• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جدید تعلیم پر ڈی ہیومنائزیشن کا الزام : آرٹ اور ایمان کے خاتمے کا دعویٰ /وحید مراد

جدید تعلیم پر ڈی ہیومنائزیشن کا الزام : آرٹ اور ایمان کے خاتمے کا دعویٰ /وحید مراد

بعض مقامی اہل فکر کا دعویٰ ہے کہ ” تعلیم عامہ کی پیدا کردہ عقل مکمل طور مفاد اور تکاثر کے تابع ہوتی ہے۔ اس کےنزدیک انسانی داخلیت بھی ایک ایسا طبعی resource ہے جسے quantify کیا جا سکتا ہے ، تدریس کے ذریعے سیاسی طاقت اور سرمائے کے لیے مفید مطلب بنایا جا سکتا ہے۔ خیال ایمان کا محاط ہے، اور روحانی منطقہ معنوی اور کشفی تجلی کا محل ہے۔ جدید تعلیمی اور ٹیکنالوجیائی وسائل کی آندھی سے خیال (imagination) مکمل طور پر اٹ جاتا ہے اور ایمانیات کا محل بننے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ جدید تعلیم کی لائی ہوئی خیال کی dehumanization سے جلد یا بدیر آرٹ اور مذہب کا ویسے ہی خاتمہ ہو جاتا ہے۔”
اس متن کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس میں انسٹرومنٹلائزیشن (Instrumentalization) اور ڈی ہیومنائزیشن (Dehumanization) کو ایک ہی مفہوم میں پیش کر دیا گیا حالانکہ ہر انسٹرومنٹلائزیشن لازماً ڈی ہیومنائزیشن نہیں ہوتی۔انسٹرومنٹلائزیشن سے مراد یہ ہے کہ کسی انسان، صلاحیت، خیال یا رشتے کو اس کی اپنی داخلی معنویت، اخلاقی قدر یا ذاتی مقصدیت کے بجائے محض کسی بیرونی مقصد کے حصول کا ذریعہ سمجھا اور استعمال کیا جائے۔ اس میں انسان یا خیال کی قدر اس بات سے طے کی جاتی ہے کہ وہ کسی نظام یا ادارے کے لیے کتنا مفید ہے، نہ کہ اس بات سے کہ وہ بذاتِ خود کیا ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم میں طالب علم کو صرف گریڈ یا کارکردگی کے پیمانوں تک محدود کر دینا انسٹرومنٹلائزیشن ہے، کیونکہ اس عمل میں تعلیم کو داخلی تسکین کے بجائے خارجی مقصد کی خدمت بنا دیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس ڈی ہیومنائزیشن (Dehumanization) ایک زیادہ شدید اور وجودی عمل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی انسان کو اس کی بنیادی انسانی خصوصیات جیسے ارادہ، شعور، اخلاقی ذمہ داری، داخلی آزادی، وقار اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت (ایجنسی) سے محروم سمجھا جائے اور اسے محض ایک بے جان، قابلِ استعمال یا قابلِ ضیاع شے (object) کے طور پر دیکھا جائے۔ انسٹرومنٹلائزیشن میں انسان، انسان ہی رہتا ہے لیکن اسے مقصد کے تابع کر دیا جاتا ہے جبکہ ڈی ہیومنائزیشن میں انسان کی انسانیت ہی مشکوک یا منسوخ تصور کی جاتی ہے۔
یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ جدید تعلیم میں خیال کو اکثر انسٹرو مینٹل (instrumental)بنا دیا جاتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ خیال ڈی ہیومنائزڈ(dehumanized)ہوگیا ہے، ایک غیر ضروری تعمیم ہے۔ مذکورہ متن میں خیال کو ایک جامد، ماقبلِ تاریخی اور واحد حقیقت فرض کر لیا گیا ہے، حالانکہ خیال ہمیشہ اپنے سیاق کے ساتھ بدلتا رہا ہے اور اس کی انسانیت کی تعبیر ہر دور میں مختلف رہی ہے۔ افلاطون سے کانٹ اور جدید فلسفے تک، خیال کی انسانی معنویت کی صورتیں متنوع رہی ہیں۔ اس لیے جدید تعلیم کو خیال کی ڈی ہیومنائزیشن قرار دینا دراصل ایک مخصوص تاریخی معیار کو آفاقی معیار بنا دینے کے مترادف ہے۔
مذکورہ متن میں یہ بھی نظرانداز کر دیا گیاکہ طب، اخلاقی فلسفہ، قانون، ادب اور سماجی علوم میں خیال آج بھی انسانی دکھ، اخلاقی سوالات اور قدر و معنی کے مباحث کو زبان دیتا ہے۔ اس لیے مسئلہ خیال کی ڈی ہیومنائزیشن کانہیں بلکہ اس کی مختلف صورتوں کے درمیان تنازع اور کشمکش ہے۔ اخلاقی تشویش کو براہِ راست ایک وجودی (ontological) فیصلے میں بدل دینا فکری لحاظ سے کمزور طرزِ استدلال ہے۔
جب ہم انسان کو طالب علم، استاد، ڈاکٹر، مزدور، شہری یا صارف کہتے ہیں تو یہ اس کی انسانیت کی نفی نہیں بلکہ سماجی اور ادارہ جاتی تجزیے کی زبان ہوتی ہے۔ یہ زبان انسان کی مکمل وجودی یا روحانی حقیقت پر کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کرتی بلکہ محض اس کے ایک مخصوص کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر کردار کی بنیاد پر گفتگو ہی ڈی ہیو منائزیشن ہوتی تو قانون، طب، نفسیات، فقہ اور حتیٰ کہ تصوف میں رائج اصطلاحات (مرید، سالک، شیخ وغیرہ)بھی انسان کو ڈی ہیومنائزڈ کر دیتیں، جو واضح طور پر درست نہیں۔
اسی طرح انسان کو بعض سیاق میں “ریسورس یا ہیومن کیپیٹل” کہنا ایک تجزیاتی وضاحت ہے، نہ کہ انسان کی باطنی، اخلاقی یا روحانی قدر کا انکار۔ ریاستیں اور ادارے منصوبہ بندی کے لیے انسان کو وسائل کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن یہ نظر انسان کو محض آلہ یا شے قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتی بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہوتی ہے کہ انسان قدر (value) رکھتا ہے۔ ریسورس کہنا ایک functional description ہے، metaphysical judgment نہیں۔ اگر ہر مقصدی یا تجزیاتی بیان انسان کو ڈی ہیومنائزڈ کردیتا ہو تو پھر “اخلاقی نمونہ، روحانی رہنما یا قابلِ تقلید انسان”جیسے تصورات بھی اسی زمرے میں شامل ہوجائیں گے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ کہنا بھی ایک فکری مبالغہ ہے کہ اخلاق، تزکیۂ نفس اور روحانی خودی صرف روایتی یا مذہبی تعلیمی نظام ہی پیدا کر سکتے ہیں اور جدید تعلیم لازماً ان کی دشمن ہے۔ اخلاق ہمیشہ وعظ یا باطنی ریاضت سے ہی وجودپذیر نہیں ہوتا بلکہ عملی فیصلوں، سماجی ذمہ داری، انصاف، ہمدردی، مکالمے اور خود احتسابی سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ جدید تعلیم میں اخلاقی فلسفہ، اطلاقی اخلاقیات، بایو ایتھکس، سماجی انصاف اور اخلاقی نفسیات جیسے شعبے اسی اخلاقی تشکیل کی مختلف صورتیں ہیں۔ آج کے دور میں اخلاق ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے اظہار کی کثرت اور تنوع ہے، جسے بعض لوگ اخلاق کازوال سمجھ لیتے ہیں۔
انسان بیک وقت کئی سطحوں پر وجود رکھتا ہے: وہ حیاتیاتی بھی ہے، سماجی بھی، اخلاقی بھی اور روحانی بھی۔ کسی ایک سطح پر اس کی شناخت کرنا باقی سطحوں کی نفی نہیں بن جاتا۔ طالب علم کہنا اس بات کا اعتراف ہے کہ انسان سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مزدور کہنا اس کی فعالیت(agency)کی نفی نہیں بلکہ معاشی عمل میں اس کے کردار کی نشاندہی ہے اور شہری کہنا اسے ریاستی نظم میں شریک کرتا ہے، غلام نہیں بناتا۔ اصل مسئلہ اصطلاحات نہیں بلکہ انہیں مطلق حقیقت سمجھ لینا ہے ۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جدید علوم میں تجزیہ ہمیشہ تجرید (abstraction) کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب انسان کو ڈیٹا، شماریات یا ادراکی سطح کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو اس کا مقصد پورے وجود کو مقید کرنا نہیں بلکہ کسی خاص سوال کے لیے کسی ایک پہلو کو الگ کرنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کو “case”کہتا ہے تو وہ انسانیت سے انکار نہیں کرتا بلکہ علاج کے لیے ضروری فہم پیدا کرتا ہے۔ یہی منطق تعلیم، نفسیات اور سماجیات میں بھی کارفرما ہے۔تعلیم میں طالب علم کو ادراکی(cognitive) مراحل میں دیکھنا اس کی روحانیت یا اخلاق کا انکار نہیں بلکہ تدریسی فہم کی ایک سطح ہے۔
ڈی ہیومنائزیشن وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں انسان کو اصولی طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے، اس کی آواز کو غیر معتبر سمجھا جائے اور اسے محض disposable object بنا دیا جائے۔ تاہم جدید تعلیمی روایت میں طالبِ علم کی خود اختیاری (learner autonomy)،آزادی اظہار و رائے (student voice)، تنقیدی سوچ (critical thinking) اور اخلاقی خود ارادیت (ethical agency) جیسے تصورات دراصل اسی ممکنہ خطرے کے خلاف ایک شعوری ردِعمل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اگر جدید تعلیم واقعی انسان کو محض ایک مشینی وجود میں تبدیل کر دیتی تو یہ تصورات نہ اسی نظام کے اندر جنم لیتے اور نہ ہی نشوونما پا سکتے تھے۔
اسی طرح تعلیمی فریم ورکس پر یہ الزام بھی درست نہیں کہ وہ روحانی یا اخلاقی جہات کو خارج کر دیتے ہیں۔ کوئی تدریسی فریم ورک یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ انسان کی مکمل معنوی یا روحانی توضیح پیش کر رہا ہے۔ ان کا کام سیکھنے کے ادراکی پہلوؤں کو سمجھنا ہے، نہ کہ ایمان یا تزکیۂ نفس کی پیمائش۔ امتحان ایک evaluative tool ہے، انسان کی وجودی حقیقت کا پیمانہ نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں امتحان کو عزت، شناخت اور زندگی کا واحد معیار بنا دیا جائےاور یہ خرابی تعلیم سے نہیں بلکہ کسی تصور کو مطلق بنا دینے سے جنم لیتی ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جدید تعلیم کے نتیجے میں عقل صرف مفاد کی خادم بن چکی ہے اور روایت، ایمان یا آرٹ ختم ہو گئے ہیں۔ جدید دنیا میں عقل کی مختلف صورتیں موجود ہیں: آلہ جاتی(instrumental reason)، تنقیدی(critical reason) ، اخلاقی(ethical reasoning) اور جمالیاتی (aesthetic judgment)۔ اگر عقل واقعی صرف مفاد کی تابع ہوتی تو جدید فلسفہ، ادب، آرٹ، انسانی حقوق کی تحریکیں اور خود سرمایہ داری پر شدید تنقید جدید تعلیمی روایت سے پیدا نہ ہوتیں۔
آرٹ، ایمان اور روایت ختم نہیں ہوئے، بلکہ نئی زبانوں، نئی صورتوں اور نئے تناظرات میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ روایت جامد نہیں ہوتی؛ وہ بدلتی ہے اور اسی تنوع میں زندہ رہتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم انسان کو کس نام سے پکارتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اسے فیصلہ کرنے والا، جواب دہ اور اخلاقی وجود تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ جدید تعلیم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود اس امکان کو ختم نہیں کرتی بلکہ اکثر صورتوں میں اسی امکان کو پیدا کرتی ہے۔
ڈی ہیومنائزیشن تعلیم کا لازمی یا فطری نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس مخصوص فیصلہ جاتی ڈھانچے کا اثر ہے جو اداروں پر حاوی ہو کر انسانی وقار، اخلاقی قدروں اور معنوی جہات کے بجائے نظم، کارکردگی اور منافع کو معیارِ فیصلہ بنا لیتا ہے۔ اس انتظامی و بازاری فریم ورک (bureaucratic & capitalist logic) میں انسان کو بتدریج ایک قابلِ شمار، قابلِ نظم اور قابلِ منافع اکائی میں reduce کرنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ جدید تعلیم نہ اس طرزِ فیصلہ سازی کی علت ہے اور نہ اس کی خالق؛ وہ اس ڈھانچے سے اسی طرح متاثر ہوتی ہے جیسے کوئی فرد یا ادارہ جابر سماجی نظام میں رہتے ہوئے اس کے دباؤ کو محسوس کرتا ہے۔ اس کے باوجود جدید تعلیم اسی فریم ورک کے اندر تنقیدی شعور، اخلاقی سوال، انسانی خودمختاری اور وقار کے تصورات کو جنم دیتی ہے اور اس کے توڑ کی فکری صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔
ڈی ہیومنائزیشن، کسی عمل کا کوئی لازمی انجام یا ہمہ گیر حقیقت نہیں بلکہ ایک مشروط اور جزوی نظامی امکان ہے جو مخصوص تاریخی، سیاسی اور ادارہ جاتی حالات میں بالفعل ظہور پذیر ہو سکتا ہےجیسا کہ تاریخ میں غلامی، نوآبادیاتی نظام، نازی کیمپوں، جبری مشقت، بعض جیل سسٹمز اور سخت ادارہ جاتی ڈھانچوں میں دیکھا گیا۔اس لیے ڈی ہیومنائزیشن کو قابل پیمائش دعویٰ(empirical claim) کے بجائے ممکنہ خطرے کی کیفیت (threshold condition) کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ یہ کیفیت ہر نظام میں ممکن ہے لیکن ہر جگہ لازمی طور پر واقع نہیں ہوتی اور جہاں واقع بھی ہوتی ہے وہاں بھی مکمل نہیں بلکہ تدریجی اور مختلف درجات میں ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ اس تصور کا اطلاق احتیاط، سیاق کی آگاہی اور علمی امتیاز کے ساتھ کرنا ضروری ہے؛ بصورتِ دیگر یہ تصور وضاحت کے بجائے غیر ضروری ابہام، فکری الجھن اور بے جا مایوسی کا سبب بن سکتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply