ہمارے ہاں بعض الفاظ ایسے ہیں جو روزانہ اتنی بار دہرائے جاتے ہیں کہ آخرکار اپنی روح کھو بیٹھتے ہیں۔ “میرٹ” بھی انہی مظلوم لفظوں میں شامل ہے۔ یہ لفظ تقریروں میں بڑے اعتماد سے بولا جاتا ہے، بیانات میں پوری قوت سے دہرایا جاتا ہے، اور ناکامی کی صورت میں سب سے پہلے اسی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب عملی فیصلوں کا وقت آتا ہے تو یہی لفظ سب سے پہلے خاموش ہو جاتا ہے، جیسے اسے صرف بولنے کے لیے پیدا کیا گیا ہو، برتنے کے لیے نہیں۔
حالانکہ میرٹ کوئی جذباتی مطالبہ نہیں، نہ ہی کسی مخصوص طبقے کی خواہش۔ یہ دراصل ایک انتظامی اصول ہے، اور وہ بھی ایسا اصول جس پر ریاستی اداروں کی ساکھ، فیصلوں کی شفافیت اور عوام کے اعتماد کا دارومدار ہوتا ہے۔ جہاں میرٹ کمزور ہو جائے، وہاں ادارے مضبوط نظر تو آ سکتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔
ہم اکثر میرٹ کو نمبروں، ڈگریوں یا سروس کے برسوں تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ تصور اس سے کہیں وسیع ہے۔ میرٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قابل شخص ہر منصب کے لیے موزوں بھی ہو۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا منتخب ہونے والا فرد اس مخصوص ذمہ داری کے لیے فکری، اخلاقی اور عملی طور پر تیار ہے یا نہیں۔ یہی سوال اگر نظرانداز ہو جائے تو بہترین سی وی بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
ریاستی نظام میں خرابی وہاں سے جنم لیتی ہے جہاں میرٹ کو اخلاقیات کے کھاتے میں ڈال کر انتظامی ڈھانچے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً نیتوں پر طویل بحث ہوتی ہے، مگر طریقۂ کار پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ نیت اگر نظام کی جگہ لے لے تو ادارے نہیں چلتے، صرف دعوے چلتے ہیں۔
یہ بھی ایک دلچسپ مگر تلخ حقیقت ہے کہ بحران کے دنوں میں ہم اداروں سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، مگر معمول کے دنوں میں انہی اداروں کو اصولوں سے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ حالانکہ اداروں کا اصل امتحان ہنگامی حالات میں نہیں، بلکہ روزمرہ کے خاموش فیصلوں میں ہوتا ہے، وہ فیصلے جو اخبارات کی سرخی نہیں بنتے، مگر نظام کی سمت ضرور طے کرتے ہیں۔
میرٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ادارے کو فرد کا محتاج نہیں بننے دیتا، اور فرد کو ادارے سے بڑا بھی نہیں ہونے دیتا۔ جہاں فیصلے اصول کے تحت ہوں، وہاں شخصیات ثانوی ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، جہاں اصول کمزور ہوں، وہاں ہر تقرری ایک بحث اور ہر فیصلہ ایک تنازع بن جاتا ہے۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “سب کچھ قواعد کے مطابق ہو تو کام نہیں چلتا۔” یہ دراصل دلیل نہیں، اعتراف ہے، نظام کی ناکامی کا اعتراف۔ اگر قواعد غیر عملی ہو چکے ہوں تو حل انہیں توڑنا نہیں، بلکہ بہتر بنانا ہے۔ اصولوں سے انحراف وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہی سہولت نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔
پبلک سروس کی اصل روح یہی ہے کہ اسے اختیار یا مراعات کا راستہ نہیں، خدمت اور امانت کا میدان سمجھا جائے۔ جو فرد یہ فرق سمجھ لیتا ہے، وہ عہدے کو اپنی شخصیت کا توسیعی حصہ نہیں بناتا، بلکہ خود کو عہدے کے معیار پر پرکھتا ہے۔ یہی سوچ اداروں کو مضبوط اور فیصلوں کو معتبر بناتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ہم اکثر ایسے نظام پر اعتماد کا مطالبہ کرتے ہیں جسے ہم خود کمزور کرنے میں کسی حد تک شریک ہوتے ہیں۔ میرٹ کی بات سب کرتے ہیں، مگر اس پر سمجھوتہ بھی سب سے پہلے کرتے ہیں، بس فرق اتنا ہے کہ ہر شخص اسے کسی مجبوری کا نام دے دیتا ہے۔

آخر میں یہ بات سمجھنا ناگزیر ہے کہ میرٹ کسی ایک کمیشن، کسی ایک قانون یا کسی ایک تقرری کا نام نہیں۔ یہ ایک اجتماعی طرزِ فکر ہے، جو آہستہ آہستہ تشکیل پاتی ہے اور ذرا سی غفلت سے بکھر جاتی ہے۔ جب ادارے اصول پر قائم رہتے ہیں تو افراد کو سفارش کی ضرورت نہیں رہتی، اور جب اصول کمزور پڑ جائیں تو سب سے پہلے اعتماد ٹوٹتا ہے۔ ریاستیں نعروں سے نہیں، اصولوں سے چلتی ہیں، اور میرٹ انہی اصولوں کی پہلی اینٹ ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں