سماجی ٹیبوز اور ادبی آزادی/قاسم یعقوب

سماجی ٹیبوز (Taboos) اُن موضوعات، رویّوں یا کاموں کو کہتے ہیں جن پر کسی معاشرے میں بات کرنا، انھیں انجام دینا، یا ان کا کھلے عام اظہار کرنا ناپسندیدہ، ممنوع یا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہ پابندیاں عموماً روایات، مذہبی عقائد، ثقافتی اقدار اور سماجی اخلاقیات سے جنم لیتی ہیں۔ ایک سماج میں یہ ممنوعات صدیوں سے رائج ہوتی ہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہی ممنوعات ادب میں ممنوعات نہیں سمجھی جاتیں۔ ادب کی اخلاقیات بالکل الگ ہوتی ہیں۔ ادب میں جرم بھی ہمیشہ جرم نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات ایک اچھا یا ناگزیر فعل بن جاتا ہے۔ اسی لیے سماجی قوانین، ادب کے قوانین کے تابع نہیں ہوتے اور ادب کو سماجی قوانین کے تابع رکھ کر نہیں پڑھا جا سکتا۔
ادب کے قوانین سماج کے قوانین سے مختلف کیوں ہیں؟ کیا ادب سماج سے الگ کوئی Identity رکھتا ہے؟ اصل میں سماج کے قوانین سماجی حد بندیوں میں مقید ہوتے ہیں، جب کہ ادب فطرت کے قوانین کے تابع ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ دونوں ایک دوسرے کو کہیں زیر کرتے ہیں اور کہیں کہیں ایک دوسرے کوOverlapبھی کرتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ ادب یک سر سماجی قوانین کے الٹ ہو۔ ادب فطرت کے راستے سماجی قوانین میں گنجائش پیدا کرتا ہے اور مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔ فطری قوانین اٹل ہوتے ہیںمگر سماجی قوانین میں ہمیشہ تبدیلی آتی رہتی ہے۔
آپ دیکھئے کہ راشد کی نظم ’’حسن کوزہ گر‘‘، جس میں Extra marital relation کو نظم کا مرکزی خیال بنایا گیا ہے۔ پہلے تو اس پر توجہ کیجیے کہ کسی نقاد نے آج تک اس پہلو کی طرف توجہ نہیں دی۔ پھر یہ سوچیے کہ ادب میں کس طرح سماجی قوانین کے یک سر اُلٹ کیفیات کو بھی عین فطری اور ناگزیر بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے بلکہ ان سے ہمدردی اور ازلی مسرت بھی سمیٹی جا سکتی ہے۔ حسن کوزہ گر نہ صرف اس تعلق کو اپنی بیوی پر عیاں کرتا ہے بلکہ اس کی بیوی اس محبت کی طوالت کے ہاتھوں اپنے شوہر کی بربادی کو بھی محفوظ رکھنا چاہتی ہے:
حسن کوزہ گر، ہوش میں آ
حسن، اپنے ویران گھر پر نظر کر
یہ بچوں کے تنور کیوں کر بھریں گے
حسن، اے محبت کے مارے
محبت امیروں کی بازی
حسن، اپنے در و دیوار پر نظر کر
یعنی اگر تو امیر ہوتا، بچوں کے تنور بھر سکتا تو بے شک یہ سب کرتا رہتا مگر اس کیفیت میں تیری محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ سب کچھ ہمیں فطری لگتا ہے، اس لیے کہ ادب فطرت کے قوانین کے تابع ہوتا ہے، سماجی قوانین کے نہیں۔ ادب میں ٹیبوز کا ایک پورا پلندہ ہے۔اگر اسے کھول کھول کر دیکھا جائے تو ہمیں سماجی قوانین کے مطابق شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply