یہ پوسٹ میں نے ایک بھارتی دوست کی وال پر دیکھی، جس نے بہت تنقیدی انداز میں پاکستان کی لمز کو بھارت کی ایلیٹ یونیورسٹیوں، جیسے اشوکا اور شِو نادر، کے برابر رکھ کر ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ادارے بظاہر علم، ثقافت اور مکالمے کے علمبردار نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت یہاں وہی ثقافت اور وہی بیانیہ قابلِ قبول ہوتا ہے جو ایلیٹ کے کنٹرول میں رہے اور اس کی طاقت کو چیلنج نہ کرے۔ اس تبصرے میں اشوکا یونیورسٹی کے اس پروفیسر کا حوالہ بھی دیا گیا جسے محض اس لیے خاموش کرا دیا گیا کہ اس نے ایک فوجی آپریشن (سندور ) پر تبصرہ کرتے ہوئے ریاست کی اندرونی منافقت کی طرف اشارہ کر دیا تھا، یعنی سرحد پار کارروائیوں پر جشن منایا جا رہا تھا مگر ملک کے اندر ہونے والے ظلم، لنچنگ اور ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایلیٹ یونیورسٹی کا پروفیسر بھی ریاستی سرخ لکیر عبور کرنے پر گرفتاری اور زبان بندی کا سامنا کرتا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ایلیٹ یونیورسٹیاں اور ان کے زیرِ سایہ چلنے والی ثقافتی مہمات مزاحمت کو ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتیں۔ ثقافت، زبان اور تاریخ کو تب تک قبول کیا جاتا ہے جب تک وہ خوبصورت، غیر سیاسی اور بے ضرر رہیں۔ جیسے ہی وہ موجودہ طاقت کے ڈھانچے سے سوال کرنے لگیں، انہیں یا تو خاموش کرا دیا جاتا ہے یا ایک ایسے فریم میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں ان کی کاٹ ختم ہو جائے۔
بھارت میں ہندو-اردو تنازع اور پاکستان میں اردو کی دانستہ کمزوری اور مقامی زبانوں سے جھگڑا ، دونوں ایک ہی اسٹرکچر کا حصہ ہیں۔ اردو کو نہ مکمل طور پر تعلیم، عدالت اور پارلیمان کی زبان بنایا گیا اور نہ ہی اسے تنقیدی شعور کی زبان رہنے دیا گیا۔ اسے کبھی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ کر محدود کیا گیا، کبھی انگریزی کے مقابلے میں ثانوی بنا کر۔ حالانکہ اردو/ہندی اسی خطے کی مشترکہ، مقامی اور عوامی زبان ہے جو مختلف طبقوں، مذاہب اور علاقوں کو جوڑتی رہی ہے۔ مگر کارپوریٹ دفاتر، یونیورسٹیاں اور طاقت کے مراکز آج بھی انگریزی کے زیرِ اثر ہیں، کیونکہ طاقت ہمیشہ اپنی زبان محفوظ رکھتی ہے۔
پنجابی سمیت دیگر مقامی زبانوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ انہیں زندہ کرنے کے بجائے یا تو لوک فیسٹیولز، موسیقی اور لباس تک محدود کر دیا گیا ہے، یا پھر مکمل نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ زبان کو شعور، سیاست اور طاقت سے جوڑنے کے بجائے ایک رومانوی شے بنا دیا گیا ہے۔ گویا زندہ زبانوں کو زندہ لوگوں کے ہاتھ سے نکال کر نمائش کی چیز بنا دیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج مردہ یا قدیم زبانوں کا رومان زیادہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ سوال نہیں کرتیں، وہ احتجاج نہیں کرتیں، وہ موجودہ ناانصافیوں پر آواز نہیں اٹھاتیں۔ اس کے برعکس زندہ زبانیں زندہ لوگوں کے مسائل، دکھ اور سوالات کو سامنے لاتی ہیں، اس لیے انہیں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایلیٹ کے لیے یہ زیادہ محفوظ ہے کہ ماضی کی زبانوں کو اخلاقی اور تہذیبی منصوبہ بنا کر پیش کیا جائے، بجائے اس کے کہ حال کی زبانوں کو طاقت کے نظام سے جوڑ دیا جائے۔
اسی طرح پنجابی یا اردو کے نام پر ہونے والے ثقافتی احیاء کو دیکھتے ہوئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ زبانیں واقعی فکری، تعلیمی اور سیاسی سطح پر زندہ کی جا رہی ہیں یا صرف فیسٹیول، موسیقی اور لباس تک محدود کر دی گئی ہیں۔ پنجابی کو رقص اور لوک رنگوں تک سمیٹ دیا گیا ہے اور اردو کو رسمی، غیر سیاسی اور بے ضرر بنا دیا گیا ہے۔ نہ پنجابی کو تعلیم، عدالت اور پالیسی کی زبان بنایا جا رہا ہے اور نہ اردو کو تنقیدی شعور کی زبان رہنے دیا جا رہا ہے۔
دراصل جو کلچر ریاست خود لانچ کرے، وہ مزاحمت نہیں ہوتا ۔۔۔ وہ کنٹرول کی ایک نیی اسٹریٹجی ہوتا ہے۔ اگر پنجاب کلچر واقعی revive ہو رہا ہوتا تو پنجابی زبان تعلیم، پالیسی اور طاقت کے مراکز میں ہوتی، محض فیسٹیولز میں نہیں۔ سوال طاقت کو پسند نہیں۔
نوآبادیاتی تسلسل بھی قابلِ ذکر ہے۔ برطانوی دور میں بھی پنجابی کو “martial / folk” کہا گیا، اور intellectual زبان نہیں مانا گیا۔ آج پنجابی کو بھی ماضی کی ایک رومانٹک زبان بنا دیا گیا ہے، یا ٹرینڈ ۔۔ مگر ماڈرن اور زندہ زبان کے طور پر تعلیم، عدالت اور ریاست میں جگہ نہیں دی جا رہی۔ کارپوریٹ, تعلیم ، ریاستی سطح پر وہ ایک ممنوع زبان ہے ۔ یہ واضح طور پر colonial pattern ہے یعنی محفوظ پنجابی ۔۔۔۔ رقص، میلوں، ٹرک آرٹ اور aesthetic nostalgia تک محدود ،خطرناک پنجابی ۔۔۔۔ وارث شاہ بطور مزاحمت، بلھے شاہ کا سوال، وہ کلچرل pluralism اور لچکدار شناختیں ، بڑے اتحاد ، پنجابی میں طبقاتی سیاست اور پنجاب کے colonial exploitation ۔۔۔۔ سب کو دبا دیا جاتا ہے۔
پنجابی کو فن بنایا جا رہا ہے، فہم نہیں۔
سرپرستی کرنے والے سیاسی حلقوں کے حوالے سے بھی یہی نکتہ صادق آتا ہے۔ وہ کسان سیاست، پنجاب کی نوآبادیاتی لوٹ، 1947 کے زخم، نیو کولونیلازم ، کارپورٹایزیشن، یا پنجابی زبان کی تعلیمی محرومی پر بات نہیں کر رہے ، اور نہ ہی نوجوان یا پنجاب کے مختلف حلقوں سے لوگوں کی آواز کو شامل کر رہے ہیں ۔۔ اسکی بھنگڑا، لباس، فوک گلو اور سیاحتی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ ریاست ہمیشہ کلچر کو depoliticize کرتی ہے: موسیقی رکھو، تاریخ نکال دو۔
اصل کلچرل ری وائیول نیچے سے آتی ہے ۔۔۔ لوک شاعر، آرٹسٹ ، طلبہ ، کسان اور مزاحمتی آوازیں۔ جو ری وائیول سرکاری تقریبات، وزراء کی سرپرستی، میڈیا کوریج اور اسٹیٹ فنڈنگ سے آئے، وہ ری وائیول نہیں بلکہ rebranding ہوتی ہے۔ آج پنجاب کلچر کو سرکاری تقریبات، کلچر فیسٹیولزاور ٹی وی شو میں پیش کیا جا رہا ہے، مگر پنجاب کی سیاسی تاریخ اور طبقاتی مسلہ غائب ہے۔
سنسکرت بھی اسی logic کے تحت “محفوظ” ماضی کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔۔۔یعنی ایلیٹ کی زبان، اسٹیٹ نیریٹو کے لیے بے ضرر، عوام سے کٹی ہوئی۔ پنجابی اور اردو کے برعکس، تنقیدی تاریخ، سیاسی زبان اور زندہ مزاحمتی روایتوں کو سزا دی جاتی ہے، قبولیت نہیں ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ایلیٹ ادارے مردہ زبانوں سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ سوال نہیں کرتیں، جبکہ زندہ زبانیں آج بھی انصاف مانگتی ہیں۔سوال کرتی ہیں ، طاقت کے ڈھانچے اور مرکز کو چللنج کرتی ہیں ۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس نوع کی قوم پرستی دراصل نیولبرل سیاست کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد معاشرے کو جوڑے رکھنا نہیں بلکہ اسے مستقل طور پر منتشر رکھنا ہوتا ہے۔ شناخت کو چھوٹے چھوٹے خانوں میں بانٹ کر، ثقافت اور زبان کو جذباتی نعروں اور علامتی نمائشی سرگرمیوں تک محدود کر دیا جاتا ہے، تاکہ اصل معاشی، طبقاتی اور سماجی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ اس قسم کی قوم پرستی اتحاد، محبت اور مشترکہ جدوجہد کے بجائے خوف، بدگمانی اور نفرت کو جنم دیتی ہے، کیونکہ ایک زندہ، لچکدار اور موجودہ مسائل سے جڑی ہوئی قوم پرستی بڑے اتحاد پیدا کر سکتی ہے، طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھا سکتی ہے اور مختلف شناختوں کو جوڑ سکتی ہے۔ یہی وہ امکان ہے جس سے نیولبرل نظام سب سے زیادہ خائف رہتا ہے، اس لیے وہ ایسی قوم پرستی کو فروغ دیتا ہے جو جوڑنے کے بجائے توڑنے، سمجھنے کے بجائے مشتعل کرنے اور شعور کے بجائے تاثر پیدا کرنے کا کام کرے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں