غائب ۔
غائب ایک شخص نہیں تھا۔ وہ ایک کیفیت تھی—نہایت ہلکے خاکستری رنگ کی ایک غیر متحرک شکل جو ہمیشہ دیوار اور زمین کے سنگم پر بیٹھی رہتی۔ وہ کسی شے کو نہیں دیکھتا تھا، وہ صرف محسوس کرتا تھا کہ کوئی شے موجود ہے۔ اس کا ماضی، اگر تھا بھی، تو وہ ایک بوسیدہ تالے کی طرح تھا جس کی چابی وہ جان بوجھ کر کہیں کھو چکا تھا۔
اس دن، غائب نے اپنے ہاتھ کی پشت کو غور سے دیکھا۔ اسے وہاں لکیریں نظر نہیں آئیں۔ اسے نظر آئی ایک سادہ، سفید سطح جس پر وہ تمام الفاظ درج تھے جو اُس نے کبھی نہیں کہے تھے۔وہ سب خالی ہیں۔اس نے سوچا۔ اس کی سوچ کی کوئی آواز نہیں تھی۔ وہ تو بس ہوا میں معلق تھی اور اپنے وزن سے دب کر رہ جاتی تھی۔
کتاب ۔کتاب کسی میز پر نہیں رکھی تھی۔ وہ کمرے کے بیچ میں ہوا میں لٹکتی رہتی تھی۔ اس کے اوراق نہ تو سفید تھے اور نہ سیاہ، بلکہ مسلسل مڑ رہے تھے اور پھر سلجھ رہے تھے، جیسے وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہوں کہ ان پر کیا لکھا جانا چاہیے۔ یہ دنیا کی تاریخ تھی، یا شاید صرف آنے والے لمحے کی؟کتاب کا کوئی مصنف نہیں تھا۔ وہ خود اپنی تخلیق تھی۔
غائب نے اپنی جگہ سے سر اٹھایا اورکتاب کی طرف دیکھا۔
کیا تم حقیقت ہو؟غائب کی سوچ نے بغیر آواز کے پوچھا۔
کتاب کا ایک ورق فوراً سلجھا اور اس پر ایک لکیر ابھری۔میں وہ ہوں جو تم پڑھنا چاہتے ہو۔غائب کی آنکھوں میں، جو اب تک دھندلی تھیں، ایک ہلکی سی چمک آئی۔ یہ چمک سوال کی تھی۔اور اگر میں کچھ نہ پڑھنا چاہوںتو ؟۔کتاب کا ورق دوبارہ مڑا، پھر سلجھا، اور لکھا گیا۔پھر میں بے معنٰی ہوں۔ اور بے معنٰی ہونا، کیا یہ خود ایک معنٰی نہیں؟۔غائب خاموش ہو گیا۔ یہ ایک دائمی لوپ تھا۔ اگر وہ کتاب کو پڑھتا تو وہ حقیقت بن جاتی۔ اگر وہ نہ پڑھتا تو اس کا بے معنٰی ہوناغائب کی زندگی کا معنٰی بن جاتا۔
اچانک کمرے کے کونے سے، جو پہلے خالی تھا، ایک گونج نمودار ہوئی۔ یہ ایک ہندسہ نہیں تھا، نہ ہی کوئی شکل۔ یہ محض ایک تعدد (Frequency) تھی، ایک لرزش جو اشیاء کو ان کی جگہ پر رکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔گونج نے غائب اور کتاب کے درمیان اپنا مقام بنایا۔غائب نے لرزش محسوس کی، اور اس کے ہاتھ کی پشت پر موجود نہ کہے گئے الفاظ ہلنے لگے۔گونج کی آواز تیز ہوئی۔تم دونوں جھوٹ ہو۔کتاب نے فوراً جواب دیا۔میں ایک کھلی جھوٹ ہوں جسے سمجھنے کے لیے سوچ کی ضرورت ہے۔غائب نے اپنے اندر محسوس کیا کہ لرزش اس کی خاکستری شکل کو توڑ رہی ہے۔ وہ ٹوٹنے لگا تھا—باقاعدہ، ٹھوس ٹکڑوں میں۔
غائب کی سوچ نے پہلی بار ایک خوفناک آواز میں اظہار کیا۔ہم کیوں ہیں؟۔گونج نے جواب دیا، اور یہ جواب کسی فرد کے لیے نہیں تھا، یہ دیواروں، چھت، اور ہوا کے لیے تھا۔تم اس لیے ہو، کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ کوئی ماضی ہے۔کتاب تم اس لیے ہو، کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ کوئی مستقبل ہے۔ اور میں گونج اس لیے ہوں تاکہ تم دونوں کے بیچ کی خاموشی کو بیان کر سکوں۔ ہم تینوں دراصل ایک ہی اب (Now) کے تین مختلف تاثرات ہیں۔
غائب کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر زمین پر گرا۔ ٹکڑے پر ایک ننھا سا نقش تھا۔ ایک چابی۔غائب نے اس چابی کو دیکھا۔ وہ چابی جس سے اس کا ماضی بند تھا۔کتاب کے تمام اوراق ایک ساتھ سُلجھ گئے، اور ان پر صرف ایک لفظ لکھا تھا۔انتخاب۔غائب نے لرزش کو محسوس کرتے ہوئے اس چابی کو اٹھایا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کس تالے میں لگانا ہے، کیونکہ تالا تو کب کا غائب ہو چکا تھا۔گونج نے آہستہ آہستہ شدت کم کر دی، اور کمرہ پھر سے وہی بے رنگ کونا بن گیا۔ لیکن اب غائب کے ہاتھ میں وہ چابی تھی۔کتاب خالی اور سُلجھی ہوئی تھی، اورگونج نے اپنا کام کر دیا تھا۔
وہ اب بھی دیوار اور زمین کے سنگم پر تھا، مگر اب اسے معلوم تھا کہ اس کے ہاتھ میں ماضی کا ایک ٹکڑا ہے جو مستقبل کو لکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ اورغائب نے خاموشی سے چابی کو اپنی جیب میں رکھ لیا۔
یہ جانتے ہوئے کہ بعض اوقات سب سے بڑا عمل یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کوئی عمل نہیں کیا جائے گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں