الف سے اقتدار،ب سے بے شرم۔۔۔سید عارف مصطفیٰ

گو اُداسی کے موسم میں مسکراہٹ بہت پھیکی سی پڑجاتی ہے ،لیکن ایسے میں کچھ نہ کچھ باتیں پھر بھی عجب سا مزہ دے جاتی ہیں، جیسا کہ ہوابازی کے وزیر غلام سرور خان کا یہ تازہ بیان ہے کہ ‘ بھارت اب بھی باز نہ آیا تو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پہ مکمل پابندی لگا دیں گے ۔۔۔ گویا اب بھی کچھ کسر ہے جو رہ گئی ہے یا ہماری حیثیت ہی ایک اپاہج کی سی ہوگئی ہے کہ جو تنگ کرنے والے کسی بچے کے لیے ایسی ہی دھمکیاں دیتا سنائی دیتا ہے ۔۔ لیکن پھر دونوں ہی اپنا کام برابر سے کیے جاتے ہیں ۔۔۔ ایسی صورتحال میں میری سوچ میں بھی بہت بدلاؤ سا آرہا ہے اور میں یہ سوچنے لگا ہوں کہ اب جبکہ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے تو کیوں نہ اب  فرسودہ دور کے لسانی قائدے کے ساتھ ساتھ ایک عملی قاعدے کو بھی متعارف کرادیا جائے کہ جس میں الف سے انار اور ب سے بکری کے بجائے الف اقتدار اور ب سے بے شرم  وغیرہ پڑھایا جائے ۔۔۔

اس نئے قاعدے میں کچھ مسائل تصویر کی مدد سے سمجھانے  بھی پڑسکتے ہیں ، اقتدار کا حرف اور لفظ سمجھانے کے لیے تو ایک اونچی سی منقش کرسی کی تصویر ہی عین مناسب ہے تاہم ب سے لفظ بے شرم  کی تفہیم کے معاملے میں بڑا مسئلہ پڑسکتا ہے کیونکہ اس بابت جانے مانے بےشرموں  کی تصاویر کا ایک بہت بڑا انباردھرا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ کس کی تصویر ہٹائیں اور کس کی لگائیں اور ابھی گزشتہ ماہ سے ا ب تک تو اس ڈھیر پہ ایسے ایسے اکابرین کے فریم یہاں آکے پڑے ہیں کہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے بس یہی اشارہ کیے دیتے ہیں، ان میں سے کوئی تصویر تبدیلی کے اس گروگھنٹال کی ہے کہ جو مودی کے جیتنے کے بعد ان سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشنگوئیاں کرتے نہ تھکتا تھا اور خارجہ امور کے اس بڑ بولے چیتے کی بھی ہے کہ جذباتی بیانات بھی بڑھ چڑھ کے دیتا ہے مگر جسے ابھی تک بھارت سے سفارتی تعلقات ختم کرتے بھی موت پڑتی ہے ۔۔۔ لیکن فی الوقت تو ہم یہاں اسی وزیر موصوف غلام سرور خان کی تصویر لگائے دیتے ہیں کہ ابھی تو سب سے زیادہ تازہ مزیدار اور ریڈی ریفرنس انہی موصوف کا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *