صرف ہجوم زندہ ہے ۔۔احسن بودلہ

SHOPPING

کچھ عرصہ پہلے ڈان نیوز کے پروگرام “ذرا ہٹ کے ” میں معروف لکھاری اور ڈرامہ نویس نور الہدیٰ شاہ نے ہمارے سماج کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ ہم قوم نہیں بلکہ ایک ہجوم بن چکے ہیں۔ اور ہمیں ایسا بنا دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ ہجوم کبھی مذہب اور فرقوں کے نام پر وحشی ہوتا ہے اور کبھی طاقت کے زور پر عام لوگوں کا جینا حرام کرتا ہے۔

اس ہجوم کےبپھرنے کا عملی مظاہرہ ہمارے ہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ جس میں کبھی تو توہینِ مذہب کا الزام لگا کر کسی بے گناہ مشعال خان کی جان لی جاتی ہے ۔اور کبھی کسی مسیحی جوڑے کو جلتے ہوئے بھٹے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یا اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ کبھی ایک معصوم سے بچے کو چوری کے معمولی الزام لگا کر اس پر تشدد کر کے مار دیا جاتا ہے۔ کبھی سرعام معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قانون کے محافظوں کی طرف سے گولیاں مار دی جاتی ہیں اور کبھی عورتوں کو سب کے سامنے کاری کر دیا جاتا ہے یا غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک منظر تب دیکھنے کو ملا جب کالے کوٹوں میں ملبوس وکیلوں کی طرف سے لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا گیا۔ ایک ایسا ہسپتال جہاں پر دل کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور انہیں زندگی کی سانسیں ملتی ہیں۔ وہاں پر موت بانٹی گئی۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک تک اتارے گئے۔ڈاکٹرز اور دیگر میڈیکل سٹاف کے اس سنگین صورتحال میں وہاں سے بھاگ جانے پر ان کے لواحقین خود پی سی آر کرتے رہے۔انتہا درجے کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ وہاں پر موجود میڈیکل سٹاف اور کوریج کرنے والے صحافیوں کو زدوکوب کیا گیا۔ ہلہ بولنے سے پہلے ایک وڈیو میں سب وکلاء ایسے دھمکیاں دیتے ہوئے جارہے تھے کہ  جیسے کوئی محاذ فتح کرنے جارہے ہیں۔

اس یلغار کی وجہ کچھ عرصہ پہلے وہاں لائن توڑنے کے معاملے میں وکلاء اور پیرا میڈیکل سٹاف کی لڑائی کے بعد ڈاکٹرز کی طرف سے وکیلوں کے کے خلاف نکالی گئی ریلی اور اس کے بعد وہاں پر ایک تقریر کو بتایا گیا جس کی ویڈیو کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ معاملہ رفع دفع ہو جانے اور دونوں پارٹیز کے مابین صلح ہو جانے کے بعد وکلاء کے ایک گروپ کی طرف سے جان بوجھ کر الیکشن میں فائدہ حاصل کرنے کےلیے استعمال کیا گیا۔

اگر ایسا نہیں بھی ہوا اور یہ مان لیا جائے کہ ڈاکٹرز کی طرف سے پہلے غلطی ہوئی اور وکلاء کو اکسایا گیا تب بھی وکلاء کی طرف سے اس طرح قانون ہاتھ میں لیکر اس بدمعاشی کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جاسکتی ۔ کیونکہ وکلاء گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی وکلاء کی طرف سے پولیس والوں پر تشدد کیا گیا اور کبھی خاتون کے ساتھ بد سلوکی کی گئی۔ یہاں تک کہ کئی کیسز میں ججز کو بھی زدوکوب کیا گیا۔ مگر ان کی بدمعاشی تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اس ساری بدمعاشی کے بعد بھی الٹا وکلاء نے پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا اور عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ ان کی بار کونسل کے صدر نے تو یہ کہہ کر بے حسی کی حد کردی کہ ہسپتالوں میں روز مریض مرتے ہیں ، آج بھی مرگئے۔ پولیس کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اس ساری صورتِحال کے بعد آئی جی آفس سمیت کئی اہم مقامات کی سکیورٹی کےلیے رینجرز کو بلا لیا گیا ہے۔ اس سب کے بعد وزیراعظم سمیت تمام حکومتی اہلکاروں کی طرف سے اس واقعہ کی پُر زور مذمت کی گئی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا وعدہ کیا گیا۔ جیسے اس سے پہلے سانحہِ ساہیوال اور دیگر واقعات پر کاروائی کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ اور بعد میں کچھ بھی نہیں ہو سکا۔

اس طرح ابھی بھی بس ایف آئی آر کاٹی گئی ہے۔ گرفتاریاں ہوئی ہِیں۔ کچھ عرصہ تک الیکڑونک اور سوشل میڈیا پر اس کی باز گشت رہے گی۔ اور پھر کوئی ایسا نیا واقعہ یا سانحہ رونما ہو جائے گا۔ اور مجھ سمیت سب لوگ اس میں مگن ہو جائیں گے۔ کیونکہ جب انسانیت کی موت واقع ہو جائے اور سماج ہجوم میں تبدیل ہو جائیں تو وہاں پر ایسا ہی ہونا ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ہاں بس کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ ایسا ہو جائے ، جیسا کہ محترمہ نورالھدیٰ شاہ نے اپنی اس نظم میں کہا ہے:

SHOPPING

‏دل چاہتا ہے
غارِ اصحابِ کہف میں جا کر سو جاؤں
جب نیند سے اٹھوں
میرا زمانہ گزر چکا ہو
میرے سکے کھوٹے ہو چکے ہوں
میری بات کوئی نہ سمجھتا ہو
مجھےکوئی نہ جانتا ہو
رب سے پوچھوں
بتا کہاں جاؤں
رب کہے
تیرے زمانے اب نہیں رہے
انسان سبھی مر چکے ہیں
صرف ہجوم زندہ ہے
جنون زندہ ہے
تو لوٹ جا
غارِاصحاب کہف میں پھر سے سو جا۔

SHOPPING

احسن بودلہ
احسن بودلہ
میں نے پنجاب یونیورسٹی لاہو ر سے ابلاغیات میں ایم اے کیا ہواہے۔ ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔اس کے ساتھ بلاگ اور کالم لکھتا ہوں۔ میرے کافی بلاگز آن لائن پلیٹ فارم " ہم سب " ، " نیا دور " اور " متبادل " میں شائع ہو چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *