• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • طلباءِ مدارسِ دینیہ اورفکرِ معاشِ روزینہ و زنانِ شبینہ “ ۔۔۔۔شاد مردانوی/قسط نمبر ۲

طلباءِ مدارسِ دینیہ اورفکرِ معاشِ روزینہ و زنانِ شبینہ “ ۔۔۔۔شاد مردانوی/قسط نمبر ۲

ان الدین عنداللہ الاسلام ۔

دین تو ایک ہے لیکن اس امت کے ساتھ خدا کا معاملہ پچھلی امتوں سے یکسر مختلف ہے اس امت کیلیے اگر فضائل زیادہ ہیں تو اسی تناسب سے اس امت کیلیے مسائل بھی زیادہ ہیں ، خدا اور غیبی امور پر ایمان لانا اور ایمان رکھنا بھی مشکل تر ہے ۔

غور کیجیے تو پچھلی تمام قوموں میں انکار خدا کبھی مسئلہ رہا ہی نہیں وہاں مسئلہ خدائے واحد اور کئی خداؤں کا تھا اس امت میں انکار خدا پر ایک مستقل مکتب فکر کی بنیادیں موجود ہیں ۔ وجہ کیا ہے ؟

وجہ یہی ہے کہ پچھلی قوموں کیلیے خدا کا انکار کافی مشکل تھا اور اس کی وجہ خدا کا وقتا فوقتا انبیاء اور ان کے متبعین کے معاملات میں تکوینی نظام کو لپیٹ کر براہِ راست مداخلت تھی ۔ خدا نے بارہا اپنی خدائی کا کرشمہ دکھاکر بنی آدم کو اپنے یکسر انکار سے روکے رکھا ۔

پس کبھی تو خدا نیل کی لہروں کو دو تودوں میں بدل کر اپنے بندوں کو پار کرادیتا ہے اور اپنے سرکش بندوں کو ڈبودیتا ہے ۔

کبھی پہاڑ سے اونٹنی نکال کر اپنا جلوہ دکھاتا ہے

کبھی ایک بندے کو سو سال سلاکر بیدار کرتا ہے اور اس کے جانور کو محض نیند بھر کے فاصلے میں گوشت پوست سے ہڈی و پنجر کرکے غذا کو لم یتسنہ کردیتا ہے ۔

کبھی نو کو تین سو نو سالوں کی نیند دیتا ہے

کبھی عیسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ اور نابیناؤں کو بینا تو کبھی ابراہیم کے ہاتھوں پرندوں کے قیمے میں جان ڈالتا ہے ۔۔۔

یہ خدا کا دنیاوی نظام کو بائے پاس کرتے ہوئے اپنی خدائی کا براہ راست اظہار تھا اور اس اظہار کے تسلسل میں انسانی شعور کیلیے خدا کا یکسر انکار تقریبا ناممکن تھا ہاں خدا ایک ہے یا زیادہ ہیں یہ سوال موجود تھا اور اس کے مختلف جواب ہی مختلف ملل کو جنم دے گئے ۔۔۔

دین محمدی لیکن ایک مستحکم اور باوقار دین اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات امام الانبیاء کے منصب پر فائز دنیا کی سب سے پروقار ہستی ہے اسی لیے میرے سرکار کی شریعت اور حیات طیبہ میں ایسے لمحاتی بلکہ گستاخی معاف فوری جذباتی معجزے نہیں ملتے یہاں کرامتیں نہیں عمل مسلسل کو اہمیت حاصل ہے ۔
یہاں میرے سرکار اپنے عمل سے سمجھاگئے کہ آپ بھلے نبی ہوں آپ کیلیے من و سلوی نہیں اترنے والا ۔ وہ امتیں گزر گئیں جو فقط عبادت کرکے من و سلوی سے مستفید ہوا کرتی تھیں اس امت کو نماز کے بدلے رزق کا وعدہ نہیں دیا گیا بلکہ اس امت کو تلقین کی گئی کہ گھر کا سامان نیلام کرکے کلہاڑی خریدی جائے اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچی جائیں ۔

مدارس کے طلباء و فضلاء جو اس وہم میں ہیں کہ ہم دین کی خدمت کریں گے اور اخلاص کی دولت کے ہوتے ہوئے رزق کے محتاج نہیں ہوں گے صریح غلط فہمی میں مبتلا ہیں ایسا نہیں ہوتا واللہ نہیں ہوتا بارہ ہزار میں گھر نہیں چلتا اور مقتدی حضرات آپ کو قرض بھی نہیں دیں گے ان کو علم ہے کہ مولانا قرض لوٹانے کی سکت نہیں رکھتے ایک اور غلط فہمی کہ جی مدرسے کی تنخواہ میں اللہ برکت ڈال دیتا ہے او بھائی آپ کو یہ پٹی استادوں نے اسی لیے پڑھائی ہے کہ ان کے مدارس کو آپ جیسے مخلص بیوقوف وافر مقدار میں میسر ہوں اور وہ من مانے طریقوں سے آپ کا استحصال کرسکیں یہ کیسی برکت ہے کہ جنابِ مہتمم ملکی اور غیر ملکی دوروں سے واپسی پر جدید ترین گاڑیوں میں سفر کرتے ہوں اور آپ کی اوقات سائیکل خریدنے کی بھی نہیں ۔
یہ برکت صرف مہتممین حضرات ہی کے حصے میں کیوں آتی ہے کہ مہتمم کے دسترخوان پر کم از کم تین کھانے جب کہ آپ کے دسترخوان پر محض مطعم میں پکنے والی دال کا شوربہ ہوتا ہے ۔۔۔

جنابِ من بات صرف اتنی ہے کہ مہتمم یا اس کے والد نے محنت کرکے مذہبی فرنچایز ۔۔۔۔۔جس کا معروف نام مدرسہ ہے ۔۔۔۔۔ کو ایک خالی پلاٹ سے ایک عظیم الشان عمارت کی شکل دی ہے اس نے محنت کی ہے اور اب اپنی محنت کا پھل کھارہا ہے ۔۔۔
آپ بھی محنت کیجیے عمل کیجیے مفت کی روٹیاں نماز پڑھانے کے نام پر کھانا بند کیجیے کچھ عمل کیجیے اور خوب کمائیے ۔۔۔
مدعا بس اتنا سا ہے کہ دین نہ بیچیں

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *