڈیا پر نشر کئے جا رھے ھیں ۔ فیک نیوز کی بھی بھرمار ھے ۔
ایک اھم مگر کم زیرِ بحث عنصر نفسیاتی تھکن بھی ھے ۔ طویل احتجاج ، گرفتاریوں اور جبر کے بعد بعض اوقات عوام وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ھیں لیکن اس کا مطلب مسئلے کا حل نہیں ھوتا ۔ یہی دباؤ اگر اصلاحات میں تبدیل نہ ھو تو مستقبل میں زیادہ شدید شکل میں واپس آتا ھے ۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ایران کا موجودہ بحران کسی ایک اقدام ، کسی ایک فورس یا کسی ایک اصلاح سے ختم نہیں ھو سکتا ۔ یہ ایک کثیرالجہتی بحران ھے جس کا حل بھی کثیرالجہتی ہونا چاھیے ۔ طاقت کے استعمال سے احتجاج دبایا جا سکتا ھے مگر ختم نہیں ۔ اصل حل معاشی انصاف ، محدود سیاسی اصلاحات ، سماجی احترام ، اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی جزوی بحالی میں مضمر ھے ۔ اگر ریاست یہ راستہ اختیار کرتی ھے تو بحران کی شدت کم ہو سکتی ھے ۔ بصورت دیگر احتجاج ختم ہونے کے بجائے شکل بدلتا رھے گا اور ایران ایک طویل عدم استحکام کے دور میں داخل ھو سکتا ھے ۔ اور ھر بار ایسا ھی لگتا ھے کہ شاید ایران اس سیاسی ، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام سے شاید کبھی باھر نہ نکلے ۔
IRGC جسے اردو میں سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کہا جاتا ھے ۔ یہ ایران کا ایک نہایت طاقتور عسکری ، سیکیورٹی اور نظریاتی ادارہ ھے جو عام فوج سے الگ ھے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرتا ھے ۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد نئے قائم ہونے والے نظام کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی قوت میں تبدیل ہو گیا جو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی ، معاشی اور سماجی سطح پر بھی غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ھے ۔
IRGC کا قیام انقلابِ ایران کے فوراً بعد عمل میں آیا کیونکہ انقلابی قیادت کو خدشہ تھا کہ شاہِ ایران کے دور کی فوج یا ریاستی ادارے کسی بھی وقت انقلاب کے خلاف بغاوت کر سکتے ھیں ۔ چنانچہ ایک ایسی فورس بنائی گئی جو نظریاتی طور پر انقلاب کی وفادار ھو اور جس کی اولین ترجیح ریاست نہیں بلکہ اسلامی نظام اور ولایتِ فقیہ کا تحفظ ھو ۔ یہی وجہ ھے کہ پاسداران کی وفاداری براہِ راست سپریم لیڈر سے منسلک ھے نہ کہ منتخب حکومت یا پارلیمنٹ سے ۔
اس کے ساتھ بسیج ملیشیا بھی پاسداران انقلاب کا حصہ ھے جو بظاہر رضاکار فورس کہلاتی ھے مگر عملی طور پر احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے ، سڑکوں پر نگرانی رکھنے ، جاسوسی اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ھے ۔ بسیج میں نوجوان ، طلبہ اور عام شہری شامل ھوتے ھیں جنہیں نظریاتی تربیت دی جاتی ھے ۔
ایران میں جب بھی بڑے عوامی احتجاج ھوتے ھیں ، خواہ وہ مہنگائی کے خلاف ھوں یا سیاسی آزادیوں کے مطالبات پر مبنی ، پاسداران انقلاب اور اس سے منسلک فورسز سب سے پہلے متحرک ھوتی ھیں ۔ گرفتاریوں ، کریک ڈاؤن ، انٹرنیٹ بندش اور مظاہروں کو طاقت سے روکنے میں یہی ادارہ مرکزی کردار ادا کرتا ھے ۔ اسی وجہ سے ایرانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں پاسداران کو خوف ، جبر اور ریاستی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ھے جبکہ سرکاری بیانیے میں اسے انقلاب کا محافظ اور ملکی سلامتی کا ضامن قرار دیا جاتا ھے ۔ ایران کے اندر یہ ادارہ نہایت مقدس اور طاقتور سمجھا جاتا ہے، اور اس پر تنقید کو اکثر نظام دشمنی کے مترادف قرار دیا جاتا ھے ۔
مجموعی طور پر پاسداران انقلاب ایران کا سب سے طاقتور ادارہ ھے جو فوج ، خفیہ ایجنسی ، نظریاتی محافظ اور معاشی قوت سب کچھ ایک ساتھ ھے ۔ ایران میں کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی ، اصلاحات یا حتیٰ کہ ممکنہ انتظامی تبدیلی کی راہ میں یہ ادارہ سب سے بڑی رکاوٹ بھی ھے اور سب سے فیصلہ کن عنصر بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالیہ حالات ، احتجاج یا رجیم چینج کی کسی بھی بحث میں پاسداران کو سمجھے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی ۔
ایران میں مذہب بیزاری ، الحاد ، لاادریت اور روایتی مذہبی بیانئے سے ذہنی دوری کوئی اچانک پیدا ہونے والا رجحان نہیں ۔ میرے بہت سے دوست اور ناقدین کافی عرصے سے میرا مذاق اڑاتے اور غصہ بھی ھوتے رھے ھیں جب میں انہیں ایران میں مذھب بیزاری ، لاادریت اور الحاد کی بابت 70 فیصد تعداد بتاتا ھوں ۔ نیز انہی میں سے زرتشتیت کی طرف رجعت کے مدعیان کا ذکر کرتا ھوں ۔
گزشتہ دو دہائیوں میں سے ایک دھائی تو ایران میں اس بابت خود میرے ذاتی مشاھدات رھے ھیں جس میں خاموش مگر وسیع سماجی تبدیلی رونما ھوئی ھے ، خاص طور پر شہری علاقوں ، نوجوانوں ، طلبہ اور تعلیم یافتہ طبقے میں ۔ مذہب جو کبھی ریاستی بیانیے کی روح سمجھا جاتا تھا ، اب بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے جبر ، نگرانی اور پابندی کی علامت بنتا جا رھا ھے ۔ جب مذہب ریاستی طاقت کے ساتھ جُڑ جائے تو وہ عقیدے کے بجائے ضابطہ بن جاتا ھے اور ایران میں یہی عمل مذہب کو عوامی سطح پر کمزور کر چکا ھے ۔ جس کے ثبوت کے طور پر ایران میں متعدد حوزہ جات علمیہ ( بڑے دینی مدارس) میں جلاؤ گھیراؤ کے حالیہ واقعات کا رونما ھونا ھے ۔ آخوند و ملا سمیت ، ولایتِ فقیہ کی بابت لاف زنی پر مشتمل نعرے تو آپ سب سن ھی چکے ھونگے ۔ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں ھے ۔ دین حکمت سے اگر حکمت منہا ھو جائے تو یہی کچھ ھونا بعید نہیں ھوتا ۔
حجاب کی زبردستی ، طرزِ لباس پر کنٹرول ، موسیقی ، تفریح ، میل جول ، انٹرنیٹ ، کتابوں ، فلموں اور حتیٰ کہ ذاتی تعلقات پر ریاستی نگرانی نے ایک پوری نسل کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ھے کہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ اس مذہبی ڈھانچے کا ھے جو روزمرہ زندگی میں سانس لینے کی اجازت بھی نظریاتی اجازت نامے سے مشروط کرتا ھے۔ اسی کے رد عمل میں عشرے سے لکھ رھا ھوں کہ ایرانی عورت آزادی کی حدیں درون خانہ تو کب سے پھلانگ چکی ھے اب ظاھراً بھی کھلم کھلے والا حساب ھے اور حکومت بے بس ۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ احتجاجات میں صرف معاشی نعرے نہیں بلکہ مذہبی علامتوں کی نفی ، انقلابی شعار سے بیزاری اور زن، زندگی، آزادی جیسے نعرے گونج رھے ھیں ، جو دراصل ایک سیکولر ، لبرل اور شخصی آزادی پر مبنی طرزِ زندگی کی خواہش کا اظہار ھیں ۔
ہڑتالوں اور مظاہروں میں تاجر طبقے ، بازار ، طلبہ و طالبات و برابر تعداد میں خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت اسی سماجی تبدیلی کا عملی اظہار ھے ۔ تہران کے بازار کی بندش محض کاروباری احتجاج نہیں بلکہ ان کے مطابق ایک علامتی بغاوت ھے اس ریاستی نظم کے خلاف جو مذہبی ضابطوں کے نام پر معیشت کو بھی یرغمال بنائے ھوئے ھے ۔ اب دکان دار ، اساتذہ ، نرسز اور سرکاری ملازمین صرف تنخواہوں یا قیمتوں کی بات نہیں کر رھے بلکہ ایک ایسے نظام سے نجات چاہتے ھیں جو ان کی نجی زندگی ، رائے اور شناخت تک پر حاوی ھے ۔
اظہارِ رائے کی آزادی اس بحران کا مرکزی نکتہ بن چکی ھے ۔ ایران میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ بول نہیں سکتے ، بلکہ یہ ھے کہ وہ سوچ بھی محتاط ھو کر کرتے ھیں ۔ صحافت ، سوشل میڈیا ، ادب ، فن اور علمی مکالمہ سب ریاستی نگرانی اور سنسرشپ کے شکنجے میں ھیں ۔ یہی گھٹن آہستہ آہستہ اجتماعی غصے میں تبدیل ھوئی اور یہی غصہ آج احتجاج ، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کی صورت میں سامنے آ رھا ھے ۔ یہ ایک ایسا احتجاج ھے جو اکثر خاموش ھے مگر اسی خاموشی میں سب سے زیادہ خطرناک ھے ۔
ریاست کا ردعمل اس فکری بحران کو مزید گہرا کر رھا ھے ۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی ، بسیج اور دیگر سیکیورٹی ادارے بدستور نظام کے محافظ ھیں مگر وہ ایک ایسے سماج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رھے ھیں جو ذہنی طور پر ریاستی بیانیے سے نکل چکا ھے ۔ طاقت وقتی طور پر جسم کو جھکا سکتی ھے ، ذہن کو نہیں ۔ یہی وہ بنیادی تضاد ھے جو ایران کے موجودہ بحران کو پچھلے تمام احتجاجوں سے مختلف بناتا ھے ۔
یہاں رجیم چینج کے امکانات کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلا امکان فوری عوامی انقلاب کا ھے مگر اس کی راہ میں قیادت کی عدم موجودگی ، اپوزیشن کی تقسیم اور سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی بڑی رکاوٹیں ھیں ۔ دوسرا امکان طویل اندرونی زوال کا ھے ، جس میں نظام برقرار رھتے ھوئے اپنی اخلاقی ، سماجی اور معاشی بنیادیں کھوتا چلا جائے ۔ تیسرا امکان کنٹرولڈ تبدیلی کا ھے ، جس میں ریاست کچھ سماجی نرمی ، محدود مذہبی آزادی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے وقت خریدنے کی کوشش کرے ۔ چوتھا امکان بیرونی دباؤ کے ذریعے بالواسطہ تبدیلی کا ھے ، اگرچہ براہِ راست امریکی حملے یا فوجی رجیم چینج کے امکانات کم ھیں کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ھو سکتے ھیں ۔
لیکن ایک پہلو سب سے زیادہ فیصلہ کن بنتا جا رھا ھے اور وہ ہے نئی نسل کی مذہبی اور نظریاتی لاتعلقی ۔ یہ نسل نہ انقلابِ 1979 کی وارث ھے نہ مذہبی تقدس کی محافظ ۔ اور نہ ہی ریاستی بیانیے کو ماننے والی ۔ ان کے لیے آزادی کا مطلب صرف سیاسی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی پر مسلط مذہبی و اخلاقی پابندیوں سے نجات کا مطلب لیتی ھے ۔ یہی وہ خاموش آتش فشاں ھے جو آج احتجاج میں ےے اور کل کسی بھی بڑی آتش فشانی کی بنیاد بن سکتی ھے ۔
ایران آج ایک سست مگر گہرے زلزلے کی کیفیت میں ے ۔ عمارت ابھی کھڑی ھے مگر بنیادیں ہل چکی ھیں ۔ یہ بحران شاید فوری طور پر کسی انجام تک نہ پہنچے مگر یہ بھی واضح ہے کہ موجودہ نظام اسی شدت ، اسی مذہبی سختی اور اسی سماجی جبر کے ساتھ زیادہ دیر تک قائم رہنا مشکل ھوتا جا رھا ھے ۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران بدلے گا یا نہیں ؟ بلکہ یہ ھے کہ یہ تبدیلی کتنی پُرامن ھوگی؟ کتنی مہنگی ثابت ھوگی؟ اور ریاست اسے قبول کرنے میں کتنی دیر لگائے گی ؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب سماج ذہنی طور پر آزاد ہو جائے تو طاقت اسے ہمیشہ کے لیے قید نہیں رکھ سکتی ۔
ایران اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رھا ھے وہ محض معاشی بدحالی یا وقتی احتجاج کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر اور تہہ دار بحران ھے جس میں ریاست، مذہب، سیاست، معیشت اور سماج سب ایک دوسرے سے ٹکرا رھے ھیں ۔ جنوری 2026 تک پہنچتے پہنچتے ایران ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں بظاہر نظام اپنی جگہ قائم ھے مگر اس کے اندرونی جملہ ستون شدید دباؤ ، تھکن اور عوامی لاتعلقی کا شکار ھو چکے ھیں ۔ یہ بحران سڑکوں پر نظر آنے والے مظاہروں سے کہیں زیادہ گہرا ھے ۔ یہ ایک فکری ، نفسیاتی اور تہذیبی تصادم ھے جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ پنپ رہا تھا اور اب مختلف شکلوں میں ظاہر ہو رہا ھے ۔
ایران ایک بار پھر عالمی توجہ کے مرکز میں ھے مگر اس بار وجہ کوئی اچانک انقلاب یا فوری نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل، گہرا اور خاموش بحران ھے جو بیک وقت سیاست ، معیشت، سماج اور ریاستی رِٹ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ھے ۔ جنوری 2026 تک ایران کی صورتحال کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک ٹوٹ نہیں رھا مگر وہ ایران بھی نہیں رھا جو 2010 یا حتیٰ کہ 2020 میں دکھائی دیتا تھا ۔ یہاں سب کچھ اپنی جگہ موجود ھے ۔ حکومت ، فوج ، پاسدارانِ انقلاب ، آئین ، پارلیمان ، عدلیہ مگر ان سب کی اخلاقی اور نفسیاتی بنیادیں شدید کمزور ھو چکی ھیں ۔
حالیہ برسوں میں ایران میں احتجاج کسی ایک واقعے یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رھے ۔ اب نعروں میں صرف حکومت یا کسی صدر کا نام نہیں ، بلکہ ریاستی علامتیں ، مذہبی نعرے اور انقلابی بیانیہ بھی براہِ راست نشانے پر آ چکا ھے ۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج دب جائیں گے مگر حقیقت یہ ھے کہ وہ صرف سطح سے غائب ہوں گے ۔ زمین کے اندر زندہ رھیں گے ۔ ایران میں اب احتجاج کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں رھا بلکہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت بن چکا ھے ۔ خاموش بغاوت ، سول نافرمانی ، نظام سے ذہنی لاتعلقی اور اجتماعی بے اعتمادی اس بحران کی اصل شکل ھیں ۔ ریاست مظاہرین کو منتشر کر لیتی ھے مگر عوام کو قائل کرنے میں مسلسل ناکام ھو رھی ھے ۔
اکثر لوگ 1979 کے انقلاب سے موازنہ کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک بار پھر وہی منظر دہرایا جا سکتا ھے ؟ اس سوال کا سادہ جواب نفی میں ھے ۔ 1979 میں ایرانی فوج نے فیصلہ کن مرحلے پر غیر جانبداری اختیار کر لی تھی ، علما اور عوام ایک پیج پر تھے اور ایک متفقہ قیادت موجود تھی۔ آج ان میں سے کوئی عنصر مکمل طور پر موجود نہیں ۔ فوج اور پاسدارانِ انقلاب اب بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ھیں ۔ اپوزیشن شدید منتشر ھے اور کوئی ایسا قومی لیڈر موجود نہیں جس پر مذہبی ، سیکولر ، قوم پرست اور نوجوان سب متفق ھو سکیں ۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ موجودہ نظام مکمل طور پر محفوظ ھے ۔ تاریخ ھمیں بتاتی ھے کہ ریاستیں اکثر اسی وقت گرتی ھیں جب وہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتی ھیں ۔ ایران میں سب سے بڑا خطرہ سڑکوں پر نہیں بلکہ معیشت میں چھپا ھوا ھے ۔ اگر افراطِ زر اسی رفتار سے بڑھتی رھی ، اگر کرنسی مزید گری ، اگر ریاست اپنے ملازمین ، سکیورٹی اداروں اور فوجی اہلکاروں کی مراعات برقرار نہ رکھ سکی ، تو وفاداریاں نظریے سے نکل کر روٹی کے سوال سے جڑ جائیں گی ۔
فی الحال ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی حکمتِ عملی یہ دکھائی دیتی ے کہ فقط وقت خریدا جائے ۔ چین اور روس کے ساتھ تعلقات ، محدود اقتصادی اصلاحات ، چہرے بدل کر بیانیہ نرم کرنے کی کوششیں اور سختی و نرمی کا ملا جلا استعمال ۔ یہ سب اسی حکمتِ عملی کا حصہ ھیں ۔ امکان یہ بھی ھو سکتا ھے کہ آنے والے چند برسوں میں ایران میں کوئی اچانک انقلاب نہیں آئے گا بلکہ ایک کنٹرولڈ تبدیلی کا عمل چلے گا ۔ نیا صدر ، نسبتاً معتدل زبان، مذہبی سختی میں تدریجی کمی، اور عالمی برادری سے محتاط رابطہ ، یہ سب اس عمل کی ممکنہ شکلیں ھیں ۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایران میں نئی نسل کا ریاست سے تعلق تقریباً ختم ہو چکا ھے ۔ یہ نسل انقلاب کے نعروں ، جنگِ ایران و عراق کے جذبات اور مذہبی تقدس سے ذہنی طور پر کٹ چکی ھے ۔ ان کے لیے ریاست ایک محافظ نہیں بلکہ ایک رکاوٹ بن چکی ھے ۔ یہی نسل اگر آنے والے برسوں میں معاشی طور پر مزید مایوس ھوئی تو احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتے ھیں اور ھر بار تو کھانے کو رس ملائی بھی نہیں ملتی ۔
ایک سست مگر گہرے زلزلے کی کیفیت میں ہے۔ عمارت ابھی کھڑی ھے مگر اس کی بنیادیں ہل چکی ھیں ۔ یہ بحران شاید 2026 میں اپنے انجام کو نہ پہنچے، مگر یہ بھی واضح ھے کہ موجودہ نظام اسی شکل میں 2030 تک چل جانا آسان ھرگز نہیں ھوگا ۔ کوئی نہ کوئی نیا سماجی یا سیاسی معاہدہ ناگزیر دکھائی دیتا ھے ۔
ایک ایسے موڑ پر جہاں ہر راستہ مشکل ھے مگر سب سے مشکل راستہ وہ ھے جس میں یہ مان لیا جائے کہ کچھ بدلنے کی ضرورت ھی نہیں ۔ تاریخ ایسے انکار کو کبھی معاف نہیں کرتی ۔
ایران اس وقت تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاست اور معاشرہ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کو آزما رھے ھیں ۔ بظاہر نظام قائم ھے ، ادارے کام کر رھے ھیں ، قوانین نافذ ھیں مگر اس ظاہری استحکام کے نیچے ایک گہرا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ یہ خلا معاشی نہیں ، صرف سیاسی بھی نہیں ، بلکہ فکری، سماجی اور اخلاقی نوعیت کا ہے اور یہی وہ مرحلہ ھوتا ھے جہاں ریاستیں اچانک نہیں بلکہ بتدریج کمزور ہو کر ایک دن خود کو بے وزن پاتی ھیں ۔
ایران میں حالات پر وقتی قابو پانا اب بھی ممکن ھے ۔ احتجاج دبائے جا سکتے ھیں، انٹرنیٹ بند ھے ، سڑکیں خالی کرائی جا سکتی ھیں ، خوف کی فضا قائم رکھی جا سکتی ھے مگر مسئلہ یہ ھے کہ خوف اب مرکزی عنصر نہیں رھا ۔ ایک پوری نسل ے جو مذہبی بیانئے سے جذباتی طور پر کٹ چکی ھے ، جس کے لیے ریاستی تقدس ایک رسمی لفظ بن چکا ھے اور جس کے نزدیک زندگی کے بنیادی فیصلوں پر ریاستی اجارہ داری ناقابلِ قبول ھو چکی ھے ۔ ایسے میں طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ھے ، اطاعت نہیں ۔
ایران میں میرے مشاھدات ھیں کہ یہ معاشرہ جامد ھرگز نہیں ھے ۔ یہاں خاموشی بھی معنی رکھتی ھے اور نعرہ بھی ۔ موجودہ بحران کی شدت اس لیے زیادہ ھے کہ یہ صرف معاشی پابندیوں یا بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی سماجی تضادات کا حاصل ھے ۔ مذہب جو کبھی عوامی قوت کا سرچشمہ تھا اب ریاستی طاقت کے آلے کے طور پر دیکھا جا رھا ھے ۔ یہی وہ نکتہ ھے جہاں نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے، خواہ اس کے پاس کتنی ہی فورس کیوں نہ ھو ۔
ریاستی اصلاحات کی بات اب محض ایک تجویز نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ھے ۔ ایرانی معاشرہ ساختی تبدیلی چاہتا ہے ۔ ایسی تبدیلی جو عورت کو ریاست کی ملکیت کے تصور سے نکالے ، رائے کو جرم نہ سمجھے ، مذہب کو زبردستی کے بجائے انتخاب بنائے اور قانون کو خوف نہیں بلکہ انصاف کا نشان بنائے۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ نظام کل گر جائے گا ، اصل خطرہ یہ ھے کہ نظام قائم رھتے ھوئے بھی غیر متعلق ہو چکا ھے ۔ تاریخ میں ایسی ریاستیں زیادہ دیر نہیں چلتیں ۔ سوویت یونین ہو یا مشرقی یورپ ، مثالیں یہ بتاتی ھیں کہ جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر ادارے صرف سنسان عمارتیں رہ جاتے ھیں ۔
ایران کے لیے ابھی بھی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ھوا مگر تیزی سے تنگ ضرور ھو رھا ھے ۔ اگر اصلاحات جلد ، سنجیدہ اور عوامی شرکت کے ساتھ نہ ھوئیں تو پھر تبدیلی آئے گی مگر وہ فریقین کے لئے خوفناک بھی ھو سکتی ھے ۔
نوشتۂ دیوار ہمیشہ واضح ھوتا ھے ، مسئلہ صرف یہ ھوتا ھے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے پڑھنے میں دیر کر دیتے ھیں ۔ ایران آج اسی تاخیر کی قیمت ادا کرنے کے دھانے پر کھڑا ھے ۔ بار بار یہ سوال کھڑا ھوتا ھے کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں ؟ مگر درحقیقت سوال یہ ھونا چاھیئے کہ کیا ریاست اسے خود تشکیل دے گی یا تاریخ زبردستی لکھے گی ؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں