سر سید احمد خان نے انگریز سے نجات کے لیے انگریزی تعلیم شروع کی لیکن نتیجہ بابو کلچر اور ایک مستقل غلام قوم کی صورت میں نکلا. یہ سچ ہے کہ تاریخ اور وقت ثابت کرتا ہے کہ کون کہاں کھڑا تھا. کسی کی نیک نیتی اور اخلاص کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن بطور انسان کوئی بھی کامل نہیں اور یہی حقیقت ہے ترقی یافتہ قومیں اپنے ماضی سے سیکھ کر مستقبل کا تعین کرتی ہیں.
سر سید احمد خان اور باچا خان کے تعلیمی و فکری تصورات کا تقابلی جائزہ اگر آج کے تناظر میں لیا جائے تو اس کے نتائج نہایت گہرے اور بعض پہلوؤں سے تلخ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ سر سید احمد خان نے جس دور میں انگریزی زبان اور انگریز سے مفاہمت پر زور دیا، وہ ایک خاص تاریخی مجبوری کا نتیجہ تھا۔ 1857 کے بعد مسلمان مکمل طور پر اقتدار، نوکریوں اور ریاستی ڈھانچے سے باہر ہو چکے تھے، اور انگریزی زبان وہ واحد دروازہ تھی جس کے ذریعے طاقت کے مراکز تک رسائی ممکن تھی۔ سر سید کے نزدیک انگریزی سیکھنا غلامی کی علامت نہیں بلکہ ایک ہتھیار تھا، جس کے ذریعے مسلمان خود کو دوبارہ زندہ کر سکتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے انگریز سے ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کو وقتی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا۔
لیکن اس پالیسی کا ایک ایسا غیر ارادی نتیجہ نکلا جسے آج ہم “بابو کلچر” کے نام سے جانتے ہیں۔ انگریزی تعلیم نے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو زبان کے ذریعے اقتدار، نوکری اور سماجی برتری تک تو پہنچ گیا، مگر عوام سے فکری اور جذباتی طور پر کٹ گیا۔ اس طبقے نے آہستہ آہستہ انگریزی سے ناواقف عوام کو “جاہل” اور خود کو “باشعور” سمجھنا شروع کر دیا۔ زبان علم کا ذریعہ ہونے کے بجائے طاقت اور تحقیر کا ہتھیار بن گئی۔ نتیجتاً علم عوام تک منتقل ہونے کے بجائے چند طبقاتی دیواروں کے پیچھے قید ہو گیا، اور وہی تعلیم جسے سر سید شعور کی کنجی سمجھتے تھے، طبقاتی تقسیم کی بنیاد بن گئی۔
اس کے برعکس باچا خان کا تعلیمی اور فکری ماڈل بالکل مختلف تھا۔ وہ مادری زبان میں تعلیم کو محض سہولت نہیں بلکہ شعور کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک جب تک انسان اپنی زبان میں نہیں سوچے گا، وہ نہ اپنی تاریخ کو سمجھے گا، نہ اپنی غلامی کو پہچانے گا، اور نہ ہی مزاحمت کے قابل ہو گا۔ اسی لیے انہوں نے پشتون معاشرے میں تعلیم کو مادری زبان کے ذریعے عام کیا اور اسے براہِ راست سیاسی و سماجی شعور سے جوڑا۔ باچا خان کے نزدیک مسئلے کا حل انگریز سے مفاہمت نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور تشدد سے پاک مزاحمت تھی، جس میں عوام خود اپنی طاقت کو پہچانیں۔
باچا خان کی مزاحمت بندوق یا تشدد پر مبنی نہیں تھی بلکہ کردار، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور پر قائم تھی۔ خدائی خدمتگار تحریک اسی سوچ کی عملی شکل تھی، جہاں عام، غیر انگریزی پڑھے لکھے پشتون بھی سیاسی شعور، قربانی اور نظم کی اعلیٰ مثال بن گئے۔ یہاں زبان اقتدار کی نہیں بلکہ بیداری کی علامت تھی۔ باچا خان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جب شعور عوام کی زبان میں آئے گا تو غلامی خود بخود غیر اخلاقی اور ناقابلِ قبول محسوس ہونے لگے گی۔
علی گڑھ کے اداروں میں باقاعدہ نصاب، امتحانی نظام، ڈگریاں اور ایک مخصوص تعلیمی اشرافیہ کی تشکیل ہوئی۔ یہاں تعلیم کا مقصد ایک مہذب، باخبر اور جدید ریاستی ملازم پیدا کرنا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی ادارے ایک خاص طبقے تک محدود ہوتے چلے گئے۔ انگریزی زبان، مہنگی تعلیم اور شہری ماحول نے علی گڑھ کے فارغ التحصیل افراد کو عوام سے فکری طور پر الگ کر دیا۔ یہیں سے وہ طبقہ وجود میں آیا جسے بعد میں “بابو کلچر” کہا گیا . ایک ایسا طبقہ جو زبان اور ڈگری کی بنیاد پر خود کو برتر اور عام آدمی کو کمتر سمجھنے لگا۔ سر سید کا مقصد عوام سے کٹاؤ نہیں تھا، مگر اداروں کی ساخت نے رفتہ رفتہ یہ فاصلہ پیدا کر دیا۔
اس کے مقابلے میں باچا خان کے تعلیمی ادارے عمارتوں، ڈگریوں یا رسمی نصاب سے زیادہ روح اور مقصد پر قائم تھے۔ انہوں نے جو آزاد اسکول قائم کیے وہ مادری زبان میں تھے، سادہ تھے اور عوام کے درمیان تھے۔ ان اداروں میں تعلیم صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ صفائی، خدمتِ خلق، نظم و ضبط، عدم تشدد اور اجتماعی ذمہ داری سکھائی جاتی تھی۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ فاصلہ نہیں تھا جو جدید اداروں میں نظر آتا ہے؛ یہاں تعلیم ایک رشتہ تھی، نہ کہ ایک سروس۔
باچا خان کے تعلیمی اداروں میں کوئی “ایلیٹ” پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ نہ وہاں انگریزی لہجے کی نمائش تھی، نہ ڈگری کی برتری۔ مقصد ایک ایسا انسان تیار کرنا تھا جو اپنی زبان میں سوچ سکے، اپنی قوم کے دکھ کو سمجھ سکے اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی اخلاقی ہمت رکھتا ہو۔ خدائی خدمتگار تحریک کے کارکن انہی اداروں کی پیداوار تھے، جن میں اکثریت انگریزی نہیں جانتی تھی، مگر شعور، قربانی اور نظم میں کسی سے کم نہیں تھی۔
یوں سر سید کے ادارے ریاست کے اندر جگہ بنانے کے لیے تھے، جبکہ باچا خان کے ادارے ریاست اور سامراج کے سامنے ضمیر جگانے کے لیے۔ ایک طرف کلاس روم، ڈگری اور فائل کی دنیا تھی؛ دوسری طرف گاؤں، مدرسہ نما اسکول اور عملی تربیت کا ماحول۔ ایک نظام فرد کو اوپر لے جانے پر زور دیتا تھا، دوسرا پورے معاشرے کو اٹھانے کی کوشش کرتا تھا۔
آج اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سر سید کا ماڈل ایک مضبوط مگر محدود طبقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوا، جبکہ باچا خان کا ماڈل وسیع مگر دبا دیا گیا۔ انگریزی زبان نے واقعی مواقع فراہم کیے، مگر اس کے ساتھ ایک ایسا اشرافیہ طبقہ بھی پیدا ہوا جو نہ عوام کی زبان بولتا ہے، نہ ان کے دکھ کو سمجھتا ہے، اور نہ خود کو ان سے جوڑتا ہے۔ یہی “بابو کلچر” آج بھی ریاست، بیوروکریسی اور پالیسی سازی پر حاوی ہے، جہاں عوام کے فیصلے عوام کی زبان میں نہیں بلکہ فائلوں اور اصطلاحات کی انگریزی میں ہوتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ سر سید اور باچا خان دونوں کے تصورات اپنے اپنے وقت میں مخلص اور ضروری تھے، مگر آج کے بحران میں باچا خان کا زور مادری زبان، عوامی شعور اور تشدد سے پاک فکری مزاحمت زیادہ زمینی اور دیرپا حل دکھائی دیتا ہے۔ اصل مسئلہ زبان نہیں، زبان کے ساتھ جڑا ہوا وہ تکبر ہے جس نے علم کو خدمت کے بجائے برتری کا نشان بنا دیا۔ اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں تاریخ ہمیں سر سید کے نتائج اور باچا خان کے انتباہ، دونوں پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں