منشا یاد خاصا غیر ادبی نام ہے اور اس کا اندازہ خود منشاد یاد کو بھی تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ نام میں کیا دھرا ہے۔بالی وڈ کی خوبصورت ترین لڑکی کا نام بھی تو آخر منشیا کوئرالہ ہے۔ہمارا جاوید اختر سے تعارف اسی منشیا کوئرالہ کی وجہ سے ہے کہ ان کا لکھا گیت ایک لڑکی کو دیکھا اسی پر فلمایا گیا تھا۔بعد میں ہم نے اسے کینسر ہوتا دیکھا، اس کے بال گرتے دیکھے تو اس کا حسن ماند پڑ گیا ورنہ لگتا ایسا تھا شاید اس نے عمر بھر حسین ہی رہنا ہے اور احمد مشتاق کے سینے پر مونگ دلنی ہے۔یہ گیت جاوید اختر نے لکھا تھا۔جاوید اختر نے اور بھی بہت سارے گیت لکھے، شاعری کی اور نام کمایا مگر آج کل ان کی شہرت ایک ملحد کی ہے اور وہ خدا کے وجود سے انکاری ہیں۔جاوید اختر کا علم اور تعلیم سے تعلق لکڑدادوں اور لکڑ دادیوں کے زمانے سے ہے یعنی جب ہمارے لکڑ دادا یہاں بار اور جنگلوں کے واسی تھی اس وقت ان کا خاندان علومِ شرقیہ میں سند کی حیثیت رکھتا تھا۔جوانی میں ہم ان کے ماموں اور والد اور سسر کی شاعری پڑھا کرتے تھے۔جانثار اختر کے ایک غزل تو لوح ِدل پر لکھی ہوئی ہے
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ہے دالانوں پر/ اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر/ آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہو/ چلتے چلتے رک جاتا ہوں ساڑھی کی دوکانوں پر/ سستے داموں لے تو آتے لیکن دل تھا بھر آیا/ جانے کس کا نام کھدا تھا پیتل کے گلدانوں پر
/اور بھی سینہ کھلنے لگتا اور کمر بل کھا جاتی/ جب بھی اس کے پاؤں پھسلنے لگتے تھے ڈھلوانوں پر/ غربت جیسی غربت یارو غربت کا کیا حال کہیں/ جانے کتنے خون ہوئے ہیں کچھ پیسوں کچھ آنوں پر
آخری مندرجہ بالا شعر اسی نظریاتی تعلق کا گواہ ہے جس کی وجہ سے ان کے والد نے ان کی پیدائش پر کان میں اذان دینے کی بجائے ہمارا پسندیدہ جملہ کہا کہ دنیا کے کارکنو متحد ہو جاؤ تمہارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے سوائے اپنی زنجیروں کے۔
کارل مارکس نے یہ پرولتاریوں کو کہا تھا کہ
You have nothing to loose but your chains. انہوں نے اس دنیا میں آ کر یہی پہلی آواز سنی۔ان کے والد مضطر خیر آبادی بھی شاعر تھے اور تو اور حسن الہند لکڑ دادا فضل حق خیر آبادی نے جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ان کی بہادر شاہ ظفر سے دوستی تھی انہوں نے برطانوی راج کے خلاف فتوٰی بھی دیا جس پر صدر الدین آزردہ کے بھی دستخط تھے۔وہ غالب کے دوست تھے بلکہ شطرنج بھی اکٹھے کھیلتے تھے۔غالب کے دیوان کی تدوین بھی کی۔ آخر کار باغی ٹھہرائے گئے اور کالا پانی بھیج دیے گئے۔وہیں ان کا انتقال ہوا اور وہیں ان کی قبر ہے۔ان کی والدہ صفیہ اختر اسرار الحق مجاز کی بہن تھیں۔ان کے خطوط صفیہ اختر کے خطوط بنام جانثار اختر بہت مشہور ہیں اور اسی ایک خط میں لکھتی ہیں کہ جاوید کا کیا بتاؤں جب بھی پوچھیں تہمارے دادا کا کیا نام ہے تو سٹالن اور غالب کا نام لیتا ہے۔اب اس قسم کے پس منظر سے تعلق رکھنے والا عام قسم کا بندہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس کی شخصیت نے کوئی الگ راستہ ہی نکالنا تھا سو اب وہ ایک پکے ملحد ہیں۔
مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی ایک ممتاز علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو ہندوستانی اسلامی فکر و فنون سے گہرا وابستہ ہے۔ “ندوی” ان کے نام کا حصہ مشہور ادارہ دار العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ سے منسلک ہے جو ان کے خاندان کی علمی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے والد مولانا شمس الزماں ندوی ایک معروف اسلامی عالم ہیں جو مذہبی علوم میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی والدہ بھی علماء کرام کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جو اَعظم گڑھ (دیار ِشبلی) سے منسلک ایک علمی پس منظر والی خاتون ہیں۔ یہ خاندانی ماحول ہی مفتی شمائل کی ابتدائی تعلیم اور مذہبی رجحانات کی بنیاد بنا جہاں بچپن سے ہی قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم ملی۔وہ ایک پکے مسلم فکر کے حامل نوجوان ہیں۔
خدا لگتی کہیے جاوید اختر شمائل نقوی سے مکالمے میں وہ ملحد سے زیادہ متششک نظر آئے۔متششک ہر شے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور جو سوال انہوں نے اٹھائے وہ بھی نئے ہر گز نہیں تھے۔یہ مکالمہ وائرل تو بہت ہے مگر دونوں اصحاب نے کوئی نیا نکتہ بیان نہیں کیا۔
یہ بحث لا حاصل ہی رہی۔جو نکات ندوی نے پیش کیے وہی نکات جاوید اختر پیش کر سکتے ہیں۔جو جوابات یا سوالات جاوید اختر نے اٹھائے وہ ندوی بھی اٹھا سکتے ہیں۔وہی پرانے نکات وہی پرانی بحث یعنی پرنالہ جہاں تھا اب بھی وہیں ہے۔
اس عہد کا انسان اس انسانی فکر کا ابھی منتظر ہے جو اسے مطمئن کر سکے یعنی ان سوالات کا جواب دے سکے جو جاوید اختر نے اٹھائے اور مفتی کے دلائل سے فکر انسانی اوپر اٹھ سکے کہ یہی نکتہ اس سے پہلے مسلم مفکرین نے اٹھائے اور علما سے پہلے
فلسفہ یہی بات کر رہا تھا۔ مفتی نے “Argument of Contingency” جو کا استعمال کیا وہ ایک قدیم فلسفیانہ دلیل ہے جو بنیادی طور پر اسلامی فلسفہ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دلیل سب سے پہلے ابن سینا نے اپنے فلسفیانہ کاموں میں جیسے واضح طور پر پیش کی تھی۔ ابن سینا گیارہویں صدی کے فلاسفر تھے نے واجب الوجود یعنی ضروری وجود یعنی خدا اور ممکن الوجود یعنی امکانِ وجود یعنی مخلوقات جو اپنے وجود میں ممکن ہیں کے درمیان فرق قائم کیا۔ اور کہا کہ کائنات کی تمام contingent یعنی ممکن چیزیں ایک واجب الوجود کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
یہ دلیل ارسطو کی cosmological arguments سے متاثر تھی۔اس مکالمے کے حوالے سے جو اصل بات نوٹ کرنے والی ہے وہ جمہوری اور غیر جمہوری معاشرے کا فرق ہے۔کیا اپنے ہاں غیر سرکاری سطح پر یا کوئی چینل اس قسم کے مکالمے کروانے کا اہل ہے۔بدقسمتی اس کا جواب نفی میں ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں