وہ نسل جس نے اینالاگ ورلڈ سے چل کر سمبیئن کی منزل کو چھوا۔۔
ٹیلی گراف،تار خط،لینڈ لائن (کریڈل والے فون) سے سادہ موبائل، انٹر نیٹ پھر اسمارٹ ٹیکنالوجی سے لے کر مصنوعی ذہانت کے عہد میں قدم رکھا۔۔
ہم نے چاند ستاروں کو مسخر کیا۔ہم لوگ ہیں جو پتنگ اڑاتے اُڑاتے گاڑیاں اڑانے تک پہنچے۔۔ہم وہ لوگ ہیں جو گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے کرکٹ،ہاکی فٹبال اور اور پب جی سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔۔
ہم ہیں جنہوں نے انسانی غلامی کو مشینی خدمت میں بدل دیا،مصنوعی ذہانت سے مزین روبوٹس ملینئیرز نے ہی تیار کئیے۔۔
ہم ملینیلز نے
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تخلیق، ضابطہ بندی اور عالمی ربط، انسانی حقوق، صنفی شعور، ذہنی صحت اور آزادیِ اظہار کو ڈیجیٹل بیانیہ دیا۔
گلوبل کمیونٹیز، فری لانس کلچر اور ریموٹ ورک کو فروغ دیا، احتجاج کو شور کے بجائے ڈیجیٹل تاثر میں بدلا۔
سائنسی (Scientific) ترقی میں
اینالاگ سے ڈیجیٹل، پھر AI، بگ ڈیٹا، کوانٹم کمپیوٹنگ تک سفر طے کیا. خلائی تحقیق میں (SpaceX طرز ماڈل) سائنسی تحقیق کو اوپن سورس اور آن لائن بنایا روبوٹکس اور آٹومیشن کی بنیادیں مستحکم کیں.
میڈیکل (Medical) ترقی
ٹیلی میڈیسن، آن لائن تشخیص، ای-ہیلتھ ریکارڈز ، جینیٹک ریسرچ، بایو ٹیکنالوجی،ویکسین ڈیویلپمنٹ میں تیزی AI-based تشخیص(ریڈیالوجی،پیتھالوجی)
ذہنی صحت کو بیماری نہیں، موضوعِ گفتگو بنایا..
زرعی (Agricultural) ترقی
اسمارٹ ایگریکلچر۔
ڈرونز، سینسرز، ڈیٹا بیسڈ آبپاشی
ہائبرڈ بیج، موسمی پیش گوئی، فصلوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ،کسان کو منڈی سے براہِ راست ڈیجیٹل رسائی دی۔فوڈ سیکیورٹی کو عالمی مسئلہ بنا کر اجاگر کیا.
تجارتی (Economic / Business) ترقی
اسٹارٹ اپ کلچر، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کرپٹو، فِن ٹیک، آن لائن بینکنگ فری لانس اکانومی، ،ڈیجیٹل ارننگ،
صارف کو بادشاہ اور ڈیٹا کو کرنسی بنایا۔
سفارتی (Diplomatic) ترقی
ڈیجیٹل ڈپلومیسی، سافٹ پاور اور آن لائن بیانیہ ، ریاستوں کے درمیان سائبر معاہدے اور ڈیجیٹل قوانین عالمی تنازعات میں میڈیا وار اور انفارمیشن اسٹریٹجی سرحدوں سے آزاد اثر و رسوخ (Influence) کا تصور پیش کیا۔۔
ٹیکنالوجیکل جوہر
انسان کو مشین کا غلام بنانے کے بجائے مشین کو انسان کا خادم بنایا، مصنوعی ذہانت کو خطرہ نہیں بلکہ اوزار سمجھا ۔۔
“ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے “کم فہم بومرز کی رہنمائی میں آنے والی ’’باشعور ترین‘‘جین زی کے لیئے وہ پلیٹ فارم تراشے جن پر وہ آج دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے جمپ کر سکتے ہیں۔
ہم نےجین زی اور جنریشن الفا کو مستقبل شور و غوغا سے نہیں تدبر تحمل اور حکمت سے ڈیزائن کر کے دیا ہے اب اسکا استعمال وہ کس طریقے سے کرتے ہیں اسمیں ہم ملینلز سے مشورہ و رہنمائی لینا جین زی کا اخلاقی فرض ہے ۔۔۔
ہاں !!
ہم بھی کبھی “جین زی” ہی تھے فرق صرف میڈیم نے ڈال دیا۔۔۔۔ہمارے پاس میڈیم نہیں تھے تو ہم نے خود میڈیم بنا لیا بعد ازاں یہ میڈیم جین زی کے ہاتھوں میں ہمی نےدیا اور اس کے اصول ضوابط و قواعد طے کرنا بھی ہمارا حق ہونا چاہیئے یا نہیں؟؟
ہم پابندی کے حق میں نہیں ہم ٹیکنالوجی
کے آذاد استعمال کو فوقیت دیتے دیتے ہیں
مگر
ہم ملینیلز کا فلسفہ آذادیِ استعمال پلس اخلاقیات ہے۔
ایک ادنیٰ
ملینیل
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں